ٹویوٹا لینڈ کروزر بطور موبائل فون ٹاور بھی استعمال کی جاسکے گی

5b-1024x577

پاکستان میں ایسے بہت سے مقامات ہیں جہاں موبائل فون کے سِگنلز دستیاب نہیں ہوتے۔ بلوچستان کے اکثر علاقوں میں یہی صورتحال جہاں لوگ اپنی گاڑیوں میں رات کے وقت کیمپنگ کی غرض سے جاتے ہیں۔ لیکن آسٹریلیا میں یہ صورتحال اور بھی پریشان کن ہے۔ چونکہ آسٹریلیا کی آبادی بہت کم ہے اور اکثر حصہ جنگلات سے گھرا ہوا ہے اس لیے وہاں 65 سے 70 فیصد علاقے میں موبائل فون کے سِگنلز نہیں پہنچ پاتے۔ ان علاقوں میں سیاحت کی غرض سے جانے والوں کو درپیش اہم مسائل میں سے ایک بیرونی دنیا سے رابطہ نہ ہوپانا بھی ہے۔

ایڈیلیڈ کی فِلینڈرز یونیورسٹی اور ایڈورٹائزنگ ایجنسی ساچی اینڈ ساچی آسٹریلیا نے جاپانی ادارے ٹویوٹا (Toyota) کے ساتھ مل اس مسئلہ کو حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹویوٹا کی مدد سے یہ ادارے ایسی ڈیوائسز کی تیاری میں مصروف ہیں جنہیں ملک بھر میں موجود لینڈ کروزر میں نصب کیا جاسکے۔ موبائل سِگنلزل کی عدم دستیابی کی صورت میں یہ ڈیوائسز آپس میں جُڑ کر ایک نیٹ ورک قائم کرسکیں گی۔ سائنس دان ان ڈیوائسز کو وائی فائی، یو ایچ ایف ریڈیو اور ڈی ٹی این (Delay Tolerant Networking) استعمال کرنے کے قابل بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اس چھوٹی ڈیوائس کی موجودگی میں ٹویوٹا لینڈ کروزر ایک کمیونی کیشن ہاٹ اسپاٹ کی صورت اختیار کر سکے گی۔ اس کے آس پاس 15 میل تک موجود تمام موبائل فون صارفین اس ہاٹ اسپاٹ سے منسلک ہو کر پیغامات کا تبادلہ کرسکیں گے۔ موبائل فون سِگنلز کی عدم دستیابی کی صورت میں ایک لینڈ کروزر قریب ترین موجود دوسری لینڈ کروزر سے منسلک ہوسکتی ہے۔ یوں ایک صارف کی جانب سے بھیجا جانے والا پیغام گاڑیوں کے اس نیٹ ورک سے ہوتا ہوا اس لینڈ کروزر تک جا پہنچے گا جو موبائل فون سِگنلز سے منسلک ہوگی۔

پہلے مرحلے میں ٹویوٹا فِلینڈرز میں 30 ہزار مربع میل تک اس ڈیوائس کی حامل لینڈ کروزر کا قافلہ بھیج رہا ہے۔ یہ دنیا سے بالکل الگ تھلگ علاقوں میں کیا جانے والا اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے۔ یاد رہے کہ ٹویوٹا لینڈ کروزر (Toyota Land Cruiser) کا شمار آسٹریلیا میں بس سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑیوں میں کیا جاتا ہے۔

Top