ٹویوٹا کرولا آلٹِس گرانڈے: کامیابی کے لیے مزید بہتری درکار

altis-grande-featured

میں گومگو کی صورتحال میں ہوں۔ مجھے لگتا ہے میں بے حد امیر ہوں اور میرے پاس بائیس لاکھ ننانوے ہزار روپے ہیں۔ ارے واہ! یہ تو دلچسپ اتفاق ہوگیا کہ اتنے ہی پیسوں میں نئی ٹویوٹا کرولا آلٹِس گرانڈے 2015 خریدی جاسکتی ہے۔ منظر بدلتا ہے اور اب میں شوروم میں داخل ہورہا ہوں۔ وہاں موجود ایک نمائندہ میری طرف بڑھ رہا ہے۔ میرے پاس آ کر وہ کہنے لگا کہ “جناب ملاحظہ کیجیے XLi”۔ منظر پھر بدلتا ہے اور اب میرے سامنے آلٹِس گرانڈے کھڑی ہے اور میں اس کی تعریفوں کے پُل باندھ رہا ہوں۔ لیکن اچانک شوروم کا نمائندہ مجھے ٹوکتا ہے “جناب یہ تو GLi ہے” اور میرا سارا جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ منظر پھر بدلتا ہے اور اب میں ایک نئی گاڑی کے سامنے ہوں جو میرے خیال سے آلٹِس گرانڈے ہے۔ ابھی میں کچھ کہنے کے لیے منہ کھولتا ہی ہوں کہ مجھے اس پر ٹویوٹا کرولا XLi لکھا نظر آتا ہے۔ یک بعد دیگرے منظر بدلتے رہتے ہیں اور بہت سی کرولا کو آلٹِس گرانڈے سمجھنے کے بعد میری مایوسی انتہاؤں کو چھونے لگتی ہے۔ ایسے میں شوروم کا نمائندہ کونے پر کھڑی ایک گاڑی کے پیچھے لگے 200 روپے والے بیج کی طرف اشارہ کرتا ہے جس آلٹِس گرانڈے لکھا ہوا ہے۔ اگلی جانب ویسی ہی گِرل، ویسے یہ پہیے، ویسی ہی لائٹس اور۔۔۔۔ اور کیا چاہیے؟

see-the-difference

میرے ذہن میں سوال کلبلا رہے تھے جنہیں میں نے بمشکل روک رکھا تھا لیکن ایک سوال جو میں پوچھے بغیر نہیں رہ سکتا وہ یہ ہے کہ کوئی پانچ لاکھ روپے ایک ہی جیسی گاڑی کے لیے کیوں خرچ کرے گا؟ آخر کیوں؟؟

ایک عام آدمی کے لیے ٹویوٹا کرولا XLi کے بعد ٹویوٹا آلٹِس گرانڈے دیکھنا بالکل بے معنی ہے کیوں کہ ان دونوں میں کوئی واضح فرق سرے سے ہے ہی نہیں۔ ٹویوٹا گرانڈے کو ہونڈا سِوک کی جگہ دلوانا چاہتی ہے جبکہ ان کی ایکس ایل آئی اور جی ایل آئی ہونڈا سِٹی کی جگہ لے رہی ہے لیکن ٹویوٹا کو شاید یہ نظر نہیں آرہا کہ ہونڈا سِوک X بھی بس چند ہی مہینوں میں آیا چاہتی ہے اور لوگ پہلی ٹائپ – آر سِوک دیکھنے کے لیے بہت بے تاب ہیں۔

نئی سِوک کا انداز صرف نوجوان کو متاثر نہیں کر رہا بلکہ وہ اچھی خاصی عمر اور پروفیشنل افراد میں بھی سراہا جا رہا ہے۔ ہونڈا نے سال 2012 میں پچھلی جنریشن سے کافی سبق سیکھا ہے اور اب انہیں اندازہ ہے کہ وہ تیزی بدلتے رجحانات کی وجہ سے زیادہ عرصہ پرانی سِوک کو نہیں گھسیٹ سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار ہونڈا نے صرف انداز ہی نہیں بلکہ متعدد انجن بھی شامل کیے ہیں۔

Honda Civic Type R Sedan2

دوسری طرف کرولا آلٹِس گرانڈے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اب وہ سِوک X کے مقابلے سے باہر ہوگئی ہے۔ آلٹِس گرانڈے ڈیزائن کے اعتبار سے XLi اور GLi کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہونے کا خواب پورا نہیں کرسکی۔ سِوک کا انداز کافی جذباتی ہے جبکہ گرانڈے کا انداز ہموار اور ساکت ہے جسے کہیں سے بھی اضافی پانچ لاکھ کا حقدار نہیں کہا جاسکتا۔ اب ان دونوں کا رشتہ کچھ ایسا ہوگیا ہے جیسے بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز اے ایم جی۔ جہاں ایم ایک اسپورٹس کار ہے تو دوسری طرف اے ایم جی لحیم شحیم۔

ذیل میں گرانڈے کا ایک ڈیزائن موجود ہے جو ہم نے مختصر وقت میں تیار کیا ہے۔ اگر چاہیں تو ہمارے قارئین اور ٹویوٹا اسے پاک ویلز ایڈیشن قرار دے سکتے ہیں۔

Orange-Artistic-Background(1)

آلٹِس گرانڈے سامنے آنے سے قبل میری انڈس موٹرز میں اسی حوالے سے گفتگو ہوئی تھی کہ یہ کیسی ہوگی اور اس پر عوام کے کیا تاثرات ہوں گے۔ ہم نے اس پر بھی بات کی کہ اسے TRD کہا جانا چاہیے بجائے گرانڈے قرار دیں اور اسے XLi کے انداز سے بھی مختلف ہونا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔

کار ساز ادارے ٹیکنالوجی کے ذریعے بچت کرتے ہیں نا کہ انداز میں کانٹ چھانٹ کر کے پیسے بچائیں۔ عالمی سطح پر سِوک اور کرولا کو یکساں سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ ادارے کروز کنٹرول، بٹن سے اسٹارٹ کرنے کی سہولت، ایئر بیگز وغیرہ سے منافع بنا لیتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمارے بلاگ پر موجود اس تحریر میں بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ سِوک میں یہ کام کیسے کیا جاتا ہے۔ اس لیے گاڑی کی تراش خراش میں کنجوسی کے بجائے ٹیکنالوجی پر نظر رکھنی چاہیے کیوں کہ یہی مہنگی چیز ہے۔

Grey-Side-Artistic-bg

Baber K. Khan

An auto enthusiast trying to bring car media mainstream.

Top