ٹویوٹا کرولا 2004ء 2.0D سیلون: ایک مالک کی نظر سے


اُس زمانے میں جب پاکستان میں ڈیزل کاریں مقبول تھیں، ٹویوٹا کرولا 2.0D سیلون ایک بہترین کار سمجھی جاتی تھی۔ اس نے اپنی کلاس کے بہترین فیچرز اور آرام دہ سفر پیش کیا۔ یہ سالوں تک مقبول رہی یہاں تک کہ ٹویوٹا نے کرولا کے تمام ویرینٹس میں ڈیزل انجنوں کا خاتمہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ ڈیزل انجن عام طور پر پٹرول انجنوں کے مقابلے میں زیادہ شور مچانے اور آلودگی پھیلانے والے ہوتے ہیں۔ پھر ڈیزل پٹرول سے بھی زیادہ مہنگا ہے؛ اس لیے پاکستان میں ڈیزل کار رکھنا ایک پٹرول کار سے زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔ یہ کار جس کا یہاں جائزہ لیا جا رہا ہے کرولا کا 2004ء ماڈل 2.0D سیلون ویرینٹ ہے۔ یہ شخص اس کار کے پہلے مالک ہیں اور2004ء سے ان کے خاندان کی ملکیت ہے۔ 

ایکسٹیریئر 

کرولا کی اس جنریشن میں ایکسٹیریئر کا سب سے نمایاں فیچر گول ہیڈلائٹس اور ٹیل لائٹس ہیں۔ گول مول سی شکل اور ہموار کنارے اس ماڈل کو پرکشش صورت اور احساس دیتے ہیں۔ 2.0D سیلون سائیڈ اسکرٹس کے ساتھ آئی تھی جس نے اسے عام 2.0D، XLi اور GLi ویرینٹس سے ممتاز کیا۔ سائیڈ مررز، ڈور مولڈنگز اور ڈور ہینڈلز باڈی کے رنگ کے ہی ہیں۔ البتہ یہ گاڑی الائے رِمز اور ABS سیفٹی فیچرز کے بغیر آئی۔ گراؤنڈ کلیئرنس شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں ڈرائیونگ کے لیے بہترین تھی۔ 

انٹیریئر 

انٹیریئر پاور وِنڈوز، پاور لاکس، پاور سائیڈ مررز، پاور اسٹیئرنگ اور ڈرائیور ایئربیگ کے ساتھ آیا۔ ڈیش بورڈ لکڑی کے کام کے ساتھ آیا جس نے انٹیریئر کو ذرا عمدہ صورت دی۔ ڈرائیور اور پیچھے بیٹھے مسافروں دونوں کے لیے سینٹرل آرم ریسٹ بھی ہے۔ انٹیریئر کشادہ ہے اور پانچ افراد آرام سے بیٹھ سکتے ہیں۔ سیٹ کشن بھی اچھے ہیں جو لمبے سفر کو آرام دہ بناتے ہیں۔ دو رنگوں کا ڈیش بورڈ انٹیریئر کو ایک پریمیم اور خوبصورت شکل دیتا ہے۔ 

انجن اور کارکردگی 

یہ گاڑی 2000cc ڈیزل انجن کے ساتھ آئی، جو بہت زیادہ ٹارک رکھنے والا ایک طاقتور انجن ہے۔ اس گاڑی کا سسپنشن بہت رواں ہے اور سڑکوں کی خراب حالت سے باآسانی نمٹ سکتا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔ 2.0D سیلون کی سڑک پر گرفت بھی پٹرول ویرینٹس کے مقابلے میں بہت اچھی ہے۔ زیادہ ٹارک اور زیادہ فیول مائلیج اس گاڑی کو طویل سفر کے لیے ایک زبردست انتخاب بناتی ہے۔ 

مرمت اور مائلیج 

مالک کے مطابق 2.0D سیلون انہیں شہر کے اندر 18 کلومیٹرز فی لیٹر دیتی ہے۔ ہائی وے پر یہ گاڑی باآسانی ایک لیٹر ڈیزل پر 24 کلومیٹرز دیتی ہے۔ اس مخصوص ماڈل کے اسپیئر پارٹس یعنی فاضل پرزے مارکیٹ میں باآسانی مل جاتے ہیں۔ مالک کے مطابق اس گاڑی کو سالوں تک کسی مرمت کی ضرورت نہیں رہتی۔ 3,000 کلومیٹرز کے بعد آئل چینج مالک کو 2,600 روپے کا پڑتا ہے جس میں آئل کی تبدیلی اورایئر فلٹرز شامل ہیں۔ 

فیصلہ 

مالک کے مطابق وہ اس قیمت میں اب بھی کسی دوسری پٹرول کار کے مقابلے میں ڈیزل 2.0D سیلون ہی کو ترجیح دیں گے۔ 11,00,000 سے 12,00,000 روپے کی قیمت میں 2.0D سیلون ایک مناسب اور سستا انتخاب ہے۔ یہ ایک درمیانے سائز کی سیڈان ہے جو کارگو رکھنے کے لیے مناسب ڈِگی اور پانچ افراد کے باآسانی بیٹھنے کی گنجائش رکھتی ہے۔


Google App Store App Store

Top