ٹویوٹاوِٹز بمقابلہ ٹویوٹا ایکواء بمقابلہ ہنڈا سِٹی،آپ کو کونسی خریدنی چاہئے؟

toyota-vs-honda
اگر آپ ٹویوٹاوِٹز،ٹویوٹا ایکواء یا ہنڈا سِٹی میں سے کوئی بھی گاڑی خریدنے پر غور کر رہے ہیں،توآپ ہمارے ساتھ رہیں ہو سکتا ہے کہ یہ آرٹیکل آپ کی تلاش میں کہ آپ چاہ کیا رہے ہیں آپ کی مدد کرے۔ یہاں ہم ان تین گاڑیوں پر بات کریں گے،چھ مختلف حوالوں سے ان کا آپس میں موازنہ کریں گے اور یہ جانیں گے کہ ان میں سے کون سی گاڑی کس حوالے سے آپ کی ضروریات پر پورا اترتی ہے۔ یہ سب معلومات ملتے ہی آپ با آسانی فیصلہ کرپائیں گے کہ کون سی گاڑی لی جائے۔
٭    انجن اور سپیسفکیشن
ciaz-vs-city-5
    ہنڈا سِٹی:
                فِفتھ ہنڈا سِٹی دو مختلف انجن آپشنز،ایک اعشاریہ تین لیٹر اور ایک اعشاریہ پانچ لیٹر فور آئی وی ٹیک انجن میں دستیاب ہے۔ایک اعشاریہ تین لیٹر گاڑی ایک سو بی ایچ پی دیتی ہے جبکہ ایک اعشاریہ پانچ لیٹر والی گاڑی ایک سو بیس بی ایچ پی دیتی ہے۔دونوں گاڑیاں فائیوِ سپیڈ مینویل کے ساتھ آتی ہیں اور یہ سی وی ٹی آٹو میٹک ٹرانسمیشن کی اضافی آپشن میں بھی دستیاب ہیں۔ایک اعشاریہ تین لیٹر اور ایک اعشاریہ پانچ لیٹر کی دونوں گاڑیاں ہی عام ڈرائیونگ حالات میں بہترین ایکسلریشن اور طاقت مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں مگر ایک اعشاریہ تین لیٹر والی آٹو میٹک گاڑی بعض اوقات سست روی کا شکار ہوتی ہے،خیر ان میں سے کوئی بھی گاڑی آپ کو مزید طاقت کی ضرورت کا احساس نہیں دلاتی۔
    ٹویوٹا ایکواء:
                  ٹویوٹا ایکواء ایک اعشاریہ پانچ لیٹر کے فور اِن لائن انجن کے ساتھ آتی ہے جو کہ ایک الیکٹرک موٹر سے آگے پیچھے کام کرتا ہے،یہ انجن ایک سو بی ایچ پی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور سی وی ٹی آٹو میٹک ٹرانسمیشن کی اکلوتی آپشن کے ساتھ آتا ہے۔ٹویوٹا ایکواء الیکٹرک موٹر کے ساتھ فوری ٹارک کی بدولت تھوڑی زیادہ بہتر ایکسلریشن مہیا کرتی ہے، اور یہ سب مِل کر روز مرہ کی ڈرائیونگ میں آپ کو بہتر کارکردگی مہیا کرتے ہیں۔
     ٹویوٹا وِٹز:
                ٹویوٹا وِٹز انجن سے متعلق بے شمار آپشنز کے ساتھ آتی ہے جن میں ایک اعشاریہ صفر لیٹر تھری اِن لائن،ایک اعشاریہ تین لیٹر فور اِن لائن اور ایک اعشاریہ پانچ لیٹر فور اِن لائن انجن شامل ہیں جو کہ بالترتیب،اکہتر،چوراسی،اور ایک سو دس بی ایچ پی بناتے ہیں۔یہ تمام انجن پانچ سپیڈ مینویل ٹرانسمیشن کے ساتھ آتے ہیں جو آٹو میٹک آپشن میں بھی دستیاب ہیں۔تین سیلنڈر پر مشتمل یہ ترتیب کچھ لوگوں میں سست تصور کی جاتی ہے،مگراس گاڑی کا کم وزن ہونااور چھوٹی باہری ساخت اسے بہتر کارکردگی فراہم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔جبکہ
چار سیلنڈر والے ماڈلز آ پ کوکام کرنے کے لحاظ سے بے شمار طاقت اور کارکردگی مہیا کر سکتے ہیں۔
٭    رائیڈ اور ہینڈلنِگ
Toyota_Aqua_Featured-1
