پاک وہیل خصوصی: پنجاب میں ایکسائیز کی بہتر ہوتی صورتحال پر جناب سلمان صوفی کے ساتھ ایک نشست۔

featured-image-talk-with-salman-sufi

رواں ماہ کے شروع ہوتے، میں نے پنجاب بھر میں جاری سواریوں کی رجسٹریشن اور ٹیکسیشن پراسیس کو ڈیجیٹلائیز اور آٹومیٹ کرنے سے پیدا ہونے والی مثبت تبدیلیوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب کے سٹراٹیجک ریفارم یونٹ کے ڈائیریکٹر جنرل جناب سلمان صوفی کے ساتھ انٹرویوء کا اہتمام کیا۔ جناب سلمان صوفی وزیراعلیٰ کے سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے کرتا دھرتا ہیں، علاوہ ازیں وہ حکومتی سطح پرصحت،تعلیم، پانی، لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال میں بہتری لانے کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں۔

لاء اینڈ آرڈر میں کچھ حیران کن تبدیلیاں عمل پیرا ہو چکی ہیں اور بہت سی اپنے آخری مراحل سے گزر رہی ہیں جن میں سپیشل مانیٹرنگ یونٹ بشمول وائیلینس اگینسٹ وومن سینٹر(وی۔اے۔ڈبلیو۔سی)،ماڈل گریویارڈز، خصوصی نمبر پلیٹس، کیمرہ اینٹیگریٹڈفائن کا اجراء اور بہت سی دوسری جدید تبدیلیاں شامل ہیں۔

talk-with-salman-sufi

ہمیں ’ڈی۔وی۔آر،ایس‘سسٹم سے متعلق کچھ بتائیں، یہ ہے کیا؟

 ’ڈی۔وی۔آر،ایس‘بنیادی طور پر ایکسائیز اور ٹیکسیشن میں ایک 180ڈگری کی شفٹ ہے جو کہ سپیشل مانیٹرنگ یونٹ نے پیش کی ہے۔یہ بنیادی طور پر ٹیکس جمع کروانے والے حضرات کو یہ سہولت فراہم کرتی ہے کہ وہ سواری خریدنے کے ساتھ ہی پلیٹس اور رجسٹریشن بھی کروا سکتے ہیں۔اس نظام کے تحت لوگوں کو لمبی قطاروں میں کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں،اور نہ ہی انہیں جلد از جلد اورعزت سے اپنا کام کروانے کے لئے ایجنٹوں کے پاس جا کرا نہیں رشوت دینے کی ضرورت ہے۔یہ عمل کچھ اس طرح ہو گا کہ جب آپ کوئی بھی موٹر سائیکل یا گاڑی خردنے جاتے ہیں، آپ کو رجسٹریشن کی تمام فیس موقع پرہی ادا کرنا اور نمبر پلیٹ حاصل کرنا ہو گی۔اس طرح آپ کی گاڑی روڈ لیگل ہو گی جیسے ہی آپ اسے خریدتے ہیں۔

ڈی۔وی۔آر،ایس‘سسٹم کے تحت آپ ابھی تک کتنی سواریاں رجسٹرڈ کروا چکے ہیں؟

ہم ابھی تک 7000سے زائد سواریاں رجسٹرکروا چکے ہیں، جن میں پنجاب بھر سے موٹر سائیکلز، گاڑیاں اور لوکل گاڑیاں شامل ہیں۔

کیا ’ڈی۔وی۔آر،ایس‘ابھی آزمائیشی دور میں ہے؟ اور ابھی تک پنجاب کے کتنے شہروں میں آپ یہ سسٹم لاگو کر چکے ہیں؟

 ’ڈی۔وی۔آر،ایس‘آزمائیشی طور پر کام نہیں کر رہا، اس کا افتتاح وزیر اعلیٰ پنجاب نے اکتوبر2016کو پنجاب بھر بشمول ملتان، فیصل آباد، اور سرگودھا میں کیا تھا۔اور ہم ’ڈی۔وی۔آر،ایس‘ڈیلرز کو صوبہ بھر میں پھیلانے کے لئے تیزی سے عمل پیرا ہیں۔

