رواں ماہ پاکستان میں پیش کی جانے والی تین اسپورٹس یوٹیلٹی وہیکلز (SUVs)


گزرے عشرے اور اس کے بعد سے کراس اُووَر گاڑیوں کی مقبولیت میں بتدریج تیزی نظر آرہی ہے۔ گاڑیاں بنانے والے سب ہی کار ساز ادارے اسپورٹس یوٹیلٹی وہیکل (SUV) کے میدان میں قدم رکھ چکے ہیں۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی SUV طرز کی گاڑیوں کا رجحان تیزی سے پنپ رہا ہے جس کی ایک مثال ہونڈاوزل کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ جاپان سے وزل کی بڑھتی ہوئی درآمد نے ہونڈا ایٹلس کو ہونڈا HR-V متعارف کروانے پر مجبور کردیا۔ تاہم ہونڈا HR-V کو اضافی قیمت اور محدود سہولیات کے باعث ویسی کامیابی حاصل نہ ہوسکی جیسا کہ ہونڈا وزل کو مل چکی ہے۔ اس کے علاوہ آوڈی پاکستان کی جانب سے کم قیمت Q2 کراس اوور متعارف کروانے کا اعلان بھی قابل ذکر ہے۔ خریداروں کی کراس اوورز گاڑیوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں بھی یہ زمرہ تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ گو کہ نئی آٹو پالیسی نے متعدد غیرملکی اداروں اور نئے سرمایہ کاروں کو بہترین کاروباری مواقع فراہم کردیئے ہیں تاہم اس سے ملک میں گاڑیاں تیار کرنے والے ادارے بالخصوص پاک سوزوکی سخت نالاں نظر آتا ہے۔ بہرحال، حوصلہ افزا خبر یہ ہے کہ اب پاک سوزوکی نے بھی خواب غفلت سے بیدار ہونے اور سوزوکی ویتارا کے ذریعے SUV زمرے میں قدم رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پاک ویلز کو ذرائع سے حاصل ہونے والی خبریں اور تصاویر اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ سوزوکی ویتارا کا پہلا قافلہ کراچی کی بندرگاہ پر پہنچ چکا ہے۔

ٹویوٹا ہائی لکس ریوُو

پاکستان میں ٹویوٹا گاڑیاں تیار اور فروخت کرنے والے ادارے انڈس موٹر کمپنی نے 14 نومبر سے نئی ہائی لکس ریوُو کی بکنگ شروع کردی ہے۔ تاہم نئی ٹویوٹا ہائی لکس ریوو کی باضابطہ طور پر متعارف کروائے جانے سے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹویوٹا ہائی لکس کی تعارفی تقریب رواں ماہ (دسمبر 2016) میں منعقد کی جائے گی۔ نئی ہائی لکس کو ان ماڈلز میں پیش کیا جائے گا:
– ریوُو V گریڈ (تمام خصوصیات بمع آٹومیٹک گیئرباکس)
– ریوُو G گریڈ (مینوئل اور آٹو میٹک گیئر باکس)
– E گریڈ (مینوئل گیئر باکس)
– سنگل کیبن 4×2 اور 4×4
– ڈیکلیس

ہائی لکس ریوُو 4×2 ماڈل میں بدستور 2500cc (2KD) انجن کے ساتھ 5-اسپیڈ گیئر باکس پیش کیے جائیں گے جبکہ 4×4 ماڈل 3000cc (1KD-FTV) ڈیزل انجن بمع VNT کے ساتھ دستیاب ہوں گے۔ 4×4 میں 5-اسپیڈ آٹومیٹک اور 6-اسپیڈ مینوئل گیئر باکس میں سے انتخاب کا موقع بھی ہوگا۔ یہ 3000cc ڈیزل انجن 3400 آر پی ایم پر 163 ہارس پاور فراہم کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ ٹارک کی اگر بات کریں تو مینوئل گیئر کے ساتھ 343 نیوٹن میٹر جبکہ آٹو میٹک گیئر کے ساتھ 360 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرسکتا ہے۔

ہائی لکس کے تمام ماڈل کی پیمائش یکساں ہوگی اور سیاہ انٹیریئر کے ساتھ پیش کیے جائیں گے جبکہ ریوُو ماڈل کی چوڑائی زیادہ ہوگی اور انہیں دو رنگی (سیاہ اور کانسی) کے رنگ میں پیش کیا جائے گا۔ نئی ہائی لکس ریوو کے ماڈل کی ممکنہ قیمتیں یہ ہیں:

ٹویوٹا ہائی لکس ریوو 4×4
ریوو G مینوئل – قیمت 37,49,000 رپے
ریوو G آٹومیٹک – قیمت 39,49,000 روپے
ریوو V آٹومیٹک – قیمت 41,99,000 روپے

ٹویوٹا ہائی لکس 4×4
ہائی لکس E (ڈبل کیبن) – قیمت 35,49,000 روپے
ہائی لکس سنگل کیبن – قیمت 33,49,000 روپے

سنگل کیبن 4×2
ڈیک لیس – قیمت 20,59,000 روپے
4×2 اسٹینڈرڈ – قیمت 22,59,000 روپے
4×2 بہترین ماڈل – قیمت 22,89,000 روپے