    ہنڈا سِٹی:
               ہنڈا سِٹی ہینڈلنگ کے حوالے سے ضرورت بھر تیز اور باقاعدگی رکھتی ہینڈلنگ فراہم کرتی ہے۔آپ سٹی کو اس اعتماد کے ساتھ چلا سکتے ہیں کہ یہ آپ کے مکمل کنٹرول میں ہے، اس کی رائیڈ ذرا سخت قسم کی ہے،تو یوں آپ کو اس میں کھڈے اور خراب سڑکیں دوسری گاڑیوں کی نسبت زیادہ محصوص ہوں گی۔سِٹی کی کم گراؤنڈ کلیئرنس کی بدولت یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ اسے زیادہ تر شہروں یا قصبوں میں چلایا جائے اور جتنا ممکن ہو غیر ہموار اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے پرہیز کیا جائے۔
    ٹویوٹا ایکواء:
                 ٹویوٹا ایکواء ہینڈلنگ کے اعتبار سے سِٹی سے کافی ملتی ہے،یہ تقریباً گول اور براہِ راست سٹیئرنگ دے کر ہینڈلنگ کے تجربے کو مزید خوبصورت بناتی ہے۔اس کی سسپینشن بھی کافی بہتر ہے،ایکواء کھڈوں یا خراب راستوں پر چلنے کا کام بخوبی انجام دیتی ہے مگر بعض اوقات یہ زیادہ دشوار راستوں یا تیز رفتاری کی وجہ سے تھوڑی مشکل محصوص کرتی ہے،جو کہ چھوٹی وہیل بیس کاایک نقصان ہے۔کل ملا کر اس کی ہینڈلنگ کے متعلق مزید کچھ نہیں کہا جا سکتا اور اسے تنی قیمت رکھنے والی گاڑی کے اعتبار سے تھوڑا مایوس کن بھی سمجھا جا سکتاہے۔اس طرح ہمیں یوں لگتا ہے کہ زیادہ رقم ہائبرڈ ڈرائیوٹرین پرہی لگی ہے۔
    ٹویوٹا وِٹز:
               ٹویوٹا وِٹز بھی کمال کی ہینڈلنگ فراہم کرتی ہے،اس کا سٹیئرنگ بھی تقریباً گول اور براہِ راست ہے۔اس کی سسپینشن گڑھوں اور خراب سڑکوں پر چلنے میں کافی کارآمد ہے،لیکن ایک بار پھر یہ سب ایسی خصوصیات نہیں جو کہ کسی گاڑی کے اچھے یا پرکشش ہونے کے لئے کافی ہوں۔وِٹز کی چھوٹی وہیل بیس کا مطلب تیز رفتاری میں تھواڑا بہت اچھال پیدا ہونا ہے۔کل ملا کہ وِٹز کے ہینڈلنگ تجربے کو ایوریج کہا جا سکتا ہے۔
٭    انٹیریئر کا میعار، خصوصیات اور عملی ہونا۔
VITZ_011
    ہنڈا سِٹی:
               ان گاڑیوں میں ہنڈا اکلوتی گاڑی ہے جو کہ سیڈان ہے،تو قدرتی طور پر یہ بات واضح ہے کہ دوسری ہیچ بیک سے موازنہ پر یہ ایک عملی گاڑی کے طور پر سامنے آتی ہے۔ہنڈا سِٹی باہر سے کمپیکٹ لگنے کے با وجود اندرسے کافی کشادہ ہے۔اس کا لیگ روم آگے اور پیچھے دونوں طرف سے کافی کھلا ہے یہاں تک کہ چھ فٹ لمبے لوگوں کو بھی سِٹی میں بیٹھنے پر کو تنگی نہیں پیش آتی۔اس کے پیچھے موجود کھلی ڈِگی جگہ کے لحاظ سے بھی اسے ایک عملی گاڑی ثابت کرتی ہے کہ اس میں آپ کافی چیزیں لا اور لے جا سکتے ہیں۔اس کے انٹیریئر کا ڈیزائن دو رنگوں پر مشتمل ہے جو کہ نہائت مہارت سے بنائے جانے کا پتا دیتا ہے اور آنکھوں کو بھی لبھاتا ہے۔اس کا ڈیش بورڈ تین ڈائلزپر مشتمل ہے جن میں رِیورس میٹر، سپیڈومیٹر اور فیول گیج شامل ہیں۔سِٹی میں ایک چھوٹا سا ڈسپلے ہے جو کہ موجودہ فیول اکانومی اور رینج کا بتاتا ہے مگر اس میں ٹمپریٹ گیج کی کمی ہے۔یہ بنیادی مینویل ایئر کنڈشننگ کنٹرول،پاور وِنڈوز،پاور مِررز،اور عام دوسپیکرز پر مشتمل سٹیریو سسٹم رکھتی ہے۔ پر آپ اس میں ٹچ سکرین انفوٹینمنٹ سسٹم بشمول نیویگیشن اور چار سپیکرز کا سٹیرِیو سسٹم بھی لگوا سکتے ہیں۔اس میں استعمال شدہ پلاسٹک کا میعار نہائت اعلیٰ ہے،دروازوں پر کپڑے کی لائننگ ہے اور نشستوں کے کوربھی کپڑے کے ہیں جیسا کہ اکثر استعمال ہوتے ہیں۔
