سوزوکی نے نئی سرمایہ کاری آٹو پالیسی میں مطلوب مراعات سے مشروط کردی

feature-2

گاڑیوں کے شعبے میں ایک طویل عرصے سے ہل چل نظر آ رہی ہے۔ پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والے اداروں کی طرف سے نئی برانڈز کی نوید، پھر یورپی کار ساز ادروں کی پاکستانی مارکیٹ میں اظہار دلچسپی بھی ظاہر کرتی ہے کہ شعبے کا مستقبل تابناک ہے۔ بہرحال، ہم جیسے گاڑیوں کے شوقین توشعبے میں ہونے والی معمولی سے بھی ہل جل سے خوش ہوجاتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے کوئی بچہ کھلونے کی دکان پر کسی نئی پلاسٹک کی گاڑی کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ روسی، فرانسیسی اور اطالوی نمائندوں نے پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں اور مسافر گاڑیوں کو متعارف کروانے اور شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف ان اداروں پر نظر ڈالیں جو اس وقت مقامی مارکیٹ میں کام کر رہے ہیں تو ہونڈا ایٹلس کی جانب سے 2016 کی پہلی سہ ماہی کے دوران HR-V درآمد کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ساتھ ہی دسویں جنریشن ہونڈا سِوک کی آمد بھی متوقع ہے۔ ٹویوٹا انڈس موٹرز بھی وِٹز اور وایوس پاکستان ہی میں تیار کرنے کا ارادے رکھتی ہے تاہم اس حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی۔ تیسرا جاپانی کار ساز ادارہ سوزوکی بھی کلٹس کی جگہ سلیریو پیش کرنے جا رہا ہے۔ مقامی سطح پر گاڑیاں تیار کرنے والے اداروں کی فروخت میں بھی زبردست اضافہ نظر آرہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا FAW کی گاڑیاں سوزوکی کا مقابلہ کرسکتی ہیں؟

تاہم پاک سوزوکی اس بار کچھ مختلف کرنے کا عزم بھی رکھتی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سوزوکی سلیریو 1000 سی سی اور اس سے کم ڈیزل انجن کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے۔ اور قوی امکان ہے کہ پاکستان میں بھی یہی سلیریو پیش کی جائے گی۔ لیکن پھر بھی پاکستان میں ہلکے پیٹرول انجن والی گاڑیوں کا خلا پُر نہیں ہوسکے گا۔ خوش قسمتی سے پاک سوزوکی نے اس خلا کو پُر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب وہ مختصر SUVs طرز کی دو گاڑیاں 660 سی سی اور 1600 سی سی پیش کرنے جا رہی ہے۔

Suzuki Celerio Launch (1)

دراصل سوزوکی پاکستان میں 4.3 کروڑ امریکی ڈالر سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔ ان میں سے 1.1 کروڑ ڈالر نئی گاڑیاں تیار کرنے کے لیے کارخانے بنانے پر خرچ کی جائے گی جبکہ باقی 3.2 کروڑ ڈالر سوزوکی گاڑیوں کے پرزے تیار کرنے کے پر صرف کیے جائیں گے۔ اسی حوالے سے سوزوکی موٹرز جاپان کے عالمی سربراہ کنجی سائیتو اور وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار غلام مرتضی خان جتوئی کے درمیان اہم ملاقات منگل کے روز اسلام آباد میں ہوئی۔ اس ملاقات میں سوزوکی کے نمائندوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا۔ بظاہر تو یہ بہت اچھی خبر معلوم ہوتی ہے لیکن شادیانے بجانے سے پہلے مکمل خبر جان لینا ضروری ہے۔ مزید تفصیل کی طرف جانے سے پہلے ہم ان گاڑیوں پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں جنہیں متعارف کروانے سے متعلق بات کی جا رہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں: سوزوکی اگنِس، پاکستان کے لیے انتہائی موزوں مختصر گاڑی

660 سی سی گاڑیوں کے لیے سوزوکی کے پاس کافی برانڈز موجود ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو جاپانی آلٹو کو 660 سی سی انجن (ساتویں جنریشن) کے ساتھ پیش کرسکتے ہیں۔ یا پھر پچھلی (چھٹی) جنریشن والی آلٹو کو ہی چھوٹے انجن کے ساتھ پیش کردیں، تو بھی ہاتھوں ہاتھ لی جائیں گی کیوں ہمیں تو پرانی سوزوکی استعمال کرنے کا چسکا لگ ہی چکا ہے۔ اس لیے میرا نہیں خیال کہ ہمارے ملک میں پرانے طرز کی گاڑی دیکھ کر کوئی ناک بھوں چڑھائے گا۔ ہاں نئے انداز والی آلٹو اگر سوزوکی ایف ایکس جیسی ہوئی تو شاید بہت سے لوگوں کو پسند نہ آئے۔ ہوسکتا ہے پاک سوزوکی میں بیٹھے ہوئے ہمارے دوست اس بات پر قہقہے لگائیں لیکن حقیقت تو بہرحال یہی ہے۔ اس نئی 660 سی سی گاڑی کی قیمت پاکستان میں راج کرنے والی سوزوکی مہران جتنی یا اس کے لگ بھگ ہی ہوگی۔ اس وقت مہران 6.3 لاکھ روپے میں دستیاب ہے تو ایسے میں مختصر انجن والی نئی آلٹو کی قیمت 7 لاکھ روپے کے آس پاس رکھی جاسکتی ہے۔

