رائیڈ ہیلنگ سروس کا استعمال کرتےہوئے محفوظ رہنے کے بہترین طریقے


رائیڈ-ہیلنگ سروسز رکشے کی قیمت میں ایک ایئرکنڈیشنڈ کار میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک باآسانی پہنچنے کی خدمات پیش کرتی ہیں۔ روزبروز صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے ان کا کاروبار پھل پھُول رہا ہے۔ لیکن اس شاندار سروس کا ایک تاریک پہلو بھی ہے، ہراسمنٹ!

سروے کے مطابق 30 فیصد خواتین مبینہ طور پر اِن سروسز کا استعمال کرتے ہوئے خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں، جبکہ 15 فیصد کو ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا۔ گو کہ اِس کا کوئی بہترین حل نہیں ہے، لیکن آپ کے پاس خاتون ڈرائیور طلب کرنے کا آپشن بھی ہے۔ آپ صرف خواتین پر مشتمل ٹیکسی سروس کا انتخاب بھی کر سکتی ہیں۔ لیکن اگر آپ ایسا نہ کر سکیں تو کیا کریں؟

محفوظ رہنے کے لیےتجاویز کے دو حصے ہیں۔

پری-چیک لسٹ (گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے)

منصوبہ بندی پہلے سے – ایک رائیڈ ہیلنگ سروس ہرگز آپ کی گاڑی نہیں۔ آپ کو اس میں ایک اجنبی کے بہت قریب بیٹھنا پڑے گا۔ اِس لیے اپنے سفر کی منصوبہ بندی اسی لحاظ سے کریں۔ اگر آپ کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے کسی ویران علاقے سے گزرنا ہے ، تو وہاں سے دِن میں گزرنے کی کوشش کریں۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو خاندان کے کسی فرد یا دوست کو ساتھ لے جانا یقینی بنائیں۔ مقصد یہ ہے کہ آپ اندھیرے میں کسی ویران سڑک پر گاڑی میں کسی اجنبی کے ساتھ تنہا نہ ہوں۔

درست گاڑی میں بیٹھیں – جب آپ گاڑی بُک کرتی ہیں تو گاڑی کی آمد سے پہلے ہی رائیڈ کی معلومات فون پر آ جاتی ہیں۔ گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے یقینی بنائیں کہ فون پر آنے والی تفصیلات اور جو گاڑی آپ کے سامنے ہے، وہ دونوں یکساں ہیں۔ گاڑی بنانے والے ادارے، ماڈل اور اس کی نمبر پلیٹ کو خاص طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

پچھلی سیٹ پر بیٹھیں – ڈرائیور سے دُور رہنا بہت اہمیت رکھتا ہے اور کسی بھی خراب صورت حال میں یہ کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔

اسٹیٹس شیئر – آپ کی رائیڈ ہیلنگ ایپ میں یہ فیچر ضرور ہوگا، اِس کا استعمال کریں۔ گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے کم از کم خاندان کے ایک فرد یا کسی دوست کو اپنی گاڑی کی تفصیلات کے بارے میں بتائیں – جیسا کہ نمبر پلیٹ، ڈرائیور کا نام اور تصویر وغیرہ۔ یہ آپ کے بیک اَپ انشورنس پلان کی طرح ہے۔

جام دروازہ یا چائلڈ لاک چیک کریں – گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اچھی طرح دیکھ لیں کہ آپ کی طرف کا دروازہ لازمی کھلنا چاہیے۔ کچھ دروازے ایسے ہوتے ہیں جنہیں پہلی کوشش میں کھولنا مشکل ہوتا ہے۔ چائلڈ لاک بھی چیک کرلیں۔ اگر یہ آن ہے تو آپ ضرورت پڑنے پر گاڑی سے فوری طور پر نہیں نکل پائیں گی، کیونکہ آپ کو پہلے کھڑکی نیچے کرنا پڑے گی اور پھر ہاتھ باہر نکال کر باہر سے دروازہ کھولنا پڑے گا۔ کسی خراب صورت حال میں شاید آپ کے پاس اتنا وقت نہیں ہوگا۔

کارآمد چیزیں – سامنے والے کو پسپا کرنے کے لیے اپنے ساتھ repellant ضرور رکھیں جیسا کہ پیپر اسپرے۔ قینچی بھی ایک کارآمد ہتھیار ہو سکتی ہے۔

احترام کریں – ڈرائیور کو وہ عزت دیں جس کا وہ حقدار ہے لیکن اس سے غیر ضروری گفتگو نہ کریں۔ اپنا نمبر یا دیگر ذاتی تفصیلات ڈرائیور کو ہر گز نہ دیں۔ اگر کھڑکی پر سَن وائزرز لگے ہوئے ہوں تو ڈرائیور سے خوش اخلاقی سے کہیں کہ انہیں اتار دے۔

