سال 2016 میں سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی 5 پاکستانی گاڑیاں


سال 2016 اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے اور پاک ویلز کی کوشش ہے کہ گاڑیوں کے شعبے میں خوش آئند تبدیلیوں کے اس سال کو شایان شان انداز سے رخصت کیا جائے۔ اس سال پاکستان میں گاڑیوں کے شعبے نے کئی اہم مراحل طے کیے۔ نہ صرف یہ کہ آئندہ پانچ سالوں کے لیے نئی آٹو پالیسی کی تکمیل اور نفاذ ہوا بلکہ حکومت کی جانب سے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو پاکستان کی طرف متوجہ کرنے کی کوششیں بھی بارآور ثابت ہوئیں۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں فرانسیسی کار ساز ادارہ رینالٹ (رینو) اور جنوبی کوریا سے متعلق رکھنے والی کمپنی کِیا موٹرز نے باضابطہ طور پر پاکستان میں کاروبار کا آغاز کرنے کے لیے مقامی اداروں سے شراکت داری میں دلچسپی لی۔ علاوہ ازیں عالمی شہرت یافتہ ادارے بشمول BMW اور آوڈی کی جانب سے بھی پاکستان میں نئی گاڑیوں کا اعلان رواں سال کی خوشخبریوں میں شامل رہا۔

مزید برآں چینی ادارے FAW کے پاکستانی شراکت الحاج گروپ نے بھی آئندہ سال نئی گاڑیوں اور ٹرکس کے ساتھ ساتھ اسپورٹس بائیک بھی متعارف کروانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ یاد رہے کہ الحاج گروپ کے سربراہ FAW گاڑیوں کی پاکستان میں تیاری سے متعلق منصوبے کا بھی اعلان کرچکے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں گاڑیوں کے شعبے کا مستقبل کس قدر تابناک ہے۔

مزید پڑھیں: الحاج FAW موٹرز پاکستان میں مسافر گاڑیوں کی تیاری کا آغاز کرے گا

اس مضمون میں ہم ان گاڑیوں سے متعلق بات کر رہے ہیں جنہیں پاکستان میں سب سےزیادہ تلاش یعنی سرچ کیا گیا۔ گو کہ جاپان سے استعمال شدہ گاڑیاں منگوانے کا رجحان تیزی سے پنپ رہا ہے تاہم یہ مضمون صرف نئی اور مقامی تیار شدہ گاڑیوں کا احاطہ کرے گا۔ تو آئیے جانتے ہیں کہ سال 2016 کے دوران پاک ویلز کے ذریعے سب سے زیادہ کونسی پاکستانی گاڑیاں تلاش کی گئیں:

نمبر5: سوزوکی کلٹس

ہوسکتا ہے بہت سے قارئین اس فہرست میں سوزوکی کلٹس کا نام پڑھ کر حیران رہ جائیں کہ 16 سال پرانی گاڑی آج بھی سب سے زیادہ تلاش کی جاتی ہے۔ البتہ اگر پاکستان میں حفاظتی سہولیات اور جدید خصوصیات کے برعکس بعد از استعمال فروخت (resale) قدر کو ترجیح دیے جانے کی سوچ کو مدنظر رکھا جائے تو کلٹس کا نام دیکھ کر حیران ہونے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سوزوکی کلٹس کا شمار ملک میں تیار کی جانے والی 1000cc گاڑیوں میں ہوتا ہے جو 16 سال قبل سے آج تک جوں کی توں پیش کیے جانے کے باوجود آج بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا سوزوکی کلٹس کی رخصتی کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے؟

سوزوکی کلٹس

نمبر 4: سوزوکی مہران

سوزوکی FX کی جگہ 1989 میں پیش کی جانے والی سوزوکی آلٹو کو ہم سوزوکی مہران کے نام سے جانتے ہیں۔قدیم ٹیکنالوجی اور سادے انداز کے باوجود یہ گاڑی آج بھی پاکستانیوں کی آنکھ کا تارا ہے۔باوجودیکہ سوزوکی مہران کے معیاری اور حفاظتی سہولیات کی عدم موجودگی پر تنقید کی جاتی رہی ہے لیکن ملک میں تیار ہونے والی واحد 800cc اور سستی ترین نئی گاڑی ہونے کی وجہ سے آج بھی یہ سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑیوں میں سرفہرست ہے۔ مہران کی بعد از استعمال اچھی قیمت پر فروخت ہونے کی خصوصیت بھی اسے ہر خریدار کی اولین ترجیح بنا دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سوزوکی مہران سے پاکستانیوں کی لازوال محبت؛ آخر وجہ کیا ہے؟

سوزوکی مہران

نمبر3: ہونڈا سِٹی

پاکستان میں ہونڈا کا نام معیاری گاڑیاں پیش کرنے والے ادارے کے طور پر لیا جاتا ہے تاہم ان گاڑیوں کی مینٹی نینس خاصی مہنگی ہوتی ہے۔ ہونڈا سٹی کی پیشکش سے ادارے کو چھوٹی سیڈان گاڑیوں میں قدم جمانے کا موقع ملا جس کا ہونڈا ایٹلس نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اب سے چند ماہ قبل پاک ویلز نے پاکستان میں دستیاب گاڑیوں کی بعد از استعمال فروخت سے متعلق تحقیق کی جس سے اندازہ ہوا کہ ہونڈا سٹی سرمایہ کاری کا بہترین انتخاب ہوسکتی ہے۔ بہرحال، پاکستان میں نئی ہونڈا سٹی پیش کیے جانا باقی ہے تاہم ادارے کی طرف سے اس بابت جلد فیصلے کی توقع بھی نہیں۔

مزید پڑھیں: نئی اور پرانی گاڑیوں کی قدر و قیمت؛ ہونڈا سِٹی بہترین انتخاب!

ہونڈا سٹی

نمبر2: ہونڈا سِوک

عالمی سطح پر ٹویوٹا اور ہونڈا کی روایتی مسابقت کی جھلک پاکستان میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ ٹویوٹا اور ہونڈا دونوں ہی کے مداحوں کی بڑی تعداد اپنی من پسند برانڈ کے حق میں دلائل کا ذخیرہ رکھتے ہیں۔ لیکن ایک بات جس پر سب ہی متفق ہیں وہ نئی ہونڈا سوک کا جادو ہے جس نے بہترین معیار اور پرکشش انداز سے بہت کم وقت میں شوقین افراد کی بڑی تعداد کو اپنے سحر میں مبتلا کردیا ہے۔ ہونڈا سوک کی مشہوری اور آمد سے قبل لوگوں کا جوش دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس سے ادارے کو اپنی بہتر ساکھ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں اضافے جیسے فوائد بھی حاصل ہوئے۔

پاک ویلز ویڈیو: 2016 ہونڈا سِوک ٹربو 1.5 کا تفصیلی جائزہ

ہونڈا سوک 2016

نمبر1: ٹویوٹا کرولا

پاکستان ان دس ممالک کی فہرست میں شامل جہاں ٹویوٹا کرولا کو سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ گو کہ ٹویوٹا انڈس نے مقبول ترین ڈائی ہاٹسو کورے کی تیاری عرصہ قبل بند کردی تاہم کرولا نے اسے دوبارہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ آج ٹویوٹا انڈس موٹرز چھوٹی سیڈان گاڑیوں سے لے کر بڑی SUVs تک ہر طرز کی گاڑی فروخت کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے پاکستان کا سب سے بڑے اور معتبر کار ساز ادارے کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹویوٹا کرولا کے تمام ماڈلز کی منفرد خصوصیات کا جائزہ

پاکستانی ٹویوٹا کرولا


Top