ٹویوٹا نے انتہائی عجیب ‘کیکائی’ تصوراتی گاڑی پیش کردی

toyota-kikai-5-970x647-c

ایسا لگتا ہے کہ اس بار بھی ٹوکیو موٹر شو میں ایک سے بڑھ کر ایک تصوراتی گاڑی دکھانے کی روایت جاری رہے گی کیوں کہ تقریباً تمام ہی کار ساز ادارے اس ضمن میں اپنی منفرد اور کسی حد تک عجیب تصوراتی گاڑیاں دکھانے کا اعلان بھی کرچکے ہیں۔ لیکن اب تک کی سب سے منفرد گاڑی ٹویوٹا کی جانب سے پیش کی گئی ہے جس کا نام ‘کیکائی’ رکھا گیا ہے جسے دیکھنے کے بعد شاید آپ کا ہانسا نکل جائے یا آپ اسے گاڑی ماننے سے ہی انکار کردیں۔ مجموعی طور پر اس گاڑی کا انداز قدیم و جدید کا امتزاج معلوم ہوتا ہے البتہ اس کی شکل صحراؤں میں چلنے والی بڑے پہیوں کی گاڑیوں سے بھی میل کھاتی ہے۔

جاپانی لفظ ‘کیکائی’ کے انگریزی اور اردو میں بہت سے ترجمے کیے جاسکتے ہیں مثلاً موقع، مشین، غیر معمولی وغیرہ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جتنی عجیب گاڑی اور اس کا نام ہے اتنے ہی زیادہ اس کے معنی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سوزوکی ٹوکیو موٹر شو میں تین تصوراتی گاڑیاں پیش کرے گا

اس طرز کی گاڑی پیش کرنے کا مقصد تیاری کے دوران گاڑی کے مختلف پرزوں سے لوگوں کو روشناس کروانا ہے جو خوبصورت ڈیزائن کے پردے میں چھپ کر اپنا کام انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ان میں ایگزاسٹ پائپ سے لے کر فیول ٹینک اور انجن سے لے کر سسپنشن تک سب ہی چیزیں بہت واضح ہیں لیکن یہ اس انداز سے لگائی ہیں کہ جو نظروں کو بھائے۔

گاڑی کا اندرونی حصہ بھی اتنا ہی دلچسپ ہے کہ جتنا اس کا بیرونی حصہ ہے۔ یہ تکونے انداز میں تین سیٹ پر مشتمل گاڑی ہے جس میں بیٹھ کر آپ خود کو میکلرن F1 سمجھیں گے لیکن باہر سے دیکھنے والا شاید آپ کو رکشا ڈرائیور تصور کرے کیوں کہ اس میں ڈرائیور کی سیٹ اگلی جانب ہے اور باقی دو سیٹس پیچھے کی طرف ہیں۔ دوسروں کا تو کام ہے کہنا اس لیے ان کو چھوڑیں اور اندر موجود آرامدے نشستوں، اسٹیئرنگ اور خوبصورت ڈیش بورڈ کا لطف اٹھائیں۔

ٹویوٹا نے اب تک اس کے انجن سے متعلق معلومات فراہم نہیں کیں لیکن کار ساز اداروں کے تازہ رجحانات اور موجودہ روش کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ گاڑی ہائبرڈ ہوسکتی ہے جس میں چار سلینڈر کا انجن لگایا جائے گا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ گاڑی صرف خواب و خیال کی دنیا ہی میں تیار کی جائے گی اور حقیقت میں ٹویوٹا اسے بنانے میں وقت ضائع نہیں کرے گا۔ بہرحال، یہ گاڑی 30 اکتوبر سے شروع ہونے والے 44 ویں موٹر شو میں پیش کی جائے گی اور عوامی دلچسپی ہی اس کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔

Top