ٹویوٹا مارک X: ایک مالک کا تجزیہ


مارک X ایک درمیانے سائز کی گاڑی ہے جسے ٹویوٹا بناتا ہے۔ ریئر ویل ڈرائیو کار دو ویرینٹس میں آتی ہے: 2500cc اور 3000cc۔ پہلی جنریشن 2004ء سے 2009ء تک بنائی گئی تھی، جس کے بعد دوسری جنریشن نے مارکیٹ میں اپنے قدم جمائے۔ مارک X نے 2004ء میں مارک II کی جگہ لی۔ مارک II صارفین میں بہت مقبول تھی اور اس کے وفادار صارفین 2004ء میں لانچ کے بعد مارک X کی جانب منتقل ہوگئے۔ 

مارک X اپنی لگژری، اسٹائل اور آرام کی وجہ سے نمایاں ہے۔ کرولا GLX سے مقابلہ کریں جو اسی قیمت میں آتی ہے تو مارک X آرام دہ ہے۔ فیول ایوریج کے لحاظ سے مارک X کرولا GLX ہی کے برابر آتی ہے۔ 

انٹیریئر 

مارک X ٹی وی، ملٹی میڈیا اسٹیئرنگ اور اسٹائلش لائٹس کے ساتھ آتی ہے۔ گاڑی میں صرف فون بلوٹوتھ ہے۔ انٹرنیٹ سے منسلک ہونے یا USB لگانے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ اس میں ریورس کیمرا ہے جو شروع سے ہی نصب ہے۔ مارک X پریمیم مرون ٹرِم لیولز کے ساتھ آتی ہے جبکہ باقی گاڑیاں سفید ٹرِم لیولز رکھتی ہیں۔ مارک X 2.0 میں ٹریکشن پسند پر منحصر ہے جس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ LSD ورژن چلا رہے ہیں یا نان-LSD۔ 

صارفین نے مارک X میں کیبن میں شور کی کمی کو سراہا ہے، جو ڈرائیو کو بہت آرام دہ بنا دیتا ہے بالخصوص پاکستان جیسے شور زدہ ٹریفک ماحول میں۔ بہت زیادہ رفتار پر ڈرائیونگ کرنے کے باوجود اندر کا ماحول پرامن اور خاموش رہتا ہے۔ 

مزید برآں، گاڑی میں پیچھے AC وینٹس ہیں، جو پاکستانی شہروں کی سخت گرمی میں ایک نعمت سے کم نہیں۔ گاڑیوں کے شوقین اس کے گیئرز کو دیکھنے میں بہت خوشگوار پائیں گے کیونکہ اس کی شکل و صورت بہت خوبصورت ہے۔ عام طور پر پاکستان میں گاڑیوں میں راؤنڈ گیئر کونسولز نہیں ہوتے۔ 

ابتداء میں آنے والی مارک X گاڑیوں میں پیڈز ایک مسئلہ تھے۔ البتہ نئی مارک X ٹویوٹا میں اس مسئلے کو حل کردیا گیا ہے اور نئی گاڑیاں اچھے معیار کے پیڈز کی حامل ہیں۔ 

پچھلی نشستوں پر ہیڈ اور لیگ اسپیس بھی کافی ہے۔ پیچھے دو بڑے اور ایک بچہ آرام دہ طریقے سے بیٹھ سکتا ہے۔ جبکہ تین بڑے کچھ گھس گھسا کر اور پریشان ہوکر بیٹھ سکتے ہیں۔ 

ایکسٹیریئر 

مارک X کی مجموعی شکل و صورت انوکھی اور کافی خوبصورت ہے، اور اسے “اسپورٹی” بھی کہا جا سکتاہے۔ بوٹ کچھ اٹھا ہوا ہے اور مجموعی طور پر مارک X کی صورت BMW 500 سیریز سے ملتی ہے۔ سامان رکھنے کی گنجائش کم لگتی ہے کیونکہ اس کا دہانہ اتنا بڑا نہیں۔ البتہ یہ اندر سے کافی کشادہ ہے۔ مارک X کا ایک انوکھا فیچر ہے کہ اس کے ایگزاسٹس بھی بمپر میں لگے ہوئے ہیں۔ صارف سن روف کا انتخاب بھی کر سکتے ہیں۔ 