قانون کے مطابق کوئی بھی غیر ملکی گاڑی جو کہ پنجاب میں رجسٹرڈ ہو تی ہے اس پر لگثری ٹیکس واجب ہوگا۔ہم اس بات کر بخوبی سمجھتے ہیں کہ اس سے حکومت لوکل آٹو میکرز کا ساتھ دے رہی ہے، مگر مسئلہ یہاں آتا ہے کہ وہ حضرات جو غیر ملکی گاڑیاں رکھتے ہیں انہیں رجسٹریشن کے لئے اسلام آباد جانا پڑتا ہے۔ کیا اس سے  ’ڈی۔وی۔آر،ایس‘لائیسنس رکھنے والے ڈیلرز کی حوصلہ شکنی نہیں ہوتی؟

ہم اس ضمن میں پہلے سے ہی ایک قانون پاس کروا چکے ہیں، جو کہ پرووِنس نمبر پلیٹس کی ری رجسٹریشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس قانون کے تحت ہر وہ شخص جو پنجاب میں رہائیش پزیر ہو یا یہاں پر نوکری کرتا ہو، اس کا پنجاب کی رجسٹریشن پلیٹ رکھنا لازم ہے۔تو اب وہ لوگ جو پنجاب کی نمبر پلیٹ نہیں رکھتے ان پر لازم ہے کہ وہ دئیے گئے وقت سے پہلے ری رجسٹریشن کا عمل پورا کریں اور اپنی سواری کے لئے پنجاب لائیسنس نمبر پلیٹ حاصل کریں۔اس بڑھتی ہوئی تبدیلی سے، اسلام آباد میں رجسٹریشن کروانے کا رواج خودبخود ہی دم توڑ دے گا۔

اس امر کی آپ کس طرح تسلی کریں گے کہ ایک گاڑی جو کہ کسی اور صوبہ کی نمبر پلیٹ رکھتی ہے وہ 60دن سے زیادہ پنجاب میں نہیں رک سکتی؟

ہمارا اصل کام اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہم گاڑی کو روکتے ہیں، مثال کے طور پر ایک گاڑی جو کہ کراچی کا نمبر رکھتی ہے، ہم اس کی مکمل جانکاری سیدھا ایکسائیز اور ٹیکسیشن ڈیپارٹمینٹ کے مین ڈیٹابیس میں اپ لوڑ کرتے ہیں،جس تک تما م حکام کو رسائی حاصل ہے۔اس طرح جب ہم اس ڈیٹا تک رسائی کرتے ہیں تو تمام تر معلومات ہمارے سامنے آجاتی ہیں کہ آخری بار اس گاڑی کو کب روکا گیا تھا اور کب سے یہ اس صوبے میں ہے۔مثلاً ایک گاڑی جو کہ یکم جنوری2017کو روکی گئی اور اس شخص نے کہا کہ وہ پنجاب میں سیروتفریح کے لئے آیا ہے اور وہ دئیے گئے وقت سے پہلے یعنی 60دن میں وپس لوٹ جائے گا۔بعد میں جولائی2017،کو وہی گاڑی پنجاب میں نظر آتی ہے:  اس صورتحال کے پیشِ نظر گاڑی کے مالک کو بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ، ایکسائیز پلیٹس کا تعلق انفرادی طور پر شخص سے ہو گا۔اس کا حقیقت سے کتنا تعلق ہے؟

جی بالکل، نئے قانون کے مطابق، پلیٹس کا تعلق انفرادی طور پر شخص سے ہی ہو گا۔اس وقت جب آپ اپنی گاڑی فروخت کریں گے، آپ اپنی نمبر پلیٹس اتار لیں گے اور خریدار اپنی نئی پلیٹس کے لئے درخواست دے گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اب آپ کے تمام تر ٹریفک جرمانوں کا تعلق براہِ راست آپ کی سواری کی نمبر پلیٹ سے ہو گا اور آپ اپنے تمام تر واجبات ادا کرنے کے بعد ہی سواری فروخت کر سکیں گے۔

ایکسائیز اور دوسرے مطلوبہ ڈیپارٹمینٹس کے حکام کس طرح سڑک پر سے ایکسائیز اور ٹیکسیشن کے مین ڈیٹابیس تک رسائی حاصل کریں گے، جب تک کہ انہیں انٹر نیٹ میسر نہیں ہو گا؟

چیزیں اب کافی بدل چکی ہیں، تمام ایکسائیز حکام کو انٹرنیٹ والی ڈیوائیسز فراہم کی گئی ہیں اور ان کے فونز میں ایپ بھی انسٹال کی گئی ہے، جو کبھی بھی اور کہیں بھی کی بنیاد پر انہیں سواریوں کی معلومات مہیا کریں گی۔