مجھے بہت اچھا لگے گا اگر سوزوکی ہیزلر پاکستان کی سڑکوں پر بھاگتی دوڑتی نظر آئے لیکن ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔

hustler

جہاں تک بات ہے 1600 سی سی SUV کی تو ‘سوزوکی جمی‘ کے بغیر موضوع ادھورا رہے گا۔ میں نے کئی بار جمی کو دیکھا لیکن فی الحال یہ علم نہیں کہ پاک سوزوکی اب بھی جمی فروخت کر رہی ہے یا نہیں۔ ان کی ویب سائٹ پر تو اب بھی یہ مختصر 4×4 (جمی JLDX M/T) دستیاب ہے جس کی قیمت 22 لاکھ 93 ہزار روپے ہے۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی ذی شعور شخص یہ گاڑی اپنے ذاتی استعمال کے لیے خریدے گا۔ یہ گاڑی عموماً حکومتی اور کاروباری اداروں کے زیر استعمال دیکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سوزوکی ویٹارا بھی ہے لیکن اس کی پاکستان میں آمد متوقع نہیں۔ویسے بھی آج کل کراس اوور طرز کی گاڑیوں کا رواج پنپ رہا ہے تو میں سوزوکی SX4 ایس–کلاس پر پیسے خرچ کرنا چاہوں گا۔ یہ5دروازوں والی کراس اوور ہے جو 1600 سی سی انجن کے ساتھ فروخت کی جاتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ 4 ویل ڈرائیو کے ساتھ بھی سوزوکی نے یہی گاڑی پیش کی ہے۔ برطانیہ میں اس کی قیمت 14 ہزار سے 25 ہزار برطانوی پاؤنڈ تک ہے۔ اور اگر یہی کراس اوور ہائبرڈ کے طور پر پیش کی گئی تو سمجھیے جیت آپ کی ہوئی!

اب سوزوکی 660 سی سی اور 1600 سی سی گاڑیوں کے غبارے سے ہوا نکالتے ہیں۔ میں پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں کہ کس طرح جاپانی ادارے اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ جاپانی سفیر کی پاکستانی حکام سے ملاقات بھی اسی حوالے سے کی جس میں انہوں نے نئی آٹو پالیسی میں جاپانی کار ساز اداروں کا ‘خصوصی خیال’ رکھنے کی تلقین فرمائی۔ سوزوکی نئی آٹو پالیسی میں نئے اداروں کے لیےفراہم کی گئی مجوزہ رعایت سے بڑھ کر کچھ چاہتی ہے۔ اب نئی سرمایہ کاری کے اعلان سے جاپانی ادارہ حکومت کو سہانے خواب دکھا کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ سادے لفظوں میں اگر حکومتِ پاکستان سوزوکی کو مراعات فراہم نہیں کرتی تو اسے لاکھوں ڈالر سرمایہ سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ سائیتو نے کہا کہ پاک سوزوکی آئندہ 5 سالوں میں مہران کو بند کردے گی بشرطیکہ نئے ماڈلز کی گاڑیوں کو متعارف کروانے دیا جائے۔ جس کا مطلب ہوا کہ اگر مراعات نہیں دی گئیں تو سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوگی۔ اور اگر سرمایہ کاری نہ ہوسکی تو آپ مہران ہی سے دل بہلاتے رہیں۔۔۔ سانوں کی!

یہ بھی پڑھیں: ٹویوٹا اور ہونڈا کی ہائبرڈ گاڑیوں میں کیا چیز مختلف ہے؟ آئیے جانتے ہیں!

میں کئی بار پہلے بھی یہ بات دہرا چکا ہوں اور اب ایک بار پھر کہنا چاہتا ہوں کہ جاپانی کار ساز ادارے بہت طویل عرصے سے پاکستان میں کام کر رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہمیں ان سے عشق ہے بلکہ حقیقت میں انہیں ہماری ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں جاپانی گاڑیوں کو پسند کیا جاتا ہے اور پسند کیا جانا بھی چاہیے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم برسہا برس ایک ہی ماڈل استعمال کرتے رہیں۔ مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جاپانی ادارے پاکستان میں نئی گاڑیاں متعارف کرواتے ہوئے آخر ڈرتے کیوں ہیں۔ اور اب یہ نیا تحکمانہ انداز تو بالکل بھی قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی یورپی کار ساز ادارہ پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنا شروع کردے تو وہ ضرور لوگوں کے دلوں سے کرولا کو نکال کر نت نئی گاڑیاں پیش کرسکتا ہے۔ میں لکھنا تو نہیں چاہتا لیکن کہے بغیر رہ بھی نہیں پا رہا کہ جاپانیوں کا یہ انداز ایسے بگڑے ہوئے بچے کا ہے جو اپنے سے کم عمر بچوں کو ڈراتے دھمکاتے ہیں۔

بھئی اگر آپ کو اپنی گاڑیوں پر بھروسہ ہے تو پھر دیر کیسی۔۔۔ ہماری مارکیٹ میں نئی گاڑیاں لائیں یا پھر دیگر ممالک کے کار ساز اداروں کو آنے دیں اور اپنے لیے بطخ خرید لیں!

DUCK

  • Nouman Humayun

    Great article & quite valid points. Hope the govt works on these issues and introduce new model vehicles which are completely manufactured locally,

Top