الوداع کزاشی: مہنگی ترین سوزوکی سیڈان کی فروخت بند کردی گئی!

suzuki kizashi

گزشتہ روز پاکستان میں مقامی سطح پر تیار کی جانے والی گاڑیوں سے متعلق تحقیق کرتے ہوئے مجھے پاک ویلز فورم پر ایک تھریڈ ملا۔ اس تھریڈ میں سوزوکی کزاشی سے متعلق گفتگو جاری تھی جس میں ایک رکن نے پاکستان میں کزاشی کی فروخت ختم کیے جانے کا امکان ظاہر کیا۔ اس کے علاوہ سوزوکی کی سالانہ رپورٹ دیکھتے ہوئے بھی میں نے محسوس کیا کہ پاک سوزوکی نے اپنی ویب سائٹ پر موجود گاڑیوں کی فہرست سے کزاشی کا نام نکال دیا ہے اور اب کزاشی کی تفصیلات اور قیمت بھی ویب سائٹ سے حذف کرلی گئی ہے۔

اس کی باضابطہ تصدیق کے لیے جب میں نے پاک سوزوکی میں رابطہ کیا تو انہوں نے ویب سائٹ سے کزاشی کو نکالنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں کزاشی کی محدود تعداد درآمد کی گئی تھی اور اب ادارہ اس کے مزید آرڈر نہیں لے رہا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سوزوکی کزاشی کا مستقبل – تابناک یا تاریک؟

یاد رہے کہ پاکستان میں جس وقت سوزوکی کزاشی پیش کی گئی تب دیگر ممالک میں اس کی تیاری بند ہوئے کئی سال بیت چکے تھے۔ میں کزاشی کے خلاف ہر گز نہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں نئی تیار شدہ گاڑیوں (CBU) کی درآمد کا تجربہ اچھا ثابت نہیں ہوا۔ اس کی ایک وجہ تو CBU پر عائد کیا جانے والا ٹیکس ہے جس سے ان گاڑیوں کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔

سوزوکی کزاشی کو پاکستان میں متعارف کروانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے سوزوکی کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سستی سوزوکی گاڑیوں کے علاوہ بھی کوئی پرتعیش اور مہنگی گاڑی پیش کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے انہوں نے کزاشی کو منتخب کیا۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ کزاشی کی پیشکش ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا کہ جس کا مقصد سوزوکی کو بہترین گاڑیاں بنانے والے اداروں کی فہرست میں شامل کرنا تھا۔ مزید برآں حال ہی میں پاک سوزوکی کی اشتہاری مہم بھی اسی مقصد کے حصول کی ایک اور کوشش تھی کہ جس میں کزاشی کو بہت نمایاں کیا گیا تھا۔ مہران، کلٹس، بولان اور راوی جیسی تاریخی گاڑیوں کے بغیر ویڈیو بنانے سے ہی سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا پاک سوزوکی ان گاڑیوں کی پیشکش کو قابل فخر نہیں سمجھتی کہ جو اسے سب سے زیادہ آمدنی فراہم کرتی ہیں؟

مزید پڑھیں: پاک سوزوکی کا نیا اشتہار – مقبول ترین گاڑیاں کیوں شامل نہیں؟

Suzuki_Kizashi

سوزوکی کزاشی کو بہت سی جدید سہولیات کے ساتھ متعارف کروایا گیا تھا جس میں ریموٹ کنٹرل، بٹن سے انجن اسٹارٹ کرنے کی سہولت، اسٹیئرنگ کنٹرولز، بارش کو محسوس کرنے والے وائپرز، پارکنگ سینسرز وغیرہ بھی شامل تھے۔ اس میں 2400cc انجن کے ساتھ 6-اسپیڈل مینول ٹرانسمیشن یا پھر CVT ٹرانسمیشن بمع پیڈل شفٹرز منسلک کیا گیا تھا۔ان تمام خصوصیات کی حامل سوزوکی کزاشی کی قیمت 50 لاکھ روپےرکھی گئی تھی۔

سوزوکی کزاشی سے متعلق مزید مضامین پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

We all make mistakes in life but I believe in learning from them and that is why I have opted to become an auto-journalist. I have a tech background but I prefer to write and express my views on cars because I am petrol head.

Top