کیا ہم مستقبل قریب میں اس ڈیجیٹلائیزیشن اور آٹوموٹِو وغیرہ کو پاکستان بھر میں دیکھنے کی امید کر سکتے ہیں، یا یہ سہولیات صرف صوبہ پنجاب تک ہی محدرد ہیں؟

ہم نے اسی حوالے سے صوبہ سندھ، کے۔پی۔کے۔،اور بلوچستان کی حکومتوں سے رابطہ کیا ہے۔بلکہ ہم نے انہیں حال ہی میں اپنی سالانہ ’ایم۔آر۔اے‘کانفرنس میں بھی مدعو کیا ہے اور اس بات کی ترغیب بھی کی ہے کہ وہ یہ منصوبہ ہم سے بنا کسی معاوضہ کے حاصل کر سکتے ہیں۔ہمیں اس پر مزید خوشی ہو گی کہ اگر وہ اس پر رضامندی کا اظہار کرتے ہیں اور اس منصوبے کو اپنے صوبوں میں لاگو کرتے ہیں۔

کیمرہ انٹیگریٹڈ ٹریفک  فائن کے حوالے سے، کئی افواہیں اڑ رہی ہیں کہ حال ہی میں جو کیمرے نصب کئے گئے ہیں وہ ایکسائیز سے جاری کردہ موجودہ نمبر پلیٹس کو سکین کرنے میں ناکام ہیں اور ڈیپارٹمینٹ ان کو نئی پلیٹس سے تبدیل کرنے جا رہا ہے، جس کے اخراجات ایک مرتبہ بھر عوام کو برداشت کرنا ہوں گے، ا س کے پیچھے کتنی سچائی ہے؟

اس کا حقیقت سے قطعاً کوئی تعلق نہیں،کیمراز نئی جاری کردہ پلیٹوں کے ساتھ مالکل درست طرح سے کام کر رہے ہیں ہاں بہتری کی گنجائیش ہمیشہ کہیں نہ کہیں ہوتی ہے۔ابھی ہم یونیورسل لائیسنس پلیٹس متعارف کروانے کے عمل میں ہیں، جو کہ شہری کوڈ یا سالانہ ٹیگ سے بالکل آزاد ہوں گی، درحقیقت پنجاب بھر میں پلیٹس کا ایک ہی میعار ہو گا۔

یہ بات بھی سننے میں آرہی ہے کہ سواریوں کے مالکان جو کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کریں گے وہ رجسٹریشن پلیٹ ڈیٹا کی مدد سے ہی پکڑ میں آجائیں گے اور ٹکٹس ان کے ایڈریس پر ارسال کر دی جائیں گی۔لیکن اگر مالکان اپنا پتہ تبدیل کرتے ہیں یا انہوں نے ابھی تک گاڑی اپنے نام ہی نہیں کروائی تو پھر کیا؟کون ان کا جرمانہ ادا کرنے کا روادار ہو گا؟

ہم نے پہلے سے ہی اس ضمن میں ایک نضام کی پیشکش کی ہے جس کے تحت تمام صوبوں کی معلومات ایک ہی جگہ مین ڈیٹا میں حاصل کی جائیں گی۔صوبہ سندھ پہلے سے اپنی معلومات ارسال کرنے پر رضامندی کا اظہار کر چکا ہے۔اس سے ہم یہ جان سکیں گے کہ آیا کون سی گاڑی ٹوکن ٹیکس جمع کروا رہی ہے ہے اور کون سی گاڑی نہیں، اور اسی کے نتیجہ میں ہم کارروائی کرنے کے قابل ہوں گے۔یہ ایک بہت ہی مشکل نظام ہے مگر اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہم اپنی تمام ترممکنہ کوششیں بروئے کار لا رہے ہیں۔

کیا پنجاب کے تمام شہروں سے رجسٹریشن ڈیٹا یکجا کیا جا چکا ہے؟

جی ہم ابھی تک پنجاب بھر کے 36اضلاع سے ڈیٹا یکجا کر چکے ہیں۔اب پنجاب میں جہاں کہیں بھی سواری رجسٹرڈ ہوتی ہے، ہم اس کی معلومات کہیں سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ہمیں خصوصی پلیٹس کے متعلق کچھ بتائیں جنہیں آپ عنقریب متعارف کروانے کا سوچ رہے ہیں۔

