سوزوکی خیبر – ایک ایسی گاڑی جو بھلائے نہیں بھولتی

528de486f07a26166770fb522

پاک سوزوکی کی جانب سے سوزوکی خیبر کی تیاری و فروخت بند کیے ہوئے تقریباً 16 سال ہوچکے ہیں لیکن اب بھی یہ ہماری سڑکوں پر رواں دواں نظر آتی ہے۔ سوزوکی خیبر کا شمار ان گاڑیوں میں ہوتا ہے کہ جنہیں پاک سوزوکی نے اپنے ابتدائی دور میں پیش کیا تھا۔ شاید بہت سے قارئین جانتے ہی ہوں گے کہ خیبر دراصل سوزوکی سوِفٹ کی پہلی جنریشن ہی کا دیسی نام تھا۔ 1988 میں جب عالمی سطح پر سوزوکی سوِفٹ کی دوسری جنریشن پیش کی گئی تو پاک سوزوکی نے پہلی جنریشن کو پاکستان میں سوزوکی سوِفٹ ہی کے نام سے متعارف کروایا۔ اس وقت جاپانی اور پاکستانی اداروں کے اشتراک سے قائم ہونے والی ‘پاک سوزوکی’ کے زیادہ تر حصص جاپانی اداروں کے پاس تھے تاہم 1991 میں پاکستانی ادارے نے 15 فیصد مزید شیئر اپنے نام کر کے 40 فیصد حصص کے ساتھ برتری حاصل کرلی۔ یوں 1991 سے پاک سوزوکی نے ملک میں تیار ہونے والی گاڑیوں کو نئے نام سے پیش کرنا شروع کیا جو مقامی افراد کے لیے زیادہ مانوس تھے۔ سوزوکی سوِفٹ کا نام سوزوکی خیبر (Suzuki Khyber)، سوزوکی آلٹو کا نام سوزوکی مہران (Suzuki Mehran) ہوگیا اور پھر اسی طرح یک بعد دیگرے تمام ہی گاڑیوں کو نئے نام سے پیش کیا جانے لگا۔

1280px-SuzukiSwift133

سوزوکی FX کی تیاری بند ہوجانے کے بعد خیبر ہی لوگوں کی توجہ کا مرکز رہی کیوں کہ پاک سوزوکی نے اس کی تشہیر پر کافی توجہ سے کام کیا تھا۔ گو کہ اس وقت سوزوکی مہران / آلٹو ہی کو “عام آدمی کی گاڑی” سمجھا جاتا تھا تاہم سوزوکی خیبر کو طویل ویل بیس کے باعث منفرد سمجھا جاتا ہے۔ ایک طرف اضافی ویل بیس کی بدولت خیبر میں نشستوں کو مسافروں کی منشا کے مطابق آگے پیچھے کرنے کی گنجائش تھی تو دوسری طرف 1000cc انجن نے بھی اسے ایک منفرد مقام دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ خیبر کی سب سے خاص بات اس کی مضبوطی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج تقریباً ڈیڑھ دھائی گزرجانے کے باوجود آج بھی استعمال شدہ خیبر کی خرید و فروخت جاری ہے۔ گزرے وقتوں میں ہمارے پاس بھی خیبر کا GA ماڈل تھا اور یقین جانیئے کہ اس نے ہمیں کبھی مایوس نہیں کیا۔ سخت سردی کی راتوں میں بھی صرف 2/3 بار کوشش سے خیبر کا کاربن انجن چل پڑتا تھا۔ طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی مجھے اپنے بچپن کی یہ گاڑی اکثر یاد آتی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ خیبر سے میرے بچپن کی کئی ایک یادیں وابستہ ہیں جبکہ دوسری وجہ یہ ہے کہ آج کی جدید گاڑیوں میں وہ مزہ نہیں کہ پرانے وقتوں کے انجن والی اس گاڑی میں آیا کرتا تھا۔ نصف شب کے دوران ہائی وے پر گاڑی دوڑاتے ہوئے میں اکثر اس گاڑی کو یاد کرتا ہوں کیوں کہ موجودہ دور کی گاڑیوں میں سفر کا وہ لطف نہیں آتا۔

یہ بھی پڑھیں: 90 کی دہائی میں مشہور ہونے والی سوزوکی خیبر سے متعلق اہم معلومات

آج بھی مجھے پاکستانی کار ساز اداروں کی حکمت عملی سمجھ نہیں آتی کہ انہوں نے اپنی بہترین گاڑیوں کو کیوں کر خیرباد کہا باوجودیکہ مناسب توجہ سے ان کا مستقبل بہت اچھا ثابت ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں گاڑیاں تیار کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ لوگ نئے اور بہتر ڈیزائن کی حامل گاڑیوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ البتہ پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو وہ میرے ہی موقف کی توثیق کرتے ہیں۔

khyber sales

اگر آپ یہ سوچ رہے کہ سوزوکی خیبر کی جگہ پیش کی جانے والی کلٹس اور آلٹو کی فروخت کہیں زیادہ ہے تو یہاں آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ گاڑیوں کی فروخت میں حالیہ اضافے میں بڑا کردار کار فائنانسنگ کا بھی ہے۔ سال 2004 میں مختلف اداروں بشمول بینک کی جانب سے گاڑیوں کی آسان اقساط پر فراہمی کی سہولت نے ان گاڑیوں کی اضافی فروخت میں زبردست کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ موجودہ دور میں تیار ہونے والی جدید گاڑیوں کا معیار بھی پرانی گاڑیوں کی نسبت کافی گھٹا ہوا ہے۔ پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ صارفین کو حفاظتی اور تفریحی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دیں نا کہ اپنے منافع کے لیے گاڑیوں کا معیار گھٹائیں جس سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہو۔

alto & cultus sales

اگر آپ بھی ماضی یا حال میں سوزوکی خیبر چلانے کا لطف اٹھا چکے ہیں تو ہم سے اپنی سہانی یادیں ضرور شیئر کریں۔

We all make mistakes in life but I believe in learning from them and that is why I have opted to become an auto-journalist. I have a tech background but I prefer to write and express my views on cars because I am petrol head.

Top