سب سے بڑھ کر –چھٹی حس کو سمجھیں– اپنی “اندر کی آواز” کو ضرور سنیں۔ اگر اندھیرا ہے، آپ تنہا ہیں، منزل تک پہنچنے کے لیے کسی اندھیرے و خراب راستے سے گزرنا ضروری ہو اور ڈرائیور مشتبہ لگتا ہے تو اس کی گاڑی میں مت بیٹھیں۔

اگر آپ نے مندرجہ بالا اقدامات اٹھائے اور پھر بھی ایسی صورت حال میں پھنس جاتی ہیں کہ جس میں ڈرانے دھمکانے سے لے کر کھلی ہراسگی تک کا سامنا ہو تو کیا کرنا ہوگا۔

پوسٹ چیک لسٹ (گاڑی میں بیٹھنے کے بعد)

اگر کوئی مسئلہ کھڑا ہو جائے تو آپ کس طرح محفوظ رہ سکتی ہیں

رائیڈ کینسل کردیں – ڈرائیور کو گاڑی روکنے اور رائیڈ ختم کرنے کا کہیں۔ اگر اپ گاڑی میں خود کو آرام دہ محسوس نہیں کر رہیں تو لمحے کی تاخیر بھی نہ کریں، رائیڈ کینسل کردیں اور اس سے جیب کو پہنچنے والے نقصان کا سوچ کر پریشان مت ہوں۔

گاڑی سے چھلانگ لگا دیں – گو کہ کوئی بھی اِس انتہائی قدم کو تجویز نہیں کرے گا کیونکہ اس سے سخت جسمانی چوٹ لگنے کا اندیشہ ہے (پاک ویلز یہ قدم اٹھانے کو تجویز نہیں کرتا)، لیکن ڈرائیور کے حملے کی صورت میں یہ بہترین اور واحد آپشن رہ جاتا ہے۔ ہاں یہ اس صورت میں ایک عملی قدم ہو سکتا ہے کہ گاڑی نہ چل رہی ہو۔ یہ ایک انتہائی قدم لگتا ہے لیکن کراچی میں ایک خاتون نے شارعِ فیصل پر بالکل ایسا ہی کیا تھا۔ بعد میں ڈرائیور کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔

چیخیں چلّائیں – توجہ حاصل کرنے کے لیے پوری قوّت سے چیخیں۔ اگر عام افراد یا اردگرد کے گھر والوں نے پا لیا کہ آپ کہاں پھنسی ہیں تو ڈرائیور کو بھاگتے ہی بنے گی۔

ہینڈ بریک کھینچ دیں – اگر ڈرائیور گاڑی روکنے سے انکار کردے تو گاڑی کے ہینڈ بریک کھینچ دیں۔

قریبی پولیس اسٹیشن جائیں – ہو سکتا ہے ہماری پولیس بہت مؤثر نہ ہو، لیکن یہ قانون نافذ کرنے اور تفتیش کرنے والا ادارہ ہے۔ آپ کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے اس لیے قریبی پولیس اسٹیشن جائیں اور انہیں پوری داستان بتائیں۔ واقعے کے فوراً بعد جو کہانی آپ بتائیں گی وہ واقعات کے سلسلے میں سب سے زیادہ درست ہوگی کیونکہ واقعہ آپ کے ذہن میں بالکل تازہ ہوگا۔ اگر واقعے کورپورٹ کرنے میں تاخیر کریں گی تو ہو سکتا ہے یادداشت اتنا ساتھ نہ دے؛ آپ اہم تفصیلات بھول جائیں؛ جس سے آپ کی شکایت کا اثر کم ہو جائے گا اور کچھ واقعات میں تو کہانی ناقابلِ یقین لگتی ہے۔

ڈرائیور کو رپورٹ کریں – اس کو سب سے آخری آپشن رکھنے کی ایک وجہ ہے۔ آپ کو آوارہ مزاج ڈرائیور کو رپورٹ کرنا چاہیے لیکن پہلے ایک محفوظ مقام تک پہنچ جائیں۔ آپ کی پہلی ترجیح کسی محفوظ جگہ پر پہنچنا ہے۔ لیکن ساتھ یہ یہ بھی بہت اہم ہے کہ آپ متعلقہ حکام ڈرائیور کی رپورٹ پہنچائیں جن میں واقعے کے فوراً بعد پولیس کو اطلاع بھی شامل ہے۔ رپورٹنگ میں تھوڑی سے تاخیر بھی آپ کے کیس کو کمزور کر سکتی ہے۔

یاد رکھیں کہ آپ کی صنف، لباس، وقت اور مقام سے قطع نظر محفوظ سفر کرنا آپ کا حق ہے۔ کسی کو بھی اسے خراب نہ کرنے دیں۔


Google App Store App Store

Top