پاکستان میں سوزکی کا سفر – 1970 کی دہائی سے سال 2016 تک کا جائزہ

pak suzuki

پاکستان میں سوزوکی گاڑیوں کی وجہ مشہوری ان کی کم قیمت اور آسان مینٹی نینس ہے۔ سوزوکی گاڑیاں ابتداء ہی سے محدود بجٹ رکھنے والوں کا پہلا انتخاب رہی ہیں۔ 70 کی دہائی میں پہلی بار سوزوکی گاڑیاں اس وقت نظر آئیں کہ جب نیا دور موٹرز اور عوامی آٹوز لمیٹڈ نے یہاں پک اپس تیار کی جاتی تھیں۔ بعد ازاں اسی دہائی کے آخر میں 2-اسٹروک انجن کی حامل کیری وین (Carry Van) اور ایک کسٹم کار (جسے SS10/ فرنٹ550 بھی کہا جاتا تھا) کی درآمد بھی شروع ہوئی۔

Suzuki Fronte

Suzuki Fronte

Suzuki Carry ST20

اگست 1983 میں پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹڈ کا قیام عمل میں آیا۔ یہ سرکاری ادارے پاکستان آٹو موبائل کارپوریشن لمیٹڈ (پاکو) اور سوزوکی موٹر کارپوریشن (ایس ایم سی) جاپان کا مشترکہ منصوبہ تھا۔ اس ادارے نے 1984 میں گاڑیوں کی تیاری و فروخت کا آغاز کیا۔ بعد ازاں ستمبر 1992 میں اسے ایک نجی ادارے کا درجہ حاصل ہوگیا اور یوں آج وہ گاڑیوں کے شعبے میں 50 فیصد سے زائد حصہ رکھنے والا سب سےنمایاں ادارہ بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ پاک سوزوکی نے چھوٹی گاڑیوں کے شعبے میں غیر محسوس انداز سے اپنی اجارہ داری بھی قائم کر رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک سوزوکی نئی آٹو پالیسی سے ناخوش؛ سلیریو کی آمد مشکوک ہوگئی

سال 1983/84 میں پاک سوزوکی وہ پہلا ادارہ تھا کہ جس نے مسافر بردار گاڑیوں کی تیاری و فروخت کا آغاز کیا۔ سوزوکی FX پہلی گاڑی تھی کہ جسے 800cc انجن کے ساتھ محض 45 ہزار روپے میں پیش کیا گیا۔ اس زمانے میں نئی FX کی قیمت دیگر دستیاب گاڑیوں کے مقابلے میں تین گنا کم تھی۔ 30 سال سے بھی زائد عرصہ گزرجانے کے بعد آج بھی استعمال شدہ FX مناسب قیمت پر مل جاتی ہے۔

suzuki-fx-1982

1982 Suzuki FX

1980 کی دہائی کے وسط میں ایک مقامی انجینئر جناب خلیل الرحمن (مرحوم) نے پاکستان کی پہلی 1000cc پک اپ بنائی جسے ‘پروفیشنٹ’ کا نام دیا گیا۔ یہ سامان یا مسافر بردار گاڑیوں کے طور پر پر استعمال ہونے والا چھوٹا ٹرک تھا۔ پروفیشنٹ کا معیار غیر ملکی گاڑیوں جیسا لیکن قیمت میں کہیں زیادہ کم تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے پاکستانی مارکیٹ کے لیے بہترین خیال کیا گیا تاہم حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے تمام منصوبہ بندی چوپٹ ہوگئی۔ رہی سہی کسر سوزوکی کو تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد پر خصوصی رعایت دے کر پوری کردی گئی۔ اس رعایت کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے سوزوکی راوی درآمد کی گئی جس کے بعد پروفیشنٹ کی کامیابی کے امکانات بالکل ہی ختم ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: V8 انجن کی حامل سوزوکی خیبر 44,995 ڈالر میں برائے فروخت!

