CNG اسٹیشنز پر اضافی رقم کی وصولی اور ہماری لاپرواہی

A Pakistani employee of a service statio

آپ ایک CNG اسٹیشن پر سلینڈر بھروانے کے لیے موجود ہیں۔ آپ کی خواہش کے عین مطابق سلینڈر بھرا جاتا ہے جس کے 447.15 روپے بنتے ہیں۔ لیکن CNG پمپ کا خزانچی آپ سے 450 روپے لیتا ہے۔ آپ چونکہ بڑی سی گاڑی میں ہیں اس لیے اپنے ہی ڈھائی روپے طلب کرنے میں توہین محسوس کرتے ہیں۔ ایسا صرف آپ ہی نہیں کرتے بلکہ عام طور پر صارفین کی یہی سوچ ہوتی ہے کہ وہ 1 یا 2 روپے کے سکے کو بوجھ سمجھتے ہوئے اسے CNG اسٹیشن پر ہی بخش آتے ہیں۔

پچھلے دونوں اپنی گاڑی میں CNG سلینڈر بھروانے گیا۔ سلینڈر بھرنے پر مجھ سے 372 روپے طلب کیئے گئے۔ جواب میں 500 کا نوٹ آگے بڑھا دیا لیکن مجھے صرف 120 روپے واپس کیے گئے۔ میں نے خزانچی صاحب کو بلایا اور ان سے باقی 8 روپوں کی بابت دریافت کیا۔ جواباً انہوں نے کہا کہ ان کے پاس سکے نہیں ہیں۔ تھوڑی بحث کے بعد انہوں نے بمشکل 5 روپے واپس کیے اور اضافی 3 روپے دینے سے انکار کردیا۔

چونکہ عام طور پر لوگ چند روپوں کی خاطر بحث مباحثے سے بچتے ہیں اس لیے اسٹیشن مالکان بے دھڑک لوگوں سے اضافی رقم وصول کرتے ہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر مجموعی رقم 348 روپے بنیں تو یہ بے شرمی سے 350 روپے وصول کرتے ہیں لیکن اگر یہی رقم 352 ہو تو 2 روپے چھوڑنے کے بجائے 355 روپے ہی وصول کرتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ لوگ اس پر کسی قسم کا بھی ردعمل ظاہر نہیں کرتے اور اپنی حلال کمائی یونہی اڑا دیتے ہیں۔

60e38a8acf7efd5909b3d063894a8e94

اس پر کسی اور مضمون میں بات کریں گے کہ حکومت نے 1994 میں پیسے اور آنے کا استعمال ترک کیے جانے کے باوجود اب تک پیٹرول اور سی این جی کی قیمتوں میں پیسے کیوں شامل کر رکھے ہیں؟ اس وقت یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارے چھوڑے جانے والے چند روپوں سے CNG اسٹیشن کے مالکان کس قدر منافع سمیٹ رہے ہیں۔

فرض کرلیں کہ کسی CNG اسٹیشن پر ایک ڈسپنسر سے فی گھنٹہ 16 گاڑیوں کے سلینڈر بھرے جاتے ہیں۔ اگر ہر گاڑی والا تقریباً 2.5 روپے اضافی چھوڑتا ہے تو ایک ڈسپنسر سے فی گھنٹہ 40 روپے اضافی رقم جمع ہوگی۔ اگر CNG اسٹیشن ایک دن میں 16 گھنٹے تک کام کرتا ہے تو ایک ڈسپنسر سے 2,560 روپے اضافی جمع کرلیتا ہے۔ اس طرح صرف ایک ڈسپنسر سے پورے مہینے میں (2560×30) مجموعی طور پر 76,800 روپے اضافی بن جاتے ہیں۔

یہ معاملہ اوپر چھوڑے جانے والے چند پیسوں کا نہیں ہے بلکہ اس اختیار کا ہے جس کی رو سے کسی صارف کو اضافی پیسے دینے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن CNG مالکان کی اس غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکت کو روکنے کے لیے کوئی بھی سرکاری قانون نافذ کرنے والا ادارہ آگے نہیں بڑھے گے؛ یہ ‘ہم’ ہی ہیں کہ جنہیں کوئی قدم اٹھانا ہوگا۔ اگر ہم میں سے ہر شخص ایک روپیہ بھی ان CNG اسٹیشن والوں کو اضافی دینے سے انکار کردے تو یہ خود ہی راہ راست پر آجائیں گے۔

اس بات سے انکار نہیں کہ چند ایسے CNG اسٹیشنز بھی موجود ہیں جو صارفین سے بالکل جائز قیمت ہی وصول کرتے ہیں اور انہوں نے صارفین کو اضافی قیمت ادا نہ کرنے کے لیے ہدایت نامے بھی آویزاں کر رکھے ہیں۔ لیکن ایسے اسٹیشنز کی تعداد بہت کم ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ آیا یونہی اپنی حلال کمائی سے منافع خور طبقے کو خوش کرتے رہے ہیں یا پھر بغیر کسی شرمندی اپنا جائز حق مانگیں۔

Usman Ansari

An automotive enthusiast associated with the animation industry since 15 years having worked with leading organizations and production facilities across Pakistan.

Top