ٹویوٹا پاکستان کے منافع میں 23 فیصد اضافہ


پاکستان میں سیڈان فروخت کرنے والے سب سے بڑے ادارے ٹویوٹا آئی ایم سی نے دسمبر 2017ء میں ختم ہونے والی پچھلی سہ ماہی کے لیے اپنی آمدنی ظاہر کردی ہے اور یہ کافی امید افزا لگتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، جو ادارے نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیش کیے ہیں، اس نے گزشتہ سہ ماہی میں 3.74 ارب پاکستانی روپےکا خالص منافع کمایا اور اگر گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی سے تقابل کیا جائے تو اس کی آمدنی میں 23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ادارے نے گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں کل 3.03 ارب پاکستانی روپے کی خالص آمدنی حاصل کی تھی۔

واضح رہے کہ ادارے کی فروخت میں سال بہ سال (YoY) بنیاد پر 25 فیصد اضافہ ہوا تھا؛ مزیدبرآں فی حصص آمدنی (EPS) بھی 38.51 روپے سے 47.53 روپے تک پہنچا۔ یہ ممکن ہے کہ ادارے کا منافع رواں سال مزید آگے بڑھے کیونکہ کمپنی نے پاکستان میں اپنے صارفین کے لیے نئی ڈیزل ریوو جاری کی ہے اور مقامی مارکیٹ پر قبضے کے لیے ٹویوٹا فورچیونر کا ڈیزل ویریئنٹ بھی جاری کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

نومبر 2017ء میں ادارے نے ایک متاثر کن قدم اٹھایا اور آٹوانڈسٹری میں پریمیئم کے مسئلے کے خاتمے کے لیے 1000 سے زیادہ بک شدہ کاریں منسوخ کیں، اس نے اس ضمن میں دو ڈیلر شپس منسوخ کیں اور ایک کو جرمانہ بھی کیا۔ آگے بڑھتے ہوئے آئی ایم سی کو ٹویوٹا کرولا آلٹس 1.8کے ناقص انفوٹینمنٹ اور 1.6 کی ظاہری شکل و صورت پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ادارے سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ یہ کاریں واپس لے۔ تمام مسائل کے باوجود ادارہ مسلسل آگے بڑھا ہےاور کوئی بھی اس کے بڑھتے ہوئے منافع کو دیکھ سکتا ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئی ایم سی Vios اور Yaris کے حق میں بالآخر اپنی کرولا XLi اور GLi کا خاتمہ کر رہا ہے ، جو اس کے منافع پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ مزید برآں، ادارے نے پاکستان میں سیڈن فروخت کرنے والے بہترین ادارے کی حیثیت سے اپنا مقام بھی برقرار رکھا؛ اس نے رواں سال جنوری کے مہینے میں 4,243 یونٹس فروخت کیے۔

مختصر یہ کہ آئی ایم سی کے لیےپچھلا سال بہترین تھا، اور یہ سال بھی کمپنی کے لیے امید افزا لگتا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ آخر کہاں تک پہنچتا ہے۔


I am an avid automotive enthusiast and like to write about cars and motorcycles.

Top