سکھر-ملتان موٹر وے اگست 2019ء تک آپریشنل ہو جائے گی


نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ 70 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہونے کے ساتھ سکھر-ملتان موٹر وے اگست 2019ء تک آپریشنل ہو جائے گی۔

392 کلومیٹر طویل سکھر-ملتان موٹر وے (M5) منصوبہ اگست 2016ء میں شروع ہونے کے بعد اس وقت بہت تیزی سے زیر تکمیل ہے جس میں مختلف مقامات پہلے ہی تعمیر ہو چکے ہیں۔ 33 کلومیٹر طویل ملتان-شجاع آباد سیکشن کا رواں سال کے اوائل میں افتتاح ہو چکا تھا لیکن نامکمل کام کی وجہ سے ٹریفک کے لیے بدستور بند رہا۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ اب تک 70 فیصد منصوبہ مکمل ہو چکا ہے اور اگلے سال اگست تک تکمیل متوقع ہے۔ NHA کی موبائل ایپ کے مطابق منصوبے کی تکمیل کی تاریخ 4 ستمبر 2019ء ہے۔ عہدیدار کے مطابق تقریباً تمام پُل  تکمیل کے قریب ہیں اور اسفالٹ پیومنٹ کا کام تیزی سے جاری ہے۔

پاکستان کی معیشت موٹرویز پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے اور یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا بھی اہم حصہ ہیں۔ حکومت پاکستان و چین نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے بعد موٹر وے کے اس حصے کے لیے کام کا آغاز ہوا۔ ملک میں موٹروے کے لیے معیار بے مثال ہے کہ جو مسافروں کو متعد انٹرچینجز کے ذریعے تیز رفتار اور چھ لین کا سفر فراہم کرتی ہیں۔ صنعتوں سے انہی موٹرویز کے ذریعے روزانہ مال مختلف مقامات پر پہنچایا جاتا ہے۔

سکھر-ملتان موٹروے کے راستے کا آغاز ملتان سے ہوتا ہے اور یہ جلال پور پیروالا، احمد پور شرقیہ، رحیم یار خان، صادق آباد، اوباوڑو، پنو عاقل سے ہوتی ہوئی بالآخر سکھر پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ یہ متعدد انٹرچینجز رکھتی ہے جو قریبی شہروں کو موٹروے تک رسائی دیتے ہیں۔ سکھر-ملتان موٹروے کے انٹرچینجز ملتان، شجاع آباد، اُچ شریف، جلال پور پیروالا، ترنڈہ، بہادرپور، ظاہر پیر، گھوٹکی، پنوعاقل، گڈو،  بہالپور روڈ، سکھر، چاچڑاں شریف روڈ، لودھراں روڈ، صادق آباد-کشمور روڈ، علی پور روڈ، گرینڈ ٹرنک روڈ اور شوگر مل روڈ کے علاقوں کو ملاتے ہیں۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ منصوبہ سفر کے دوران مسافروں کو سہولت دینے کے لیے کُل 12 سروس ایریاز اور دس ریسٹ ایریاز پر مشتمل ہے۔ 11 انٹرچینجز دس فلائی اوورز اور 426 انڈر پاسز اس جاری منصوبے کی اہم خصوصیات ہیں۔سکھر-ملتان موٹروے پر 54 پُل بھی شامل ہیں جن میں دریائے ستلج پر ایک بڑا پل بھی شامل ہے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) شہروں کے درمیان سفر کرنے والے افراد کو بہترین خدمات فراہم کرنے سے وابستہ ہے۔ منصوبہ ایک مضبوط معیشت کی تعمیر کی طرف سے ایک بڑا قدم ہوگا اور سی پیک منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے میں مدد دے گا۔

مزید خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔ اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔


Ahmad Shehryar

An Electrical Engineer by profession who writes automotive content at Pakwheels and a photographer.

Top