گاڑی بک کروانے کے لیے مکمل قیمت وصول کی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ 4×4 ماڈل پر ایڈونس ٹیکس کی مد میں ٹیکس دہندگان سے 2 لاکھ روپے اور نادہندگان سے 4 لاکھ روپے وصول کیے جارہے ہیں۔

پاک ویلز کی جانب نئی ٹویوٹا ہائی لکس (آزمائشی ماڈل) کا جائزہ ملاحظہ فرمائیں:

ٹویوٹا فورچیونر (دوسری جنریشن)

انڈس موٹرز نے اب سے چند ماہ قبل نئی ٹویوٹا فورچیونر کی چند جھلکیاں دکھائی تھیں۔ یہ دراصل پاکستان میں عنقریب متوقع ٹویوٹا فورچیونر کی دوسری جنریشن ہوگی جس کی قیمت اور خصوصیات سے متعلق معلومات کا پیش کیا جانا باقی ہے۔ ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انڈس موٹرز رواں ماہ ہائی لکس کے ساتھ فورچیونر کو بھی متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

نئی فورچیونر کانہ صرف ظاہری انداز بلکہ اندرونی حصے کو بھی نئے ڈیزائن کا حامل بنایا گیا ہے۔ تاہم 2700cc انلائن 4 (2TR-FE) DOHC بمع VVT-i انجن پچھلی جنریشن ہی سے لیا گیا ہے۔ البتہ نئی ٹویوٹا فورچیونر میں6-اسپیڈ آٹو میٹک ٹرانسمیشن شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی مارکیٹ میں اس کی آمد آئندہ سال کے ابتدا میں طے ہے۔ ایک اندازے کے مطابق نئی فورچیونر کی قیمت 49 سے 56 لاکھ روپے تک ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نئی ہائی لکس ریوُو اور فورچیونر میں شامل ممکنہ خصوصیات کا جائزہ

سوزوکی ویتارا

سوزوکی ویتارا دراصل جاپانی ادارے کی جانب سے کراس اوور گاڑیوں کی فہرست میں شامل ہونے کی کوشش ہے۔ اسے عالمی سطح پر پہلی مرتبہ 1988 میں متعارف کروایا گیا اور اب تک ویتارا کی چار جنریشنز پیش کی جاچکی ہیں۔ سوزوکی ویتارا جہاں بھی متعارف کروائی گئی وہاں اسے اپنے حریف گاڑیوں سے زیادہ پزیرائی حاصل ہوئی۔ پیمائش سے متعلق بات کریں تو سوزوکی ویتارا کی لمبائی 4175 ملی میٹر، چوڑائی 1755 ملی میٹر جبکہ اونچائی 1610 ملی میٹر ہے جبکہ اس کا ویل بیس 2500 ملی میٹر اور فرش سے زمین کا فاصلہ (گراؤنڈ کلیئرنس) 185 ملی میٹر ہے۔

بین الاقوامی سطح پر سوزوکی ویتارا کو پیٹرول اور ڈیزل دونوں ہی انجن کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ان میں M16A، K14-DITC اور D16AA انجن شامل ہیں۔ M16A کے نام سے پیش کیا جانے والا نجن 1600cc نیچرلی ایسپریٹڈ انجن ہے جو 118 ہارس پاور کے ساتھ 4400 آر پی ایم پر 156 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرتا ہے۔ K14C-DITC دراصل 1400cc ٹربو چارجڈ انجن ہے جسے 1.4L بوسٹر جیٹ بھی کہتے ہیں۔ یہ انجن 138 ہارس پاور اور 1500 سے 4000 آر پی ایم پر 220 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرسکتا ہے۔ تیسرا D16AA انجن دراصل 1600cc ڈیزل انجن ہے جو 118 ہارس پاور اور 330 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرسکتا ہے۔ تینوں ہی انجن اگلے پہیوں کی قوت سے چلنے یا تمام پہیوں کی قوت سے چلنے کی سہولت، جسے “آل گرپ” بھی کہتے ہیں، فراہم کرتے ہیں۔

نئی سوزوکی ویتارا کے فیول ٹینک کی گنجائش 47 لیٹر ہے اور دونوں ہی انجن بہت اچھی مسافت فراہم کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ 1400cc انجن ایک لیٹر میں 18.18 کلومیٹر جبکہ 1600cc انجن مینوئل گیئر کے ساتھ ایک لیٹر میں 18.75 کلومیٹر اور آٹومیٹک گیئر کے ساتھ 18.18 کلومیٹر تک سفر کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔پاکستان میں پیٹرول گاڑیوں کو ترجیح دینے کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ سوزوکی ویتارا صرف پیٹرول انجن کے ساتھ ہی پیش کیے جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ پاک سوزوکی کوئی ایک یا دونوں ہی پیٹرول انجن متعارف کروائے۔

ایسی بھی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان میں سوزوکی ویتارا کی قیمت 32 سے 35 لاکھ روپے رکھی جائے گی۔ اگر واقعی سوزوکی اس قیمت میں گاڑی متعارف کروانے جارہی ہے تو امید رکھ سکتے ہیں کہ ہمیں ایک بہترین ماڈل پیش کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: سوزوکی ویتارا کی پاکستان آمد؛ تمام معلومات اور تفصیلی جائزہ


Top