حکومتِ سندھ نے رائیڈ-ہیلنگ کمپنیوں پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے وضاحت کردی


حکومتِ سندھ نے وضاحت کی ہے کہ رائیڈ-ہیلنگ کمپنیوں پر لاگو کیے جانے والے ٹیکس کی شرح بجٹ ‏2019-20ء‎ میں تجویز کردہ 13 فیصد کے بجائے 5 فیصد ہوگی۔ 

دونوں صورتوں میں ملک میں کام کرنے والی سب سے بڑی رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں اوبر اور کریم دونوں کے کرایوں میں اضافہ متوقع ہے۔ رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں نے مقامی مارکیٹ میں بہت تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے جس کی وجہ عوام کو ایک جگہ سے دوسرے جگہ جانے کے لیے بہت مناسب نرخ دینا ہے۔ البتہ اوبر اور کریم پر مقامی رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں  نے سخت تنقید کی تھی کیونکہ اس سے ان کے کاروبار کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ انہوں نے مختلف مظاہرے بھی کیے اور دھرنے بھی دیے، جس کے بعد حکومتِ سندھ نے مالی بجٹ ‏2019-20ء‎ میں 13 فیصد ٹیکسیشن کی تجویز دی۔ البتہ سندھ ریونیو بورڈ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ 5 فیصد ٹیکس شرح ان کمپنیوں پر لاگو کی جائے گی۔ خیبر پختونخوا حکومت بھی ان سروسز پر ٹیکس لگانے کی تجویز دے چکی ہے لیکن وہ صرف 2 فیصد ہے جسے رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں نے بہت سراہا ہے کہ حکومت ٹیکنالوجی کے اس دور میں آن لائن مارکیٹ کے وجود کی اہمیت کو سمجھتی ہے۔ کریم کے ترجمان کے مطابق رائیڈ ہیلنگ کمپنیاں ملک میں ہزاروں ملازمتیں تخلیق کرنے کا سبب بنی ہیں۔ یہ دیکھنا حوصلہ افزاء ہے کہ حکومت اس پورے عمل کو قانونی دائرے میں لا رہی ہے، وہ بھی موجودہ نظام کے آگے بڑھنے میں کوئی رکاوٹ ڈالے بغیر۔ کمپنی کی نظریں ایمبولنس سروسز متعارف کروانے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر بھی لگی ہوئی ہیں۔ 

رائیڈ ہیلنگ سروسز اورڈرائیوروں پر 5 فیصد سروس ٹیکس لگنے کا علم ہونے پر اس اضافی لاگت کا بوجھ بالآخر صارفین پر پڑے گا۔ یہ رائیڈ ہیلنگ کمپنیاں صوبہ سندھ میں زیادہ تر کراچی کے شہریوں سے فائدہ کماتی ہے کہ جنہیں وہ پہلے کی ٹرانسپورٹیشن سروسز کے مقابلے میں لگژری گاڑیاں دیتی ہے۔ کم آمدنی والے مسافر کرایوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اس کے علاوہ 5 فیصد اضافی سیلز ٹیکس بھی ہوگا کہ جو ڈرائیوروں کی آمدنی میں سے کاٹا جائے گا کہ جنہیں کیپٹن کہتے ہیں، اس سے مزید خرابی پیدا ہو رہی ہے۔ رائیڈ ہیلنگ سروسز پہلے ہی کیپٹن کی کل آمدنی میں سے تقریباً 30 فیصد کمیشن لے لیتی ہے۔ بالآخر کیپٹنز کو بونس کےلیے کمپنیز کی جانب سے دیے گئے اہداف حاصل کرنے کے لیے محنت کرنے کے بجائے کسی اور کام کی جانب منتقل ہونا پڑے گا۔ اس وقت لوگوں کی بڑی تعداد اس کاروبار سے منسلک ہےکہ جس کا آغاز پرکشش آفرز کے ساتھ ہوا تھا۔ 

سندھ ریونیو بورڈ نے مزید واضح کیا کہ رائیڈ ہیلنگ کمپنیاں اور ان کے ڈرائیورز کو موجودہ حالات کے تناظر میں 5 فیصد کی کم شرح پر ادائیگی کرنا ہوگی جو اب بھی تمام آن لائن سروسز فراہمکرنے والوں کے لیے مناسب ہے۔ ٹیکس کی کم شرح سوشل میڈیا کے زبردست دباؤ کی وجہ سے سامنے آئی کہ جہاں لوگوں نے ابتدائی تجویز پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ 

رائیڈ ہیلنگ سروسز کی ریگولرائزیشن کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ ہمیں نیچے تبصروں میں ضرور بتائیں اور مزید خبروں کے لیے یہاں آتے رہیں۔


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top