صارفین کے جائزوں کے مطابق اسٹیئرنگ کالم کی خرابی کا خطرہ ہے۔ گڑھوں اور اسپیڈ بریکرز پر ڈرائیو کرتے ہوئے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کہ اس سے مارک X کے اسٹیئرنگ کالم کو بہت نقصان پہنچ سکتاہے۔ 

ٹریکشن کنٹرول کی کمی، ساتھ ہی ریئر ویل ڈرائیو کی وجہ سے موڑ پر گاڑی کے قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ پاور ڈلیوری ایک اور مسئلہ ہے کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر ڈرائیورز اس کے عادی نہیں اور کبھی کبھار گاڑی گھوم سی جاتی ہے۔ 

مقامی حالات سے مطابقت 

جائزوں کے مطابق  مارک X بہت ہموار ڈرائیو رکھتی ہے، یہاں تک کہ پاکستان کی سڑکوں پر بھی۔ یہ بہت مستقل رہتی ہے اور ڈرائیو مجموعی طور پر خوشگوار ہے۔ صارفین نے اس امر کو بھی سراہا کہ کنارے باآسانی نظر آتے ہیں جس سے ڈرائیونگ کا تجربہ محفوظ اور خوشگوار رہتا ہے۔

زیادہ تر جاپانی گاڑیوں کی طرح اس کے کنٹرولز بھی جاپانی زبان میں ہیں۔ اس کی وجہ سے کچھ چیزیں سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ گاڑی سنو موڈ کے ساتھ بھی آتی ہے، تاکہ برف باری کی صورت میں ڈرائیو کیا جا سکے۔ شہر میں ڈرائیونگ کے لیے تو یہ اہم نہیں لیکن شمالی علاقوں کی سیاحت کے دوران یہ سہولت کام آ سکتی ہے۔ 

دیکھ بھال اور مرمت کی لاگت 

اس گاڑی کی دیکھ بھال اور مرمت پر تقریباً 20,000 روپے ماہانہ لگ سکتے ہیں۔ 

ایک اوسط مارک X کا آئل چینج 5.5 لیٹر کا ہوتا ہے۔ آئل چینج ہر  5000 کلومیٹر کے بعد ہوتا ہے۔ ایک آئل چینج کی لاگت اندازاً 6500 سے 7000 تک آئے گی۔ 

ٹائرز 

گاڑی 16 انچ کے ٹائرو ں کے ساتھ آتی ہے۔ ان کی گرپ اچھی ہوتی ہے۔ 

ری سیل 

مارک X ایک لگژری گاڑی ہے۔ مارک X  کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ البتہ اس کا زیادہ تر انحصار اس بات پر کہ گاڑی کو کتنا سنبھال کر رکھا گیا ہے، جس میں چھوٹے اور بڑے مسائل دونوں شامل ہیں۔ باڈی پارٹس بھی مل جاتے ہیں لیکن مکینیکل اور انجن سے متعلق مسائل پر لازماً غور کرنا چاہیے کیونکہ ان کو ٹھیک کروانا کافی مہنگا پڑ سکتا ہے۔ 

آٹو پارٹس کی دستیابی 

ٹویوٹا پاکستان میں ایک مستحکم اور مقبول کار کمپنی ہے ۔ ٹویوٹا کی گاڑی مقامی طور پر بھی بنتی ہین اور درآمد بھی کی جاتی ہیں اس لیے ان کے پرزوں دستیابی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ آئل اور فلٹر پارٹس ڈھونڈنا کچھ مشکل نہیں۔ زیادہ تر پرزے پاک ویلز پر یا مقامی آٹوپارٹس مارکیٹ کے روایتی ڈیلرز کے پاس مل جاتے ہیں۔


Google App Store App Store

My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top