مجھے اب بھی اسکول کے وہ دن یاد ہیں کہ جب ہم طاروق روڈ کے مشہور بازار رابی سینٹر کے عقب میں قائم پروفیشنٹ کے ڈیلرشپ پر جاتے تھے۔ ہم پاکستان میں تیار شدہ اس ٹرک کو رشک کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ اس وقت ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پروفیشنٹ کا مستقبل تاریک ہوگا۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ افسوسناک کردار حکومتی پالیسیوں کا رہا۔ فیصلہ ساز قوتوں نے سوزوکی کو تیار شدہ گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت دے کر پاکستان میں تیار ہونے والے پک اپ کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔

suzuki-swift-1986

1986 Suzuki Swift

پھر 1988 میں سوزوکی نے 1000cc سوِفٹ کے ساتھ 800cc آلٹو بھی پیش کی جس نے مقامی تیار شدہ FX کی جگہ حاصل کی۔ 1991 تک سوزوکی موٹرز جاپان نے پاکو کے 40 فیصد حصص کا مالک بن گیا اور یوں اسے انتظامی امور میں بھی براہ راست مداخلت کا پروانہ حاصل ہوگیا۔ 1991 میں پاک سوزوکی نے بن قاسم کے مقام پر ایک نیا کارخانہ قائم کیا اور اس کے بعد سوزوکی گاڑیوں کو نئے ناموں سے پیش کیا جانے لگا۔ سوزوکی سوفٹ ہیچ بیک کا نام خیبر، سوزوکی آلٹو یا نام مہران، سوزوکی سوفٹ سیڈان کا نام مرگلہ اور سوزوکی کیری اور پک اپ کو بالترتیب بولان اور راوی کا نام دے دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا سِٹی، آمنہ حق اور نئی طرز کی منفرد گاڑی

ان دنوں سوزوکی نے گاڑیوں کی اچھی ساکھ سے کافی منافع کمایا۔ سوزوکی گاڑیوں کو پسند کرنے کی وجوہات میں کم قیمت مینٹی نینس اور متبادل گاڑیوں کی عدم دستیابی تھی۔ اس وقت حکومت نے مقامی کار ساز اداروں کو فروغ دینے کے لیے گاڑیوں کی درآمد کم کرنے کے لیے مختلف قوانین بھی لاگو کیے تھے۔ تقریباً 6 سالوں تک سوزوکی گاڑیاں چمکدار رنگوں کے بغیر ہی پیش کی جاتی رہیں۔ محدود خصوصیات کے ساتھ جو گاڑیاں دستیاب تھیں ان پر کیا جانے والا رنگ بھی غیر معیاری تھی تاہم قیمت میں کم ہونے کی وجہ سے ان کی فروخت کافی زیادہ رہی۔

Suzuki-Khyber-1996Suzuki Margalla

چھوٹی گاڑیوں، چھوٹے ٹرکس اور مسافر بردار وینز کے شعبے میں سوزوکی نے طویل عرصے تک تن تنہا گاڑیاں فروخت کیں کیوں کہ اس کے دونوں ہم وطن ادارے ٹویوٹا اور ہونڈا نے 1300cc سیڈان اور اسے بہتر گاڑیوں کے میدان کو حدف بنایا ہوا تھا۔ لیکن اس میدان کو بھی سوزوکی نے خالی نہیں چھوڑا بلکہ 1300cc انجن کی حامل مرگلہ پیش کر کے کافی فوائد سمیٹے۔ 1996 تک سوزوکی نے مرگلہ کی پیش کش جاری رکھی۔ بعد ازاں جب ہونڈا نے سِٹی پیش کر کے سیڈان مارکیٹ کے خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کرنا شروع کیا تو 1998 میں سوزوکی نے مرگلہ کی جگہ بلینو متعارف کروائی۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی اداروں کی وہ گاڑیاں جو پاکستان میں پیش کی جاسکتی ہیں!

