ٹویوٹا کی جانب سے ڈیزل گاڑیوں کی تیاری بند کرنے کا عندیہ

2016_FCV.Toyota_Fuel_Cell_Vehicle

مغربی ممالک کی جانب سے گاڑیوں کے دھویں سے متعلق قوانین کو مزید سخت کیے جانے کے بعد کار ساز اداروں نے مختلف اقدامات اٹھائے۔ ان میں سے ایک انجن کے حجم کو کرنا بھی تھا تاہم اس کے لیے کار ساز اداروں کو انجن کی قوت میں بھی کمی لانا پڑی۔ انجن کی قوت میں کمی کو پورا کرنے کے لیے ٹربوچارجر بنائے گئے ۔ دنیا بھر میں بہت سے اداروں نے یہی تکنیک استعمال کرنے کو بہتر خیال کیا ہے۔ انہیں میں سے ایک گاڑیاں بنانے والا جرمن ادارہ ووکس ویگن (Volkswagen) بھی ہے کہ جس نے ٹربو چارجڈ ڈیزل انجن بنائے۔ تاہم ڈیزل گیٹ اسکینڈل نے ووکس ویگن کا بھانڈا پھوڑ دیا اور ان کی یہ تکنیک اس حد تک بدنام ہوئی کہ لوگ اب ٹربوچارجڈ ڈیزل انجن کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سال 2016 کے 50 بہترین ادارے؛ ٹویوٹا اور ٹیسلا بھی شامل

جہاں ایک طرف دنیا بھر کے کار ساز ادارے ٹربو چارجڈ انجن کو اپنا رہے تھے وہیں جاپانی کار ساز ادارہ ٹویوٹا موٹرز کچھ مختلف سوچ رہا تھا۔ ٹویوٹا نے ٹربوچارج تکنیک سے استفادہ حاصل کرنے کے بجائے ہائبرڈ تکنیک کومستقبل میں کامیابی کی کنجی سمجھا۔ اس ضمن میں ٹویوٹا نے بے تحاشہ سرمایہ کاری کی اور اب تک اس سے قابل ذکر کامیابیاں حاصل ہوچکی ہیں۔ اور اب ٹویوٹا (Toyota) نے دیگر اداروں کی روایت کے برخلاف جاتے ہوئے ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا باعث بننے والی ڈیزل انجن کی حامل گاڑیوں کی تیاری ہی بند کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ گاڑیاں فروخت کرنے والا ادارے کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اب وہ ڈیزل انجن والی گاڑیوں کو خیرباد کہنے کا سوچ رہا ہے۔

اگر آپ ڈیزل انجن گاڑیوں کے مداح ہیں تو دل برداشتہ نہ ہوں کیونکہ ابھی یہ صرف ایک اعلان ہی ہے۔ ٹویوٹا کی جانب سے اب تک اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ وہ اپنے خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کب اور کیسے شروعات کرے گا۔ ویسے بھی ٹویوٹا کی جانب سے پاکستان میں ڈیزل انجن کی حامل کوئی گاڑی کئی عشروں سے پیش نہیں کی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہاں دستیاب غیر معیاری ڈیزل ہے لہٰذا ٹویوٹا کو اس کا قصور وار قرار نہیں دیا جاسکتا۔

landcruiser-200-diesel

موجودہ صورتحال پر نظر ڈالیں تو ٹویوٹا پہلے ہی ڈیزل گاڑیوں کی فروخت انتہائی محدود کرچکا ہے۔ اس وقت ٹویوٹا کی زیادہ تر ڈیزل گاڑیاں یورپ میں فروخت کی جارہی ہیں۔ اور ان گاڑیوں کی استعداد پیٹرول اور ہائبرڈ گاڑیوں سے کافی کم ہے۔ اس کے باوجود ٹویوٹا کے خیال میں لینڈ کروزر اور ٹویوٹا ہائی لکس جیسی بڑی، مہنگی اور پُرتعیش گاڑیوں کے لیے ڈیزل انجن کا متبادل فراہم کرنا کافی مشکل کام ہوگا۔

عالمی سطح پر ٹویوٹا کی مقبولیت دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ جاپانی ادارہ اس طرز کے انتہائی کٹھن اور مشکل فیصلہ لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ٹویوٹا پہلے ہی بے شمار ہائبرڈ گاڑیاں پیش کرچکا ہے جنہیں دنیا بھر میں زبردست پزیرائی حاصل ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ٹویوٹا ہائیڈروجن سیل سے بننے والے ایندھن پر بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ٹویوٹا جلد یا بدیر ڈیزل انجن سے اپنا ناطہ توڑ دے گا۔

Top