سوئٹزرلینڈ نے ووکس ویگن کی ڈیزل گاڑیوں پر پابندی لگا دی

3500

ووکس ویگن طویل عرصے سے خبروں میں ہے اور یہ کسی اچھی وجہ سے نہیں بلکہ دھوکے بازی کے بدنما داغ کا کیا دھرا ہے جسے لوگ ووکس ویگن اسکینڈل یا ڈیزل گیٹ اسکینڈل کے نام سے پکار رہے ہیں۔ جرمن ادارے کی ڈیزل گاڑیوں میں ایسے سافٹ ویئر کا انکشاف ہوا تھا جس سے مضر صحت گیس کے اخراج کی سطح جانچنے کے نظام کو دھوکا دیا جاسکے۔

ڈیزل گیٹ اسکینڈل منظر عام پر آنے کے ساتھ ہی ادارے پر برے وقت کا آغاز ہوا۔ ووکس ویگن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کو مستعفی ہونا پڑا اور اس کے حصص کی مالیت بھی 50 فیصد گر چکی ہے۔ مزید ایک دھچکہ سوئٹزرلینڈ کی جانب سے ووکس ویگن کی یورو5 طرز کی گاڑیوں پر پابندی عائد کیے جانے پر لگا ہے۔

اس پابندی کے بعد ووکس ویگن کو ڈیزل انجن اور مشکوک سافٹویئر کی حامل گاڑیوں کی فروخت بند کرنا پڑے گی۔ اس میں آڈی، سکوڈا اور سیٹ کی تیار شدہ گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ ووکس ویگن کی 12 سو، 16 سو اور 2 ہزار سی سی ڈیزل انجن والی نئی گاڑیاں اس پابندی کی زد میں آئیں گی البتہ پہلے سے فروخت کی گئی گاڑیوں پر فی الحال کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ ووکس ویگن کی جانب سے 2004 سے 2014 تک 1,80,000 کے لگ بھگ گاڑیاں فروخت کی تھیں جن میں خفیہ سافٹویئر موجود ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔

ووکس ویگن کی جانب سے 7.27 ارب ڈالر بطور جرمانہ دینے کا وعدہ پہلے ہی کرچکا ہے تاہم امریکا کی جانب سے ممکنہ جرمانے کی مالیت 18 ارب ڈالر ہوسکتی ہے۔ نئے سی ای او متھیاس مولر نے ادارے کی سربراہی سنبھالتے ہوئے صارفین کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ

میری سربراہی میں ووکس ویگن ہر وہ کام کرے گی جس سے گاڑیوں کے شعبے میں لاگو قوانین پر عملدرآمد ممکن ہوسکے۔

Top