پاکستان کی سلیپر بائیکس – سادگی کے ساتھ کارکردگی فراہم کرتی ہیں

com

سستے  پارٹس اور گنجی بائیکس، ایسے خیالات ہی کسی بھی انسان کے زہن میں آسکتے ہیں جب وہ مقامی سطح پر موڈیفائی کردہ بائیک کے بارے میں سوچے گا۔ چاہے وہ ہونڈا 125 ہو یا پھر سی ڈی 70، تمام باڈی پارٹس کو الگ کردینا یہاں کی روایت ہے۔ تاہم اگر آپ بائیک موڈیفکیشن انڈسٹری کی گہرائی میں جائیں تو آخر کار آپ کو کچھ ہیرے ملیں گے۔ پاک وہیلز نے پہلے بھی مقامی سطح پر ویسپا کو بحال کرنے والی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ اب ہم آپ کے لیے ایک اور ان تراشا ہیرا لے کر حاضر ہوئے ہیں جو کہ سلیپر موڈیفکیشن سے تعلق رکھتا ہے۔ ’سلیپر‘ کی اصطلاح ان وہیکلز کے لیے استعمال ہوتی ہے جن کے ڈرائیو ٹرین اور انجن میں بڑی تبدیلی کی گئی ہو مگر وہ دیکھنے میں بالکل سٹاک وہیکل لگیں۔ اس کے نتیجے میں شاندار کارکردگی ملتی ہے اور دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔ اب ہم موضوع کی طرف واپس آتے ہیں، ہم نے کچھ ایسے باہمت لوگوں کو تلاش کیا جنہوں نے مقامی مارکیٹ میں یہ آئیڈیا متعارف کروانے کا چیلینج قبول کیا جس کے لیے 30 سے 40 ہزار کی معمولی رقم چاہیے ہوتی ہے جس کا انحصار بائیک اور اس کے موڈیفکیشن لیول پر ہوتا ہے۔ ابھی آپ بہت سے سوالوں کے بارے میں سوچ رہے ہوں گے جن میں سے کچھ نیچے دیئے گئے ہیں۔

  • ان لوگوں نے اب تک کتنے پروجیکٹ مکمل کیے ہیں؟
  • اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

شاید آپ کے زہن میں کچھ اور سوالات بھی ہوں مگر میرا یقین کریں کہ میں اس خاص مضمون پر ایک اور پوسٹ بھی لکھوں گا تا کہ اس مضمون کی خاص تفصیلات باہر نکالی جاسکیں۔ تاہم ابھی کے لیے میں اپنے پاس اس مضمون پر موجود تمام تفصیلات بتانے لگا ہوں۔ آئیے پورٹ فولیو سے بات کا آغاز کرتے ہیں۔

جب میں وقار احمد کے پاس پہنچا مجھے صرف ایک بائیک کا علم تھا کہ انہوں نے ایک روڈ پرنس ویگو کو موڈیفائی کرتے ہوئے اس میں 250cc کا انجن لگایا ہے۔ لیکن جب میں نے انہیں فون کیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ میں ایک پیشہ ور سے بات کر رہا ہوں۔ وقار کے پاس 2 مکینکوں کی ایک ٹیم ہے جبکہ وقار خود پلان بنانے میں مہارت رکھتا ہے اور اس کا ویئر ہاؤس شاہدرہ میں ہے۔ دونوں مکینک وقار کے پرانے دوست ہیں اور دونوں لاہور سے تعلق رکھتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وقار کے پروجیکٹ مکمل ہونے سے پہلے ہی فروخت ہوجاتے ہیں پس اس کے گیراج میں پرزوں اور بچی ہوئی مشینری کے علاوہ کچھ بھی نہیں بچتا۔ بہرحال نیچے مکمل کیے گئے ان پروجیکٹس کی تفصیلات ہیں جو وقار نے مجھے بتائیں۔

250cc انجن والی روڈ پرنس ویگو:

چونکہ اس بائیک نے پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر کافی شہرت کمائی ہے تو میں اسی سے بات کا آغاز کروں گا۔ یہ بائیک روڈ پرنس ویگو ہے مگر اس میں یاماہا کا 4 والو 250cc OHC انجن نصب ہے۔ اس کے بور اور سٹروک کی پیمائش 75.0 X 56.5 ہے اور اطلاعات کے مطابق یہ زیادہ سے زیادہ 21.9 بی ایچ پی کی پاور اور 25.8 این ایم کا ٹارق پیدا کرتا ہے۔ انجن کی تبدیلی کے علاوہ اس بائیک میں کارآمد اے بی ایس ڈسک بریکس، پرفارمنس ایئر انٹیک، اور فری فلو ایگزاہسٹ سسٹم بھی لگایا گیا ہے۔ اس خاص سلیپر کے بارے میں دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ 0-60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار 4 سیکنڈ سے کم وقت میں حاصل کر لیتا ہے جبکہ 0-100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار یہ صرف 7 سیکنڈ میں حاصل کر لیتا ہے۔

مزید یہ کہ یاماہا کا 250cc OHC انجن جاپان سے درآمد کیا جاتا ہے اور اس کے تمام الیکٹریکل سسٹمز کو آپریشنل کیا جاتا ہے۔ پیسوں کے اعتبار سے وقار احمد صاحب کو اس پروجیکٹ پر 45 ہزار روپے اور بہت سا کام اور گھنٹے لگانے پڑے۔

img-20170310-wa0097-1img-20170310-wa0103img-20170310-wa0104img-20170310-wa0106img-20170310-wa0111img-20170310-wa0118img-20170310-wa0095-1

