سوزوکی ویگن آر اسٹنگرے – مقبول ترین جاپانی گاڑیوں میں سے ایک

suzuki-wagonr-stingray

سوزوکی ویگن آر کا شمار جاپان میں تیار کی جانے والی بہترین Kei کارز میں کیا جاتا ہے۔ سوزوکی موٹرز نے اسے 1993 میں متعارف کروایا تھا۔ اس کے نام میں شامل انگریزی حرف R کا مطلب ہے Recreation۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی مسافر گاڑی تھی کہ جسے ‘لمبے قد’ کا حامل بنایا گیا۔ موجودہ سال میں سوزوکی ویگن آر کی چوتھی جنریشن پیش کی جارہی ہے جسے ستمبر 2008 میں متعارف کروایا گیا تھا۔ اس گاڑی کے پچھلے دروازے خاصے بڑے بنائے گئے ہیں اور ان کا ایک چوتھائی حصہ شیشے پر مشتمل ہے جس کے باعث چوتھے ستون (D-pillar) کی ضرورت باقی نہیں رہی اور یوں گاڑی کے وزن نیز ایندھن کے اخراجات میں بھی واضح کمی آئی۔

سوزوکی ویگن آر کو 660cc انجن اور CVT یا مینوئل گیئر باکس کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ جاپان کی مقامی مارکیٹ کے تیار کی جانے والی دیگر گاڑیوں کی طرح سوزوکی ویگن آر اسٹنگرے کو بھی اگلی پہیوں (FWD) اور تمام پہیوں (AWD) کی قوت سے چلنے کی صلاحیت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ گو کہ دیگر ممالک میں اب سوزوکی ویگن آر کی پانچویں جنریشن بھی دستیاب ہوچکی ہے کہ جسے 2012 میں پیش کی گئی تھی تاہم پاکستان میں سوزوکی ویگن آر اسٹنگرے کی مقبولیت اب بھی خاصی زیادہ ہے۔ پاکستان میں سوزوکی ویگن آر 2013 اور 2014 ماڈل کی قیمت تقریباً 10,50,000 سے 12,50,000روپے ہے۔

ظاہری انداز
سوزوکی ویگن آر اسٹنگرے کا ظاہری انداز دیگر روایتی گاڑیوں سے کچھ مختلف ہے۔ اس کے اگلے حصے میں شامل گِرل پر کروم کا استعمال خاصہ نمایاں ہے۔ مجموعی طور پر اس کی سائز اور حجم دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ گاڑی کے اندر مسافروں اور سامان رکھنے کے خاصی گنجائش موجود ہے، اور یہ بات بالکل درست بھی ہے۔ سوزوکی ویگن آر اسٹنگرے کی لمبائی 3395 ملی میٹر، چوڑائی 1475 ملی میٹر اور اونچائی 1640 ملی میٹر ہے۔ اس کا مجموعی وزن 850 کلوگرام ہے جبکہ اسکا ویل بیس 2400 ملی میٹر پر محیط ہے جس سے نشستوں کے درمیان لیگ روم کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا جاپانی ویگن آر واقعی پاکستانی ویگن آر سے زیادہ اچھی ہے؟

اندرونی حصہ
عام خیال یہی ہے کہ جاپانی گاڑیاں ہماری مقامی گاڑیوں سے معیار میں بہت بہتر ہوتی ہیں لیکن یہ سوچ اس وقت مختلف رخ اختیار کرجاتی ہے کہ جب جاپانی گاڑیوں ہی کا آپس میں موازنہ کیا جائے۔ جاپان میں سوزوکی ویگن آر اسٹنگرے کا براہ راست مقابلہ ہونڈا N-وَن اور نسان ڈیز ہائی اسٹار سے ہے۔ سوزوکی اور نسان دونوں ہی کی گاڑیوں کا کیبن خاصہ ملتا جلتا ہے۔ مثال کے طور پر انفارمیشن کلسٹر ہی کو ملاحظہ کیجیے جو بہت ابھرا ہوا ہے اور ڈرائیور کو پہلی ہی نظر میں اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ پچھلی جانب فرش کو بالکل ہموار رکھا گیا ہے جس سے تین مسافروں کو بیٹھنے میں کافی سہولت میسر آسکتی ہے۔ آخر میں ڈیش بورڈ پر نظر ڈالیں تو یہاں آپ کو سیاہ اور نقرئی رنگ کا حسین امتزاج نظر آئے گا۔ اس میں ٹریکشن کنٹرول، سن روف یا کروز کنٹرول جیسی خصوصیات شامل نہیں ہیں۔ اگر اس گاڑی میں ڈرائیور اور مسافر نشستوں کے لیے الیکٹرانکلی ہیٹڈ نشستیں دستیاب ہوں تو یہ گاڑی اور بھی بہتر ہوجائے گی۔ لیکن اس کے باوجود بھی اسے برا سمجھنا بالکل غلط ہوگا۔

CVTگیئر لیور کو سینٹر کنسول میں دیا گیا ہے تاکہ ڈرائیور کو استعمال میں مشکل پیش نہ آئے۔کلائمٹ کنٹرول چلانے کے لیے ٹچ بٹن موجود ہیں۔ اس کے علاوہ گاڑی میں اگلی نشستوں کے لیے SRS ائیربیگز بھی دیئے گئے ہیں۔

انجن
اس گاڑی کی خاص الخاص چیزوں میں سے ایک اس کا انجن بھی ہے۔ سوزوکی نے ویگن آر اسٹنگرے میں 659cc انجن کے ساتھ ٹربوچارجڈ کی خصوصیت بھی شامل کی ہے جس سے اس کی رفتار کو بہت مدد ملتی ہے۔ یہ چھوٹا سا انجن 6000 آر پی ایم پر 54 بریک ہارس پاور فراہم کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ ایندھن کی بچت سے متعلق بات کریں تو یہ گاڑی ایک لیٹر یں 20 سے 22 کلومیٹر تک سفر کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک سوزوکی ویگن آر بمقابلہ درآمد شدہ ویگن آر – ایک مختصر جائزہ

wagonr-stingray-engine

حتمی رائے
مقامی تیار شدہ گاڑیوں کے برعکس جاپانی گاڑیوں کا معیار بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اس گاڑی کے لیے بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ سوزوکی ویگن آر اسٹنگرے کو چلانا بہت ہی لطف انگیز ہے۔ انجن بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے اور ٹربو کی شمولیت نے اس کی قابلیت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ گاڑی کا فرش (گراؤنڈ کلیئرنس) 140 ملی میٹر ہے جس کے باعث چھوٹے موٹے کھڈوں سے گاڑی بخوبی گزر پاتی ہے۔ اس کے باوجود ویگن آر میں بہتری کی گنجائش بدستور موجود ہے۔ ان میں سب سے اہم نشستوں کی اونچائی کم اور زیادہ کرنے کی سہولت ہے جو چھوٹے قد والوں کو گاڑی چلانے میں بہت مدد فراہم کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے سائز کے کپ ہولڈرز بھی دیئے جانے چاہیئں جسے دوران سفر بوتل وغیرہ رکھنے کے لیے استعمال کی جاسکے۔ گو کہ اس کا سیدھا اور سادھا ڈیش بورڈ بڑی عمر اور تجربکار ڈرائیوروں کے لیے بہت سہل سمجھا جاتا ہے تاہم ڈیش بورڈ کو تھوڑا خم دار کردیا جائے تو اس سے یقیناً نوجوان مداحوں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ کیا جاسکتا ہے۔


Top