پاکستان میں پیش کی جانے والی سوزوکی بلینو (Suzuki Baleno) کئی اعتبار سے منفرد تھی۔ یہ اپنے وقت کی بہترین ٹیکنالوجی کی حامل تھی۔ پہلی بار کسی سوزوکی گاڑی کو مختلف چمکدار رنگوں میں بھی پیش کیا گیا۔ یہ برقی فیول انجکشن (EFI) سسٹم کے حامل 1300cc انجن والی پہلی گاڑی تھی۔بلینو کو 1600cc انجن کے ساتھ GTi کے نام سے مختصر عرصے کے لیے بھی پیش کیا جاتا رہا۔یہ پہلی سوزوکی گاڑی تھی کہ جسے 2002 میں نئے انداز (فیس لفٹ) سے متعارف کروایا گیا۔ یہ پہلی گاڑی تھی جس میں اموبلائزر بھی شامل کیا گیا تھا۔

suzuki-baleno-16-gti-1999-8256940

Suzuki Baleno Pre-Facelift

suzuki-baleno-2002

Suzuki Baleno Facelift

سوزوکی کی سب سے بڑی کمزوری ‘مسابقت’ رہی ہے۔ چھوٹی گاڑیوں کے شعبے میں سوزوکی گاڑیاں اسی لیے بہت زیادہ فروخت ہوتی ہیں کہ وہاں صارفین کو متبادل دستیاب نہیں۔ تاہم سیڈان گاڑیوں میں سوزوکی بلینو کے سامنے جب ہونڈا سِٹی اور پھر 2002 میں نئی اور جدید E120 کرولا آئی تو اسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 2002 میں پیش کی جانے والی کرولا ڈیزائن کے اعتبار سے پرانی جنریشن سے کہیں زیادہ بہتر تھی۔ پھر 2003 میں روایتی حریف ہونڈا سِٹی SX8 کو نئی GD سِٹی (iDSl) سے تبدیل کردیا گیا۔ اپنی تمام تر خصوصیات کے باوود سوزوکی بلینو ڈیزائن میں مار کھاگئی۔ اس کی چھت قدرے نیچی اور انداز 90 کی دہائی میں پیش کی جانے والی گاڑیوں جیسا ہی تھا۔ 1300cc انجن والی گاڑیوں کی مارکیٹ میں کرولا Xli اور سِٹی iDSl کی فروخت میں خاطرخواہ اضافے اور بلینو کی مسلسل تنزلی دیکھتے ہوئے سوزوکی نے 2005 میں اسے بند کرنے کا اعلان کردیا۔

Suzuki Cultus suzuki-alto-2001

سال 2000 میں سوزوکی نے خیبر کی جگہ کلٹس (Cultus) متعارف کروائی۔ یہ دراصل اسی سوزوکی مرگلہ سیڈان کا ہیچ بیک انداز تھا جو چند سال قبل بند کردی گئی تھی۔ اس کے ساتھ 1000cc انجن کی حامل سوزوکی آلٹو بھی پیش کردی گئی۔ بیک وقت 1000cc انجن والی دو گاڑیاں پیش کرنے کا مقصد سال 2000 میں ہیونڈائی سانترو (Hyundai Santro) کی آمد سے شروع ہونے والی مسابقت تھی۔ دیوان موٹرز کی پیش کی جانے والی سانترو میں بھی 1000cc انجن لگایا گیا تھا۔ سال 2001 میں سوزوکی نے CNG گاڑیوں کی تیاری شروع کردی اور اسی سال سوزوکی موٹر کارپوریشن نے پاک سوزوکی کے 73 فیصد حصص اپنے نام کرلیے۔ سال 2002 میں سوزوکی نے آلٹو ہیچ بیک کا نیا انداز متعارف کروایا۔ یہ وہی سال تھا کہ جب سانترو کلب کی جگہ ہونڈائی سانترو پلس متعارف کروائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: نئی آٹو پالیسی کا اعلان: نئے کار ساز اداروں کے لیے خصوصی مراعات شامل