180cc انجن کے ساتھ یاماہا YBR 125G:

اگلی باری یاماہا YBR سلیپر کی ہے۔ جب سے یہ بائیک متعارف ہوئی تو پاکستانی مارکیٹ میں یہ غصیلے ڈیزائن کی وجہ سے طوفان کی طرح خریدی گئی۔ وقار کے مطابق کمپنی نے ایک اچھی پروڈکٹ متعارف کروائی مگر یہ ایک منفرد زائقے سے محروم تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اس کے کمپنی کی طرف سے نصب کیے گئے انجن کو ایک 180cc انجن سے بدلنے کا فیصلہ کیا۔ یہ انجن ایئر کولڈ اور دو والو کے ساتھ سنگل سٹروک ہے۔ اس کی کارکردگی کے اعدادوشمار درج زیل ہیں۔

  • پاور= 17 BHP @ 8500 آر پی ایم
  • ٹارق= 5Nm @ 6500 آر پی ایم

اس بائیک کے فریم میں بھاری بھرکم 180cc انجن نصب کرنے کے لیے خاص تبدیلیاں کی گئی جس سے اس پروجیکٹ کا خرچہ 40 ہزار روپے بڑھ گیا۔ اس تمام خاص علاج، انداز اور ایڈجسٹمنٹ کے باوجود وقار کی ٹیم نے بہت عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے YBR 125G کی کمپنی بناوٹ کو برقرار رکھا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ بائیک 0-100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار 10 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں حاصل کر لیتی ہے۔

img_20161125_110045img_20161125_110034

ہونڈا سی جی 125 میں 200cc انجن:

آخری لیکن انتہائی اہم ہونڈا سی جی 125 کو 200cc والا جن بنا دیا گیا۔ آپ کو میری بات پر یقین نہیں؟ نیچے تصویروں میں دی گئی بائیک وقار اور اس کی ٹیم کا اسپیشل پروجیکٹ ہے۔ یہ خاص بائیک اسپیشل آرڈر پر تیار کی گئی اور دیکھنے سے پتہ لگتا ہے کہ وقار اور اس کی ٹیم نے کمال پروڈکٹ فراہم کی۔ ہونڈا 125 کو کچھ پاکستانی حلقوں میں اس کے ڈیزائن، مقامی مارکیٹ میں موجودگی اور اس کے خراب حالات میں بھی بھاگنے کی وجہ سے اسے ’رائل انفیلڈ‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔  تو کسی کے لیے بھی اس کی لمبی عمر کو یقینی بناتے ہوئے اس کی پاور بڑھانا ایک منفرد چیلنج تھا۔ وقار کی ٹیم نے اس میں 5 سپیڈ ٹرانسمیشن کو 198cc فور سٹروک OHC متوازی ٹِون سلنڈر انجن سے جوڑا۔ اور اگر اکیلا انجن کافی نہیں تھا تو ٹیم اس سے بھی آگے گئی اور سوار کی مدد کے لیے کک اور الیکٹرک سٹارٹ دونوں میں مطابقت پیدا کی۔ وقار کا دعوی ہے کہ یہ بائیک 0-100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار 8 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں حاصل کر لیتی ہے۔ ایک ہونڈا 125 کا ہونڈا 200 سلیپر میں بدل جانا برا نہیں ہے۔

img_20161013_082043img_20161013_082837

اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

اب ہم آپ کو قانونی پیچیدگیوں کے بارے میں بتاتے ہیں جن کا وقار اور ان کی ٹیم نے ان پروجیکٹس کے لیے مقابلہ کیا۔ شروع میں ہر چیز کی پیپر ٹریل کا ہونا ضروری ہے کیونکہ اس طرح کی شپمنٹ کا کسی بھی قانون نافز کرنے والے ادارے کے سامنے آسانی سے جواز پیش کیا جاسکتا ہے۔ اگلے مرحلےمیں آپ دونوں چیزوں کے ڈکلیریشن فارم، رسید فروخت، بائیک کی رجسٹریشن بک اور تمام متعلقہ کاغزات کے ساتھ ایکسائز اینڈ کسٹم آفس جاتے ہیں۔ یہ طریقہ کار لمبا ہے مگر مختصر یہ کہ وقار صاحب کہتے ہیں کہ پہلا انجن تباہ ہو گیا ہے (بغیر مرمت کے) اور اسی لیے انہوں نے اس بائک میں نصب کرنے کے لیے نیا انجن منگوایا ہے۔ پھر اس کی معمولی سی 1200 روپے فیس وصول کر کے کسٹم اینڈ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے موٹربائیک کی رجسٹریشن بک میں نئے انجن کی تمام خصوصیات درج کر دیتے ہیں۔

میں اس سے آگے جاؤں گا اور میں مانتا ہوں کہ اوپر بتائی گئی معلومات میں ابہام ہے، لیکن جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ اس کا ایک فالو اپ آرٹیکل ہو گا جس میں اس پہلی تالیف کے پہلوؤں کو مزید واضع کیا جائے گا۔ اگر آپ کا کوئی سوال ہو تو مجھے ضرور بتائیں۔

Abdul Hanan

Hanan is an avid auto enthusiast with a flair for writing and playing games. He loves traveling, deciphering political maneuvering and exploring the realms of coding & graphic designing.

Notable Replies

  1. اردو پڑھنا بہت دشوار ہے

Post a Comment

Participants

Top