پاکستان میں ٹویوٹا کا نیا ریکارڈ؛ 2015 میں 57,000 گاڑیاں فروخت!

toyota-company

پاکستان میں گاڑیوں کا شعبہ طویل عرصے سے ترقی دیکھ رہا ہے جس کا اندازہ تینوں بڑے کار ساز اداروں کی سالانہ رپورٹ سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ سوزوکی، ٹویوٹا اور ہونڈا (Honda) تینوں ہی اداروں کی گاڑیوں کی فروخت پچھلے سالوں کے مقابلے میں 2015 کے دوران زیادہ رہی۔ مجموعی طور پر سال 2015 میں 179,953 گاڑیاں فروخت ہوئیں جبکہ گزشتہ سال 2014 میں یہ تعداد 136,888 تھی۔ یوں گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں سال بہ سال 31 فیصد اضافہ ہوا۔

سال 2015 میں ٹویوٹا (Toyota) نے سب سے زیادہ 57 ہزار گاڑیاں فروخت کیں۔ باوجودیکہ ان کے کارخانوں میں صرف 54,800 گاڑیاں تیار کی جاسکتی تھیں لیکن ٹویوٹا نے صارفین کی مانگ پوری کرنے کے لیے اضافی اقدامات اٹھائے اور 2200 نئی گاڑیوں کی تیاری کو ممکن بنایا۔ حسب توقع ان گاڑیوں میں بھی سب سے زیادہ تعداد ٹویوٹا کرولا (Corolla) ہی کی رہی۔

نئی ٹویوٹا کرولا آسان اقساط پر حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی اضافی فروخت ملک کی مجموعی اقتصادی صورتحال میں بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جاپانی ین کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے سے گاڑیوں کے پرزے درآمد کیے جانے میں بھی آسانی میسر آئی جس سے گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑا فرق نہیں آیا۔یاد رہے کہ پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کے 75 فیصد پرزے بیرون ملک سے منگوائے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بتدریج کمی نے بھی گاڑیوں کی فروخت میں کردار ادا کیا۔ تیسرا اور اہم ترین عنصر گاڑیوں اور نجی اداروں کی جانب سے آسان اقساط پر گاڑیوں کی فراہمی رہا۔ بہت سے افراد نے ان اداروں کی مدد سے نئی گاڑیاں خریدیں جن پر دیا جانے والے انٹرسٹ پچھلے 42 سال کی کم ترین شرح پر پہنچ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: رواں مالی سال کے سات ماہ میں ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں فروخت

پاکستان آٹو موبائل کارپوریشن اور سوزوکی موٹر کارپوریشن (جاپان) کے اشتراک سے پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والے ادارے پاک سوزوکی (Pak Suzuki) نے بھی 54 فیصد زیادہ گاڑیاں فروخت کیں۔ اس کا تمام تر سہرا پنجاب ٹیکسی اسکین کے سر جاتا ہے۔ اس اسکیم کی بدولت سوزوکی بولان اور سوزوکی راوی کی ریکارڈ فروخت ہوئی۔ رواں ماہ یہ اسکیم ختم ہورہی ہے تو اب دیکھنا ہوگا کہ پاک سوزوکی جس طرح گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ برقرار رکھتا ہے۔

وزیر تجارت خرم دستگیر نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گاڑیوں کے شعبے سے منسلک اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی کارکردگی میں اضافہ کریں اور دیگر ممالک میں اپنی مصنوعات کو درآمد کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں مشرقی وسطیٰ ایک بڑی مارکیٹ ثابت ہوسکتی ہے۔یاد رہے کہ اس وقت پاکستان سے صرف سری لنکا اور چند افریقی ممالک کو ہی گاڑیوں کی مصنوعات برآمد کی جاتی ہیں۔

Top