سال 2005 میں سوزوکی نے تنزلی کا شکار بلینو کی جگہ لیانا سیڈان پیش کی۔ پہلے پہل لیانا کو درآمد کر کے فروخت کیا جاتا رہا تاہم اگلے سال یعنی 2006 میں اس کی مقامی سطح پر تیاری کا بھی آغاز کردیا گیا۔ابتداء میں لیانا کو خاصی پزیرائی حاصل ہوئی اور اس کی فروخت بھی اچھی رہی۔ لیکن بہت جلد اس کا سحر ٹوٹ گیا اور فروخت سال بہ سال گرتی رہی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پورے مہینے میں درجن بھر سوزوکی لیانا (Suzuki Liana) فروخت ہوتی تھیں۔ اپنے اختتامی سالوں میں لیانا کی فروخت 160 گاڑی سالانہ رہ گئی۔ اس کے مقابلے میں بلینو کی فروخت 4 ہزار سالانہ کے لگ بھگ رہی تھی۔

suzuki-liana-vurv-rxi-1-3-2009-8779859

لیانا کا شمار ان گاڑیوں میں ہوتا ہے کہ جو عام عوام میں خاصی ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھی گئیں۔ اس کی ناکامی کے پیچھے کئی ایک اہم عوامل کار فرما تھے۔ اول تو یہ سوزوکی گاڑی تھی لیکن اس کے پرزے ہونڈا گاڑیوں کی طرح خاصے مہنگے تھے۔ 70 کی دہائی سے سوزوکی نے سستی گاڑیوں اور سستے پرزوں کی وجہ سے جو شہرت حاصل کی، اسے دیکھتے ہوئے کوئی بھی صارف لیانا کے مہنگے پرزے لینے کے لیے تیار نظر نہیں آیا۔ اس کے علاوہ سوزوکی نے پرانی ٹیکنالوجی کی حامل گاڑیوں کو ترک کرنا مناسب نہیں سمجھا جس کی وجہ سے کلٹس، مہران، بولان اور راوی کی تیاری و فروخت جاری ہے۔ ان گاڑیوں کے سستے پرزے آج بھی دستیاب ہیں یہی وجہ ہے سوزوکی سستے ہونے کی چھاپ سے چھٹکارا حاصل نہیں کرپایا۔ صرف یہی نہیں لیانا کے ساتھ دوسرا بڑا مسئلہ ڈیزائن کا تھا۔ لوگوں نے اس کے ڈیزائن کو بالکل بھی پسند نہ کیا۔ بلینو کے برعکس سوزوکی اس بار گاڑی کی اونچائی میں اضافی تو کردیا لیکن اگلا بمپر اتنا زیادہ جھک گیا کہ اکثر اسپیڈ بریکرز سے ٹکرانے اور اونچی نیچی سڑکوں پر کھڑکھڑانے جیسے مسائل پیش آنے لگے۔

اس کے علاوہ لیانا کو سیکوئنشل اگنشن سسٹم CNG کٹ کے ساتھ پیش کیا گیا۔ یہ تکنیک اتنی جدید تھی کہ خود سوزوکی ڈیلرشپس کو اسے سمجھنے اور مسائل حل کرنے میں کافی وقت لگا۔ انجن کے منفرد ڈھانچے کی وجہ سے مکینک صاحبان کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ پاک ویلز فورم پر بھی اس حوالے سے کافی شکایات کی جاتی رہی ہیں۔

لیانا کے بعد سوزوکی نے سیڈان گاڑیوں کے میدان میں دوبارہ قدم نہیں رکھا۔ طویل عرصے سے لوگ لیانا کی متبادل برانڈ کی توقع کر رہے تھے لیکن سوزوکی نے اس حوالے سے جس عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ 1300cc سیڈان کے شعبے میں اپنی شکست تسلیم کر چکا ہے۔ سال 2010 میں پاکستان سوزوکی نے 1300cc سوزوکی سوِفٹ ہیچ بیک متعارف کروائی۔ یہ وہی گاڑی تھی کہ جسے 2004 میں عالمی سطح پر متعارف کروایا گیا تھا۔ نہ معلوم کیا وجوہات تھیں کہ اس گاڑی کو پاکستان لانے میں 6 سال لگ گئے۔ گو کہ اس سوِفٹ میں بھی لیانا ہی کا M13A انجن لگایا گیا تاہم اس میں وہ مسائل نہ تھے کہ جو لیانا کی ناکامی کا سبب بنے۔

