ٹویوٹا فارچیونر کا لاہور میں ایک گھر سے سیدھا ٹکراو

whatsapp-image-2017-02-21-at-4-39-22-pm

ہم ہر روز کئی حادثات کی خبر نیشنل یا سوشل میڈیا سے نشر ہوتے دیکھتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت تیز رفتاری کے باعث ہوتے ہیں جبکہ مناسب بنیادی ڈھانچے کا فقدان اس کے فوری بعد آتا ہے۔اسی طرح نیچے دی گئی تصاویر ایک اور حادثہ کا ثبوت ہیں جس میں لاپرواہ ڈرائیونگ ایک بڑے مالی نقصان کا سبب بنی۔ یہ حادثہ ایڈن ولاز لاہور میں پیش آیا۔ خدا کا شکر ہے کہ اس حادثہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن اطلاعات کہ مطابق ڈرائیور زخمی ہوا جبکہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

whatsapp-image-2017-02-21-at-4-39-23-pm

whatsapp-image-2017-02-21-at-4-39-22-pm

بہرحال اسی موضوع پر واپس آتے ہیں کہ پاکستان کی سڑکوں پر حادثات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کی سڑکوں پر مرنے والے افراد میں زیادہ تر کی عمر 15-29 سال کی بریکٹ میں ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی 2014 کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال پاکستان میں مرنے والے افراد میں سے 30310 یا 2.69% افراد سڑکوں پر حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ ہر سال 100000 افراد میں سے 20 افراد سڑکوں پر حادثات کی وجہ سے مرتے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی ٹریفک حادثات کی شرح کی وجہ سے        پوری دنیا میں پاکستان کا 67 نمبر ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی 2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق 2030 تک روڈ ایکسیڈینٹ اموات کی پانچ بڑی وجوہات میں شامل ہو جائے گا۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ 2014 کی ایک رپورٹ کا مختصر احوال درج زیل ہے۔

’پولیس حکام نے 8885 حادثات رجسٹرڈ کیے جن میں 4672 افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ 2004-2013 تک ملک بھر میں 97793 حادثات میں 51416 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ ہلاک ہونے والے لوگوں کی کُل تعداد میں سے 29524 پنجاب میں، 9693 سندھ میں، 9494 کے پی کے اور 2250 بلوچستان میں مارے گئے۔‘

ان سب کے درمیان ہر کوئی حیران ہے کہ حادثات کی اس بڑھتی ہوئی لہر کو روکنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بہت سے حل ہو سکتے ہیں لیکن بنیادی ڈھانچے کا قیام ہر حل کا بنیادی وصف ہے۔ کیسے؟ مختصر مثال ملاحظہ کیجیئے: لین تبدیل کرنے کے خلاف جارحانہ کریک ڈاون تبھی کیا جا سکتا ہے جب لین کے نشان پہلے موجود ہوں گے۔ لہزا بنیادی ڈھانچہ پہلے آتا ہے جبکہ اس پہ عمل درآمد بعد میں ممکن ہے۔ پھر روڈ سیفٹی کی عوام کو تعلیم دینے کے لیے قومی سطح پر مہم چلانی چاہیے اور ٹریفک پولیس کو مناسب طریقے سے لیس کرنا چاہیے۔ اس مسئلہ کا حل طویل اور مشکل ہے۔ اس کے لیے صبروتحمل، فنڈز اور برداشت کی ضرورت ہو گی جس سے آہستہ آہستہ ملکی سڑکوں کے حالات بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔

Top