سوزوکی سیاز سیڈان سے متعلق 5 دلچسپ اور اہم نکات

maruti_suzuki_ciaz_one_third_left_view_640x480

پاکستان میں سوزوکی سیاز کی پیشکش اب زیادہ دور نہیں ہے۔ آج ہم سوزوکی سیاز سے متعلق پوچھے گئے سوالوں کے جوابات اور دیگر اہم نکات پر بات کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ پاک ویلز کے قارئین اس مضمون کے ذریعے موجودہ صورتحال میں پاک سوزوکی کی حکمت عملی اور پیش رفت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔ مزید وقت ضائع کیے بغیر آئیے براہ راست سوزوکی سیاز سے متعلق اہم ترین نکات پر نظر ڈالتے ہیں۔

1) برانڈ سے وابستہ تاثر میں تبدیلی
نئی آٹو پالیسی نے موجودہ کار ساز اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں نئے ماڈل متعارف کروائیں۔ اس صورتحال میں پاک سوزوکی نے زبردست حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حکومت عملی کا ایک اہم مقصد پاکستان میں سوزوکی کے نام سے منسوب غیر معیاری گاڑیوں کا تاثر ختم کر کے مثبت نظریہ پیش کرنا ہے۔ سوزوکی کزاشی کی پیشکش اور پھر گزشتہ ماہ سوزوکی ویتارا کو متعارف کروائے جانے کا مقصد بھی یہی معلوم ہوتا ہے اور اسی لیے سوزوکی سیاز کی آمد بھی اس سلسلے کی ایک کڑی سمجھی جاسکتی ہے۔

2) سیڈان کی مارکیٹ میں دوبارہ شمولیت
بہت سے ذرائع بیان کر رہے ہیں کہ پاکستان میں سوزوکی سیاز کے دو ماڈلز متعارف کروائے جاسکتے ہیں۔ یہ دونوں ماڈل 1400cc پیٹرول انجن کے حامل ہوں گے اور ان میں مینوئل اور آٹومیٹک گیئر باکس کا انتخاب دستیاب ہوگا۔ سوزوکی مرگلہ کے بعد سوزوکی سیاز کے ذریعے پاک سوزوکی ایک مرتبہ پھر چھوٹی-سیڈان مارکیٹ میں قدم رکھنے جارہا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ اس مرتبہ کی کوشش بارآور ثابت ہوگی۔

3) مسابقتی قیمت
سہولیات، قدر و قیمت اور انجن کو ایک طرف رکھ بات کریں تو دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں لوگوں کی اولین ترجیح “بعد از استعمال اچھی قیمت پر فروخت” کرنا ہوتی ہے۔لہٰذا یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ آیا آنے والی نئی گاڑی کو پاکستان میں مقبولیت حاصل ہوسکے گی بھی یا نہیں تاقتیکہ وہ یہاں کچھ عرصہ نہ گزار لے۔ شعبے کے ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں سوزوکی سیاز کو 17 سے 19 لاکھ روپے میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ بظاہر تو ایسا ہوتا مشکل نظر آرہا ہے تاہم CBU ہونے کے باعث اگر اس گاڑی کی یہی قیمت رکھی گئی تو یہ واقعی کافی دلچسپ رہے گی۔ پاکستانی مارکیٹ میں چونکہ بعد از استعمال اچھی قیمت پر فروخت کو اہمیت دی جاتی ہے اس لیے پاک سوزوکی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مناسب قیمت پر اس کو فروخت کرے اور بعد از فروخت صارفین کو بہترین خدمات کی فراہمی بھی یقینی بنائے۔

4) مارکیٹ سے ناشناسی
سوزوکی کزاشی کو متعارف کروائے جانے کے فیصلے پر پاک سوزوکی کو زبردست تنقید کا سامنا کرنا پڑا جبکہ حقیقت میں یہ ادارہ بیرون ملک سے منگوائی گئی تمام ہی گاڑیاں فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال سوزوکی ویتارا کے ساتھ بھی درپیش ہے کہ جسے چند ہفتوں قبل ہی پاکستان میں متعارف کروایا گیا ہے۔ گو کہ ابھی ویتارا کو یہاں پیش کیے بہت مختصر عرصہ ہوا ہے، تاہم اسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ پاک سوزوکی اب معیاری گاڑیاں پیش کرنے کی طرف گامزن ہے۔ ایک حقیقت جس سے انحراف ممکن نہیں وہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ سیدھی اور بہت عام سی گاڑیاں ہی جلد مقبولیت حاصل کرتی ہیں۔ اس کی ایک مثال سوزوکی مہران کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔اب اہم سوال یہ ہے کہ “ادارے کی نئی حکمت پر عوامی ردعمل کیا ہوگا؟”

5) CBU صرف امیروں کے لیے
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پاک سوزوکی کو بیرون ممالک سے سوزوکی سیاز منگوا کر فروخت کرنے کے بجائے اسے ملک ہی میں تیار کر کے متعارف کروانی چاہیے۔ تاہم ادارے کا موقف یہ ہے کہ وہ نئی گاڑیوں پر عوامل ردعمل دیکھنے کے بعد ہی ان کی مقامی سطح پر تیاری کا آغاز کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے۔تو کیا یہ سمجھنا درست ہے کہ یہ نئی گاڑیاں امیروں ہی کے لیے ہیں؟ سادہ جواب ہے کہ جی ہاں۔ ادارے کی جانب سے برانڈ کا تاثر بہتر بنانے کی حکمت عملی کا خمیازہ پاک سوزوکی کے صارفین کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔


Top