سوزوکی سوِفٹ کا ابتدائی دور بھی کافی کٹھن ثابت ہوا۔ لیانا کی طرح یہ بھی سستے پرزے نہ ہونے کی وجہ سے مار کھا گئی اور صارفین نے استعمال شدہ کلٹس کو ترجیح دینا شروع کردی جس کے پرزے نسبتاً کم قیمت میں دستیاب تھے۔ ایسے میں پاک سوزوکی نے کلٹس VXL کو بند کردیا تاکہ لوگوں کی توجہ سوِفٹ کی جانب مبذول کروائی جاسکے۔ خوش قسمتی سے یہ حکمت عملی کامیاب ہوگئی اور 2011-2012 میں سوِفٹ نے 7 ہزار فروخت کے ساتھ نیا ریکارڈ بنا لیا۔ تاہم آئندہ سالوں میں اس کی فروخت کم سے کم ہوتی رہی اور اب چھ سال گزرجانے کے بعد یہ ہر سال لگ بھگ ڈائی ہزار کی تعداد میں فروخت ہورہی ہے۔سوِفٹ کی فروخت میں کمی کی بڑی وجوہات میں جاپانی گاڑیوں کی درآمد میں اضافہ بھی شامل ہے۔ پاک سوزوکی سوِفٹ کی فروخت میں اضافہ چاہتا ہے تو اسے وہی نیا انداز یہاں متعارف کروانا ہوگا جو عالمی مارکیٹ میں دستیاب ہے۔

Suzuki Swift

پاک سوزوکی نے آخری بار 2014 میں سوزوکی ویگن آر (Wagon R) متعارف کروائی تھی۔ اسے 1000cc سوزوکی آلٹو کی جگہ پیش کیا گیا۔ ویگن آر کے غیر معمولی انداز کی وجہ سے اسے خاطر خواہ پزیرائی حاصل نہ ہوئی تاہم زبردست تشہری مہم کے ذریعے سوزوکی نے اس کی فروخت میں خاصہ اضافہ کرلیا ہے۔ یاد رہے کہ اس گاڑی کا فی الحال کوئی متبادل یہاں دستیاب نہیں ہے لہٰذا سوزوکی اپنی اجارہ داری کے مزے لوٹ رہا ہے۔ چند بنادی خصوصیات سے عاری اور قدرے عجیب انداز کے باوجود یہ پاک سوزوکی کی جانب سے پیش کی گئی جدید ترین گاڑی کہی جاسکتی ہے۔

Suzuki Wagon R

پاک سوزوکی اس پاکستان کا سب سے بڑا کار ساز ادارہ ہے جس کی گاڑیاں بڑی تعداد میں فروخت ہوتی رہی ہیں۔ یہ گاڑیوں کے شعبے میں شامل سب سے پرانا ادارہ بھی ہے جسے حکومت کی جانب سے بھی ہر طرح کی مدد حاصل رہی ہے۔لیکن اگر ہم ماضی میں اس کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی اکثر گاڑیاں پرانی ٹیکنالوجی کی حامل، بنیادی خصوصیات اور حفاظتی سہولیات سے عاری ہونے کے ساتھ انتہائی غیر معیاری سامان سے بھی تیار کی جاتی رہی ہیں۔

نئی آٹو پالیسی 2016-2021 کی منظوری پر پاک سوزوکی نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ‘تباہ کن’ قرار دینے سے گریز نہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی دھمکی دی کہ اگر حکومت نے منظور شدہ آٹو پالیسی پر نظر ثانی نہ کی تو وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے منصوبے ختم کردیں گے۔ پاک سوزوکی کو سمجھنا چاہیے کہ اب وہ 30 سال پرانی گاڑیوں کو یہاں پیش نہیں کرسکتی۔ لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں سوزوکی کی جو گاڑیاں سب سے زیادہ فروخت ہوتی ہیں ان میں یہی پرانے وقتوں کی گاڑیاں شامل ہیں۔

