سوزوکی موٹرز نے اپنے ہی سربراہ کو بے دخل کرنے کا فیصلہ کرلیا

Suzuki Japan CEO

گزشتہ ماہ سوزوکی موٹر جاپان نے گاڑیوں کی جانچ میں قانونی طریقہ کار اختیار نہ کرنے کا اعتراف کیا تھا جس کے بعد جاپانی ادارہ شدید مشکلات کا شکار نظر آرہا ہے۔ سوزوکی نے اعترافی بیان میں تسلیم کیا تھا کہ جاپان میں تیار شدہ چند گاڑیوں کی جانچ میں سرکاری قواعد و ضوابط کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اس ضمن میں سوزوکی جاپان کی طرف سے اسکینڈل کی ذمہ دار شخصیات کے خلاف کاروائی کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید تفصیلات: سوزوکی نے گاڑیوں کی جانچ میں غلط طریقہ اختیار کرنے کا اعتراف کرلیا

سوزوکی نے اسامو سوزوکی کو ترقی دینے کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ہے وہ 29 جون کو ہونے والے اجلاس میں ایگزیکٹو نائب صدر کے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔ یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے کہ آیا سوزوکی 2015 کے تمام زائد منافع (بونس) منسوخ کرنے کا فیصلہ کرے گا یا پھر ان کا کچھ حصہ ہی تخفیف کیا جائے گا۔

جاپانی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق تقریباً 20 لاکھ سوزوکی گاڑیاں ایسی ہیں کہ جنہیں وضع کردہ طریقہ کار سے نہیں جانچا گیا۔ ان میں وہ چھوٹی Kei گاڑیاں بھی شامل ہیں جو سوزوکی دیگر کار ساز اداروں کو فراہم کرتا رہا ہے۔ جاپانی وزارت نے حکم دیا ہے کہ سوزوکی ازخود تمام معاملات کی چھان بین کرے اور جلد از جلد حکام کو نتائج سے آگاہ کرے۔

سوزوکی (Suzuki) نے ایسے افراد کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے جو ادارے میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ممکنہ بے ضابطیوں سے متعلقہ ذمہ داران کو آگاہ کرتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں سوزوکی نے ادارے کے کلچر میں واضح تبدیلیوں کا بھی عندیہ دیا ہے۔ توشی ہیرو سوزوکی نے بلومبرگ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوزوکی کے موجودہ کلچر میں نچلے طبقے کی آواز کو ارباب اختیار تک پہنچانا آسان نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نسان نے مٹسوبشی موٹرز کو خرید لیا؛ مٹسوبشی کے 40 فیصد حصص نسان کے نام!

سوزوکی کے مذکورہ اسکینڈل سے قبل ہم وطن مٹسوبشی بھی جاپانی گاڑیوں میں ایندھن کی کھپت سے متعلق 25 سال تک جھوٹ بولنے کا اعتراف کرچکا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس تمام قضیے کے پیچھے نسان (Nissan) کا ہاتھ ہے۔ نسان نے جاپانی حکومت کو مٹسوبشی گاڑیوں میں خرابی کی شکایت کی جس سے جاپان کا چھٹا بڑا کار ساز ادارہ شدید بحران کا شکار ہوا۔ بعد ازاں نسان نے 2.2 ارب ڈالر مالیت کے 35 فیصد حصص خرید لیے جس کے بعد وہ مٹسوبشی (Mitsubishi) کا سب سے بڑا شیئر ہولڈر بن گیا۔

Top