موٹرسائیکل و گاڑیوں کی “اسمارٹ رجسٹریشن” سے متعلق 4 اہم سوالوں کے جوابات!

Islamabad ETO Smart Vehicle Registration Card

پاک ویلز بلاگ کے قارئین بخوبی جانتے ہوں گے کہ محکمہ ایکسائز نے موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی رجسٹریشن و ملکیت منتقلی کے لیے جدید طریقہ کار اپنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جہاں اس نظام کے لاگو ہوجانے سے دستی طریقہ کار کے طویل مراحل سے چھٹکارا مل سکے گا وہیں تمام عمل میں شفافیت کو بھی یقینی بنایا جاسکے گا۔اس نئے نظام کو “اسمارٹ رجسٹریشن” کا عنوان دیاگیا ہے اوراس مضمون میں ہم اس سے متعلق پوچھے گئے چار اہم سوالات پر بات کر رہے ہیں۔

اسمارٹ رجسٹریشن کا نیا نظام دراصل ہے کیا؟
یہ نظام ملک بھر میں موجود تمام گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی معلومات یکجا کرنے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ اس کا مقصد پرانے کاغذی دستاویزی نظام کی جگہ صارفین کو پہلے سے زیادہ سہل اور تیز نظام پیش کرنا ہے۔

پرانے کاغذی نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟
اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں:

1) کاغذی نظام میں تمام کام ہاتھ سے یعنی دستی کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار میں بہت سے افراد کا عمل دخل شامل ہوتا ہے جس کی وجہ سے اضافی افرادی قوت درکار ہوتی ہے اور مراحل طویل بھی ہوجاتے ہیں۔

2) چونکہ اس نظام کے تحت تمام کام افرادی قوت ہی سے لیا جاتا ہے لہٰذا شکوک و شبہات اور غلطیوں کی گنجائش بھی باقی رہتی ہے۔ محکمہ ایکسائز کی جانب سے ‘ایجنٹ مافیا’ کی غیر ضروری مداخلت کو سختی سے نوٹس لیا گیا ہے۔ اور اسی لیے وہ نئے نظام کے ذریعے دھوکہ دہی اور جعل سازی کے امکانات کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔

اسمارٹ رجسٹریشن کا نظام کب اور کہاں لاگو ہوگا؟
ماہرین کہتے ہیں کہ ابتدا میں اس نظام کو صرف پنجاب میں آزمائشی طور پر استعمال کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ صوبہ پنجاب آبادی کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور دیگر علاقوں کو نسبت یہاں اس نظام کی افادیت بہتر طور پر جانچی جاسکتی ہے۔ محکمہ ایکسائز کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری مسعود الحق نے بتایا کہ وہ پنجاب میں اس نظام کو جون 2017 سے پہلے لاگو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: گاڑیوں کی رجسٹریشن کے طریقہ کار میں انقلابی تبدیلیوں کی تیاریاں

نیا نظام کس طرح کام کرے گا؟
نئے نظام کے تحت ہر گاڑی کے اندراج پر اسمارٹ رجسٹریشن کارڈ، یونیورسل نمبر اور رجسٹریشن پلیٹ فراہم کی جائے گی۔ اس سے صارفین کو گاڑی کے کاغذات سنبھال رکھنے اور ان کے چوری ہوجانےکی پریشانی سے نجات مل جائے گی۔

اس حوالے سے دیگر کئی سوالات بھی ہنوز جواب طلب ہیں مثلاً یہ کہ اس نظام کے تحت استعمال شدہ گاڑی کی منتقلی کس طرح ہوگی؟ یا جو گاڑی پہلے ہی سے رجسٹرڈ شدہ ہیں ان کا مستقبل کیا ہوگا؟ اور محکمہ ایکسائز اس نظام کا دائرہ کس طرح وسیع کرنا شروع کرے گا؟ وغیرہ وغیرہ۔ بہرحال، امید کی جاسکتی ہے کہ محکمہ ایکسائز کی جانب سے شہریوں کو آگہی فراہم کرنے کے لیے مہم چلائی جائے گی تاکہ گاڑی خریدنے اور استعمال کرنے والا ہر شخص اسمارٹ رجسٹریشن کے طریقہ کار سے بخوبی واقفیت حاصل کرسکے۔


Top