پرانی گاڑیوں کو انتہائی مہنگے داموں فروخت کر کے پاک سوزوکی کسی اور کے لیے نہیں بلکہ خود اپنے لیے مسائل کھڑے کر رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب وہ کئی دہائیوں سے ایک ہی گاڑی کو فروخت کر کے پیسے بنا رہے ہیں تو نئی اور جدید گاڑیوں کی طلب میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ عام لوگ صرف اس لیے مہران، بولان اور کلٹس پر اضافی پیسے خرچ کرتے ہیں کہ ان کے پرزے سستے ہیں۔ جدید گاڑیوں جیسے ویگن آر اور سوِفٹ کی طرف مائل نہ ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ انہیں پرانی گاڑیوں کی عادت ہوگئی ہے۔ایک گاڑی کی پیش کش کو غیر معمولی عرصے کے لیے طول دینے سے یہی نقصان ہوتا ہے جو پاک سوزوکی بھگت رہا ہے۔ آپ یہ توقع نہیں کرسکتے کہ آج لوگ پرانے وقتوں کی گاڑی چلا رہے ہیں لیکن کل وہ K-سیریز انجن سے بھی مانوس ہوجائیں۔اگر گاڑیوں میں شامل ٹیکنالوجی کو بتدریج اور بروقت اپڈیٹ کیا جاتا رہے تو یہ صورتحال پیش نہیں ہوتی۔ یہ بات قدرے آسان ہوتی لوگوں کو آہستہ آہستہ نئی ٹیکنالوجی سے روشناس کروایا جاتا ۔ اس سے مسابقت کی صورتحال میں بھی سوزوکی کو خاطر خواہ کامیابیاں نصیب ہوتیں۔

Suzuki-Ciaz-7 Suzuki-Ciaz-8 Suzuki-Ciaz-9

نئی آٹو پالیسی کی آمد کے بعد امید ہے کہ گاڑیوں کے شعبے میں مسابقت کی فضا قائم ہوگی جس کے بعد سب سے زیادہ مسائل سوزوکی کے لیے کھڑے ہوں گے۔ ماضی میں ہم نے دیکھا کہ سوزوکی نے جب بھی مقابلے کی کوشش کی اسے ناکامی کا ہی سامنا کرنا پڑا۔ آج سوزوکی نے ایسی گاڑیوں سے شہرت حاصل کی ہے کہ جس کا کوئی اور متبادل دستیاب نہیں ہے۔ مثال کے طور پر سوزوکی مہران جو 1989 میں 90 ہزار روپے میں فروخت کی جارہی تھی، اب 27 سال گزرجانے کے بعد اسے جوں کا توں آٹھ گنا اضافی قیمت میں فروخت کیا جارہا ہے۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے برق رفتار پراسیسر، کیمرا، 4G اور بے شمار خصوصیات کے حامل اسمارٹ فون کے اس دور میں آپ نوکیا 3310 فروخت کرنا شروع کردیں۔اب سوزوکی کے لیے ممکن نہ ہوگا کہ پرانے وقتوں کی گاڑیاں فروخت کرتا رہے۔ خاص کر جب مارکیٹ میں نئی گاڑیاں پیش کی جانے لگیں گی توشاید سوزوکی کو پوچھنے والا کوئی نہ ملے۔ اس وقت پاک سوزوکی کو بوریا بستر لپیٹ کر رفوچکر ہوجانے کی باتیں کرنے کے بجائے اپنی پیش کردہ گاڑیوں کی فہرست پر نظر ڈالتے ہوئے مسابقت کی تیاری کرنی چاہیے۔

Usman Ansari

An automotive enthusiast associated with the animation industry since 15 years having worked with leading organizations and production facilities across Pakistan.

  • Faraz Alwani

    Very Well written…

Top