خصوصی نمبر پلیٹس کا قانون منظور ہو چکا ہے اور اس کا ٹھیکہ بھی ایک بین الاقوامی فرم حاصل کر چکی ہے۔یہ پلیٹس چھ سے سات ماہ تک دستیاب ہوں گی۔ خصوصی پلیٹس کے آرڈر کو لینے اور پہنچانے کی ذمہ دار ی اس فرم کی ہو گی۔ایکسائیز اور ٹیکسیشن ڈیپارٹمینٹ انہیں صرف نمبرز فراہم کرے گا۔یہ پلیٹس پاکستان بھر میں موزوں ہوں گی۔ آپ ان پلیٹس پر اپنا اور اپنی کمپنی کا نام بھی لکھ سکتے ہیں۔ مگر آپ کوئی بھی سیاسی، مذہبی، تکلیف دہ،یا انتشار پھیلانے والی چیز ان پر نہیں لکھ سکتے۔

 کیا حکومتِ پنجاب کوئی سہ ماہی ٹوکن ٹیکس پیمنٹ سسٹم کا تو نہیں سوچ رہی جیسا کہ سندھ میں بھی ہے؟

نہیں، اس کے دور دور تک کوئی آثار نہیں ہیں۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ شہریوں کے لئے زیادہ تکلیف دہ ہو گا، اس طرح انہیں بار بار ٹوکن ٹیکس جمع کروانے کی کشمکش میں مبتلا رہنا پڑے گا۔

کیا آپ کچھ ایسا کر رہے ہیں جوکہ گاڑی کے کاغذات جیسا کہ رجسٹریشن بک، فائل ٹرانسفر ڈےِڈ وغیرو کی

ضرورت کو ختم کر دے۔ایک دفعہ رجسٹرڈ ہو نے کے بعد؟

جی یہ ہمارا نیا پراجیکٹ ہے جس کا نام ایکسائیز 2.0ہے۔اس پراجیکٹ کے تحت ہم کاغذات کی شکل

والی رجسٹریشن بک کو  شناختی کارڈ کی طرز کے کارڈ میں تبدیل کر رہے ہیں۔ہم تمام تر کاغذات کو ایکٹرانک ڈیٹا میں تبدیل کر رہے ہیں۔مستقبل قریب میں،ایکسائیز ڈیپارٹمینٹ تمام سواریوں کے اصل کاغذات اپنے دفتر میں محفوظ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اسی کی بدولت سواریوں کے مالکان حضرات کاغذات سے چھٹکارہ حاصل کر سکیں گے۔

پنجاب بھر میں جعلی نمبر پلیٹس پر جاری سختی کے حوالے سے، کیا منصوبے کو کم جارحیت پسند نہیں ہو نا چاہیے،

جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایکسائیز حکام سڑکوں پر جعلی نمبر پلیٹ رکھنے والی گاڑیوں کے مالکان کی ویڈیوزبنا رہے ہیں۔کیا یہ اخلاق کے دائرے سے باہر نہیں؟

ایکسائیز کے حکام کو لوگوں کی ویڈیوز بنانے کی کسی طور اجازت نہیں ہے۔ سوائے جعلی نمبر پلیٹس کی وہ بھی ثبوت کے طورپر۔اس سے ہمیں ان لوگوں کو پکڑنے میں مدد ملتی ہے جنہوں نے ایکسائیز حکام کے بار بار کہنے کے باوجود بھی کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس کے لئے درخواست نہیں دی۔

اور اگر کوئی لوگوں کی ویڈیوز بنا رہا ہے اور آپ لوگوں کے پاس اس کا کوئی بھی تصویری ثبوت ہے تو اسے ہمارے ساتھ ضرور شیئر کریں تا کہ ہم ان کے خلاف سختی سے پیش آ سکیں۔

جناب سلمان صوفی سے یہ تفصیلی بات چیت اپنے اندر بہت سی معلومات رکھتی تھی جنہوں نے مجھے اس گہری سوچ اوربہتری کی جہت دی جس کی توقع آنے والے دنوں میں وہیکل رجسٹریشن، ٹیکسیشن اور ٹرانسفر سسٹم کے حوالے سے پنجاب حکومت سے کی جا رہی ہے۔مجھے بھروسہ ہے کہ حکومتِ پنجاب یقینی طورپر لاقانونیت کے خلاف اس جنگ میں سرخرو ہو گی اور پنجاب بھر میں تحفظ اور سیکیورٹی کو یقینی بنائے گی۔

Sameer Akbar Malik

Sameer has vast experience in content production and editing across diverse platforms that include digital, print and video. He holds a degree in English Literature from University of the Punjab.

Top