پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی ٹیکس؛ حکومت سے رعایت کی امید فضول ہے!

land-based-oil-drilling-rig

گزشتہ ماہ حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 روپے تک کمی کا اعلان کیا تھا جس کا اطلاق یکم فروری 2016 سے ہوگا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ترین شرح پر پہنچ چکی ہیں جس کے بعد امید کی جارہی تھی کہ ان مصنوعات میں 13 روپے تک کمی کی جائے گی تاہم ایسا کچھ نہ ہوا۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارت خزانہ کے درمیان قیمتوں کے تعین کے لیے متعدد ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ پہلے پہل یہ سنا گیا کہ پیٹرول کی قیمت 40 روپے تک لے جانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں تاہم یہ محض ایک افواہ ہی ثابت ہوئی۔ جب اعلان ہوا تو خبر ہوئی کہ پیٹرولیم مصنوعات پر قیمتیں کم کیے جانے کے بجائے ان پر عائد ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

حکومت نے ہائی–ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 50 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی پیٹرولیم مصنوعات پر لگایا جانے والا سب سے زیادہ ٹیکس ہے۔ ماہ دسمبر میں اعلان کی گئی نئی قیمتوں کے بعد جنوری 2016 میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں یہ تھیں:
پیٹرول: 76.26 روپے فی لیٹر
ہائی آکٹین: 80.66 روپے فی لیٹر
مٹی کا تیل: 48.25 روپے فی لیٹر
لائٹ اسپیڈ ڈیزل : 44.94 روپے فی لیٹر
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 80.70 روپے فی لیٹر

رواں ماہ کے آغاز سے قبل توقع کی جارہی تھی کہ پیٹرول کی قیمت میں 9 روپے، ہائی آکٹین کی قیمت میں 13 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8.74 روپے فی لیٹر کمی کی جائے گی۔ سال کی پہلی ششماہی کے دوران زرعی شعبے میں ڈیزل کی بڑھتی ہوئی طلب کو دیکھتے ہوئے قیمتوں میں ممکنہ کمی کا سب سے زیادہ فائدہ اسی شعبے کو ہونے کا امکان تھا۔ تاہم گزشتہ ماہ کے آخر میں اوگرا کی جانب سے پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں صرف 10 فیصد کمی کی تجویز پیش کی گئی۔ اس اعتبار سے پیٹرول پر 7.56 روپے، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور ہائی آکٹین پر 10.15 روپے جبکہ مٹی کی تیل پر 8.17 روپے کمی ہونا تھی۔ تاہم حکومت نے اس تجویز کر بھی مسترد کرتے ہوئے قیمت میں محض 5 روپے کمی کا حتمی فیصلہ سنایا گیا۔

اس اعلان کے بعد پیٹرول مصنوعات کی تازہ قیمتیں درج ذیل ہیں:
پیٹرول: 71.26 روپے فی لیٹر
ہائی آکٹین: 75.66 روپے فی لیٹر
مٹی کا تیل: 43.25 روپے فی لیٹر
لائٹ اسپیڈ ڈیزل : 39.94 روپے فی لیٹر
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 75.70 روپے فی لیٹر

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس؛ عوام پر شدید معاشی بوجھ کے مترادف

علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد جنرل سیلز ٹیکس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
پیٹرول: 14.48 روپے فی لیٹر
ہائی آکٹین: 18.57 روپے فی لیٹر
مٹی کا تیل: 10.40 روپے فی لیٹر
لائٹ اسپیڈ ڈیزل : 9.63 روپے فی لیٹر
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 29.57 روپے فی لیٹر

عالمی منڈی میں خام تیل 12 سال کی کم ترین قیمت پر آچکا ہے۔ گزشتہ چار، ساڑے چار سال (2010 تاوسط 2014) کے دوران خام تیل کی قیمت 110 ڈالرز پر منجمد تھیں۔ تاہم جون 2014 کے بعد سے اس میں کمی آنا شروع ہوئی اور آج خام تیل کی قیمت میں 60 فیصد کمی آچکی ہے۔

اس شدید کمی کے پیچھے دو عوامل کار فرما ہیں۔ اول یہ ریاستہائے متحدہ امریکا نے تیل کی پیداوار میں اضافہ کردیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت امریکا پہلے سے دوگنا زیادہ تیل نکال رہا ہے۔ اس کی دوسری وجہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی انجمن اوپیک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی کے امکان کو رد کرنا ہے۔ سعودی عرب اس وقت سب سے زیادہ تیل نکالنے والے اداروں میں سرفہرست ہے۔ امریکا کی جانب سے اضافی پیداوار کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب نے بھی تیل نکالنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا جس سے عالمی سطح پر خام تیل کی رسد میں اضافہ اور قیمتوں میں کمی آرہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سعودی عرب تیل پیدا کرنے والی امریکی کمپنیوں کو مقابلے سے باہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کسی بھی دوسرے کاروبار کی طرح تیل کی پیداوار پر بھی سرمایہ خرچ ہوتا ہے اور اگر کسی ادارے کے اخراجات اس کے منافع سے بڑھ جائیں تو وہ زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکتا۔ موجودہ حالات دیکھتے ہوئے یہی محسوس ہوتا ہے کہ جلد امریکی ادارے ہتھیار ڈال دیں گے اور امریکا میں 40 اداروں کے دیوالیہ ہوجانے سے اس کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔

دوسری جانب روس بھی پہلے سے زیادہ تیل پیدا کر رہا ہے۔ تیل کی پیداوار میں ممالک نائجیریا، کینیڈا، ونزویلا اور دیگر نے بھی مارکیٹ میں تیل کی فراہمی جاری رکھی ہوئی ہے۔ غرض کہ عالمی منڈی میں طلب سے کہیں زیادہ تیل موجود ہے لیکن ترقی پذیر ممالک میں تیل کے استعمال میں کمی اور بغیر ایندھن چلنے والی گاڑیوں کی آمد سے تیل کی طلب میں واضح کمی آرہی ہے۔ صورتحال دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر تک پہنچنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ سعودی عرب کا موقف ہے کہ قیمتوں میں توازن کے لیے اگر انہوں نے تیل کی پیداوار میں کمی کی تو یہ ان کے مقابلے میں موجود اداروں کو اس شعبے میں بالادستی قائم کرنے کا موقع دینے جیسا ہوگا۔ اوپیک میں شامل نسبتاً کم تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے بارہا مذکورہ ممالک سے تیل کی پیداوار میں کمی کی درخواست کی جاتی رہی ہے تاہم اس پر اب تک کسی کی جانب سے مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔

پاکستان میں سال 2006 سے قبل پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں توازن برقرار رکھا گیا۔ اس سال پیٹرول کی قیمت 58 روپے فی لیٹر تک جاپہنچی جو سال 2004 میں 37 روپے اور اس سے بھی پہلے سال 2000 میں 30 روپے تھی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوسرا قابل ذکر اضافہ سال 2012 میں ہوا کہ جب پیٹرول کی قیمت 108 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 114 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی۔

ایک عام پاکستانی اگر کم قیمت ایندھن پر گاڑی یا موٹر سائیکل چلانا چاہتا ہے تو پھر اسے اپنی خواہش ترک کردینی چاہیے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے 44 فیصد ٹیکس پیٹرولیم مصنوعات کے ذریعے ہی حاصل کیا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس شعبے پر حکومت کا انحصار بہت زیادہ ہے اور وہ مستقبل قریب میں اس پر کسی قسم کا سمجھوتا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

Top