دورانِ سفر گاڑی کا ٹائر پھٹ جائے تو ان تجاویز پر عمل کریں

tyre blowout

ٹائر بنانے کے جدید طریقہ اور پہلے سے بہتر طریقہ کار کی وجہ سے ٹائر پھٹنے کے واقعات میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن اب بھی بہت سے لوگ اس ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرتے ہیں جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ اگر گاڑی یا موٹر سائیکل کی رفتار کم ہو تو اس صورتحال کو سنبھالنا نسبتاً آسان ہوتا ہے تاہم زیادہ رفتار بالخصوص ہائی ویز پر سفر کے دوران ٹائر پھٹنے کی صورت میں بڑے حادثے کا امکان ہوتا ہے۔

ڈرائیور کو بخوبی علم ہونا چاہیے کہ ایسی صورتحال میں کیا کام کرنا ضروری اور کونسا کام غیر ضروری ہے۔ یوں وہ نہ صرف اپنی بلکہ اپنے ہم سفروں کو جان و مال کا تحفظ بھی کرسکتا ہے۔ کئی دفعہ ڈرائیور صاحبان ٹائر پھٹنے کا زوردار دھماکہ سنتے ہی گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے گاڑی پر گرفت کمزور پڑ جاتی ہے اور کسی بھی اندوہناک حادثے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اپنی گاڑی کے لیے بہترین ٹائر خریدنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایسی صورتحال سے بخوبی نمٹنے کے لیے ذیل میں چند تجاویز دی جارہی ہیں۔ ان پر عمل کر کے آپ یا کوئی بھی دوسرا ڈرائیور گاڑی اور اس میں بیٹھے مسافروں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

1) ٹائر پھٹنے کی آواز سنتے ہی بریک نہ لگائیں۔ یہ بات درست ہے کہ اچانک زور دار آواز سن کر گاڑی روکنے کا خیال ذہن میں آتا ہے لیکن ٹائر پھٹنے کی صورت میں ایسا کرنا نقصاندے ثابت ہوسکتا ہے۔

2) اپنی رفتار کو آہستہ آہستہ کم کریں۔ تیز رفتاری کے دوران گاڑی کا ٹائر پھٹا جائے تو اس پر گرفت مضبوط رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ لہٰذا پہلی کوشش یہی کریں کہ حاضر دماغی کے ساتھ گاڑی کی رفتار کم کریں حتی کہ وہ رک جائے۔

3) اپنا پاؤں فوری طور پر ایکسیلیٹر سے نہ ہٹائیں بلکہ نسبتاً آہستہ آہستہ ایسا کریں۔ ٹائر پھٹنے کی وجہ سے گاڑی کی رفتاری کم ہوتی چلی جائے گی۔

4) اپنی گاڑی کو سیدھ میں رکھیں۔ اگر آپ کی گاڑی دائیں یا بائیں طرف جا رہی ہو تو اسٹریئنگ کی مدد سے اسے سیدھ رکھیں۔

5) گاڑی کو ازخود آہستہ آہستہ رکنے دیں۔ صرف ضرورت کے وقت وقفے وقفے بریک استعمال کریں۔ کبھی بھی سڑک کے بیچ میں نہ روکیں اور کسی ایسی جگہ رکنے کی کوشش کریں جہاں سے دیگر گاڑیوں کا گزر نہ ہوتا ہو۔

6) گاڑی رک جائے تو دونوں اینڈیکیٹر جلا دیں تاکہ دیکھنے والوں کو گاڑی میں مسئلہ کا علم ہوجائے۔ پھر اطمینان سے پھٹنے والے ٹائر کو اضافی پہیے (اسپیئر ویل) سے تبدیل کرلیں۔

Ali

I am 19 years old, my love for blogging and cars has brought me here.

  • Abdul Hai

    nice post

  • Kamran Gill

    Very useful information. thanks for the nice Post

Top