بندرگاہ پر ہزاروں درآمد شدہ گاڑیاں کا ازدحام


حکومت نے ایس آر او 1067(1)/2017 جاری کر کے درآمد کنندگان کے لیے بندرگاہ سے کلیئرنس حاصل کرنا بہت مشکل بنا دیا ہے۔ اس کے سبب حکومتی حکام اور استعمال شدہ گاڑیوں کے مقامی درآمد کنندگان کے درمیان تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق ملک کے تجارتی خسارہ کو روکنے کے لیے ایس آر او لاگو کیا گیا ہے کیونکہ ملک میں بے شمار مصنوعات بشمول گاڑیوں کی  بڑے پیمانے پر درآمد سے معاشی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔

گزشتہ سال 6 اکتوبر کو کابینہ کی اقتصادی تعاون کمیٹی (ای سی سی) نے منظوری دی تھی کہ وہ تمام درآمدی گاڑیاں جو رہائش کی منتقلی، ذاتی استعمال یا تحفہ سکیم کے تحت منگوائی جائیں گی ان پر ڈیوٹی اور ٹیکس بھی بیرون ملک سے ہی آئے گا جس کے بعد پاکستانی شہری یا مقامی وصول کنندگان غیر ملکی کرنسی کو مقامی کرنسی میں تبدیل کر کے بنک سرٹیفیکیٹ کے ساتھ  پیش کریں گے۔

حکومت نے  ذاتی استعمال، تحفہ اور رہائش کی منتقلی جیسے درآمدی اسکیموں پر سختی کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان منصوبوں کو بیرون ملک پاکستانی نہ صرف تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں جس کے سبب معیشت پر منفی اثرات ہو رہے ہیں۔

موجودہ تنازع اس وقت شدت پکڑ گیا جب مقامی درآمد کنندگان نے بندرگاہ سے اپنی گاڑیاں کلیئر کروانے سے انکار کر دیا اور اس وجہ سے بندرگاہ پر گاڑیوں کا ازدحام لگ گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت بندرگاہ پر 6 سے 7 ہزار گاڑیاں موجود ہیں اور درآمدی کرنے والوں نے مطالبہ کر رکھا ہے جب تک حکومت اپنی نئی پالیسی واپس نہیں لیتی تب تک وہ اپنی گاڑیاں بندرگاہ سے نہیں اٹھائیں گے۔

اس ہنگامے کے بعد وزارت تجارت نے اقتصادی تعاون کمیٹی (ای سی سی) کو تجویز دی ہے کہ جو گاڑیاں  9 جنوری 2018 سے پہلے منگوائی جا چکی تھیں انہیں ڈیوٹی کے پرانے ڈھانچے پر کلیئر کر دیا جائے۔


فنانس، ریونیو اور  اقتصادی معاملات کے مشیر ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے  یہ تجویز قبول کر لی ہے۔ لہذا اب جن لوگوں نے ایس آر او  جاری ہونے سے پہلے گاڑیاں درآمد کرلی تھیں انہیں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ علاوہ ازیں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ صرف 28 فروری 2018 کے بعد درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر ہی ایس آر او کو لاگو کیا جائے تاکہ ایسے درآمد کاروں کو اپنی ڈیوٹیز کو ایکسچینج کی بلند شرح پر ادا کرنا پڑے۔ اس تجویز کے باوجود، بندرگاہ کی حالیہ تصویروں سے نہیں لگ رہا کہ اس کا کوئی خاص فائدہ ہو رہا ہے کیونکہ بندرگاہ پر گاڑیوں کا اب بھی  ہجوم اب تک موجود ہے اور کلیئرنس کا منتظر ہے۔

حکومت کو فوری طور پر معاملہ حل کرنے کے لیے کچھ کرنا چاہیے کیونکہ اس تنازع میں سب سے زیادہ نقصان صارفین کا ہو رہا ہے جو اپنی گاڑی کو حاصل کرنے کے منتظر ہیں۔

cars stuck at karachi port (6)

cars stuck at karachi port (5)


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top