ہنڈئ کی پاکستان میں واپسی کی مکمل کہانی

hyundai

پاکستان کی سب سے مربوط ٹیکسٹائل ملز نشاط ملز لمیٹڈ نے جمعہ ٣ فروری ٢٠١٧ کو ہنڈئ موٹر کارپوریشن کے ساتھ ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے اور اعلان کیا کہ ہنڈئ موٹرز پاکستان میں اپنی گاڑیاں اسیمبل کرنے کا پلانٹ لگائے گی۔ یہ مشترکہ منصوبہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے ایک خط کے مطابق، ملک میں مسافر اور 1 ٹن رینج کی تجارتی گاڑیاں پیدا کرے گا۔
اس خط میں واضح لکھا ہے کہ یہ معاہدہ تمام قانونی اور متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹیز کی منظوری سے مشروط ہے۔ اس کے برعکس نشاط ملز کے شیئرز کی قیمت ایک ہی دن میں دو پوائنٹ اضافہ کے ساتھ 169.52 روپے پر بند ہوئی جبکہ کے ایس ای 110 پواینٹس اضافہ کے ساتھ 49555 کی سطح عبور نہ کر پایا۔ مزید یہ کہ نئی آٹو پالیسی کے اعلان کے بعد بہت سے ممکنہ سرمایہ کاروں نے اس ایونیو کو پرکھنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ پاک چین اقتصادی راہداری کی اہمیت کے ساتھ مل کر اس نے بہتری کی رفتار مزید تیز کر دی ہے۔ اس بات کے ثبوت کے لیے چند مثالیں درج زیل ہیں۔

١۔ لکی سیمنٹ نے اعلان کیا کہ وہ کیا موٹرز کارپوریشن کے ساتھ مل کر ملک میں کار پلانٹ لگانے کے لیے 12 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔
٢۔ نومبر 2016 میں فرانسیسی کار ساز ادارے رینالٹ نے ملک میں گاڑیاں بنانے کی فیکٹری لگانے کے لیے سرمایہ کاری پر آمادگی کا اظہار کیا۔ جس کی پیداوار کا آغاز 2018 میں متوقع ہے۔

اس موقع پر یہ بتانا انتہائی ضروری ہے کہ ہنڈئ موٹرز کی پاکستان میں واپسی اور کیا موٹرز کی لانچنگ پاکستان میں جمود کا شکار آٹو انڈسٹری کے زمینی حقائق تبدیل کر سکتا ہے۔ تجزیہ کار ان مثبت تبدیلیوں کے تسلسل کا سہرا موجودہ حکومت کے سر سجاتے ہیں جس نے نئے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے منافع بخش فوائد اور مراعات سے بھرپور نئی آٹو پالیسی لانے میں دو سال سے زائد کا عاصہ لگا دیا۔ اس نئی حکمت عملی کا مقصد سرمایہ کاروں کی لوکل مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ جہاں فی الوقت صرف تین جاپانی کارساز چھائے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں اوسط 1000 افراد کے پاس صرف 13 گاڑیاں ہیں جو کہ ہمارے خطے کی اوسط 162 افراد سے انتہائی کم ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم مڈل کلاس اور قابل تصرف آمدنی کو بڑھا کر اور شرح سود کو کم کر کے بڑے پیمانے پر ترقی کر سکتے ہیں۔

Top