ٹویوٹا پاکستان نے چھوٹی گاڑیوں کی پیشکش کا امکان رد کردیا

toyota

انڈس موٹر کمپنی کے آئندہ سربراہ علی اصغر جمالی نے کہا ہے کہ فی الوقت پاکستان میں چھوٹی گاڑیوں کی پیشکش سے متعلق کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ علی جمالی نے یہ بات رائل پام گولف اینڈ کنٹری کلب لاہور میں ٹویوٹا فورچیونر اور ہائی لکس ریوُو کی تعارفی تقریب کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندگان سے بات کرتے ہوئے کہی۔

پاکستان مین سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑیوں کی فہرست بنائی جائے تو ان میں چھوٹی گاڑیوں (1000cc انجن سے کم ) کی تعداد نمایاں ہوگی۔ فی الوقت پاکستان میں چھوٹی گاڑیوں کے زمرے میں پاک سوزوکی کو سبقت حاصل ہے جو سوزوکی مہران، سوزوکی کلٹس اور سوزوکی ویگن آر کی بدولت ملک میں سب سے زیادہ گاڑیاں تیار اور فروخت کرنے والا ادارہ بن چکا ہے۔ تاہم سوزوکی گاڑیوں میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث کئی خریدار انہیں ترجیح نہیں دیتے جس کے باعث ایک خلا موجود ہے۔

پاکستان میں خریداروں کی ایک بڑی تعداد بہتر سے بہتر گاڑی کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے۔ لوگوں کی عام رائے یہی ہے کہ ٹویوٹا پاکستان جدید سہولیات کی حامل اور خریداروں کی توقعات پر مکمل اترنے والی چھوٹی گاڑیاں متعارف کروا سکتا ہے۔ تاہم نئی ٹویوٹا فورچیونر اور ہائی لکس ریوو کی تعارفی تقریب کے بعد علی اصغر جمالی نے ان امکانات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ انڈس موٹرز پاکستان میں 1000cc انجن سے کم کوئی بھی گاڑی پیش کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

انڈس موٹرز کے چیف آپریٹنگ آفیسر علی اصغر جمالی نے کہا کہ ٹویوٹا کو چھوٹی گاڑیوں کی تیاری پر ملکہ حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انڈس موٹرز اور ٹویوٹا موٹر کارپوریشن کے درمیان پاکستان میں نئی گاڑیوں کی پیشکش سے متعلق بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے باور کروایا کہ عوام کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ٹویوٹا موٹر کارپوریشن ایک بین الاقوامی ادارہ ہے اور اس کے متعدد ذیلی اداروں کے ساتھ شراکت داری ہے جس کی وجہ سے مجموعی صورتحال کے جائزے کے مطابق حتمی فیصلہ کرنے میں وقت لگتا ہے۔

Ali Asghar Jamali

علی جمالی نے کہا کہ وہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال میں بہتری کی طرف اٹھنے والے ہر قدم کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی معیشت کو مضبوط بنانے کی ہر پالیسی کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے کیوں کہ اس سے نہ صرف ملک میں نئے سرمایہ کار آتے ہیں بلکہ مجموعی معاشی صورتحال میں بھی بہتری آتی ہے۔ علی جمالی کہتے ہیں کہ سال 2025 تک پاکستان میں تیار شدہ گاڑیوں کی فروخت 5 لاکھ تک پہنچانے کا سنگ میل حاصل کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: 2025 تک گاڑیوں کی فروخت میں 200 فیصد اضافے کا امکان

پاکستان میں نئی گاڑیوں کے فقدان کی بنیادی وجہ طویل المعیاد پالیسیوں کے عدم تسلسل کو قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے جس میں ٹویوٹا پاکستان کا حصہ بھی نمایاں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مقامی تیار شدہ نئی گاڑیوں کی مارکیٹ میں انڈس موٹرز فی الوقت 28 فیصد شراکت رکھتی ہے۔ اب جبکہ نئی آٹو پالیسی کا نفاذ عمل میں آچکا ہے اور ملک کی اقتصادی صورتحال بھی بدتریج بہتری کی جانب گامزن ہے تو امید رکھی جاسکتی ہے کہ ان عوامل کا مثبت اثرا گاڑیوں کے شعبے پر بھی ہوگا۔


Top