    ٹویوٹا ایکواء:
                 دوسری جانب ٹویوٹا ایکواء ڈرائیور اور اگلی سورای کے لئے ایک نہائت ہی کھلا کمپارٹمنٹ دیتی ہے،لیکن اس کی پچھلی نشستیں ذرا تنگ ہیڈ روم اور لیگ روم رکھتی ہیں۔ایکواء ایک ہیچ بیک ہے اسی وجہ سے یہ کھلے پن میں سیڈان کا مقابلہ نہیں کر سکتی،مگراس سائیز کی گاڑیوں میں یہ مناسب بوٹ سائز رکھتی ہے اور اس کی پچھلی نشستیں فولڈ ہو کر سٹوریج سپیس میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔ایکوا کا انٹیریئر وٹِز اور پریئس کے ڈیزائن کی ملی جلی کیفیت دیتا ہے،ایک اہم گاڑی ہونے کے ناطے یہ ڈجیٹل ڈیش بورڈ،کلائمیٹ کنٹرول،اِیکو موڈ بٹن اور ای وِی بٹن بھی رکھتی ہے جو کہ آپ کو صرف الیکٹرک پاور میں ہی گاڑی چلانے کے قابل بناتا ہے،پش سٹارٹ اگنیشن،کروز کنٹرول،الیکٹرونکلی ریٹریکٹیبل پاور مِررز،سات انچ کی انفوٹینمنٹ ٹچ سکرین بشمول چار سپیکرزکے سٹیریو سسٹم،رِیورسنگ کیمرہ،ایک سے زیادہ کپ ہولڈرز،پاور وِنڈوز،اور کھلی انٹیریئر سٹوریج سپیس یہ سب مل کراسے مزید پرکشش بناتے ہیں۔اس میں استعمال شدہ میٹیریل کی کوالٹی نہائت عمدہ ہے اور پلاسٹک کا میعار بھی بہترین جو کہ اس کے اعلیٰ مہارت سے بنائے جانے کا پتا دیتی ہے،اس کے چاروں دروازوں پر کپڑے کا لائننگ ہے اور اس کی نشستیں بھی کپڑے کی ہی ہیں۔
    ٹویوٹا وِٹز:
               دوسری جانب ٹویوٹا وِٹزایک امپورٹِڈ گاڑی ہونے کے ناطے نہائت اعلیٰ انٹیریئررکھتی ہے مگراس کی خصوصیات ایکواء سے نسبتاً کم ہیں۔وِٹز کی باہری ڈائمینشنز کے پیشِ نظر یہ عمدہ ہیڈ روم لئے نہائت کھلا انٹیریئر رکھتی ہے اور اگلی سواریوں کے ساتھ ساتھ پچھلی سوراریوں کے لئے بھی ضرورت بھر لیگ روم رکھتی ہے۔ایک ہیچ بیک ہونے کے ناطے یہ بھی اچھا بوٹ سائز رکھتی ہے اور اسکی پچھلی نشستیں بھی سٹوریج سپیس بڑھانے کے لئے فولڈہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔وٹِز کا انسٹرومینٹ کلسٹر سپیڈومیٹر،فیول گیج،ایک چھوٹے ڈسپلے والے ٹرِپ کمپیوٹر کے ساتھ صرف بنیادی ڈائلز رکھتا ہے۔مزید اس میں مینویل ایئر کنڈشننگ،ٹریکشن کنٹرول،پاور ونڈوز،الیکٹرونکلی ریٹریکٹیبل پاور مِررز،ایک سے زائد کپ ہولڈرز اور ٹچ سکرین انفوٹینمنٹ سسٹم ہوتا ہے۔اس کے ہائی اینڈ ماڈلز میں آپ  ہیٹڈِ فرنٹ سیٹس،کلائمیٹ کنٹرول اور کروز کنٹرول جیسی خصوصیات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔اس میں استعمال میٹیریل کی کولٹی بھی اچھی ہے اور نرم قسم کے پلاسٹک پر مبنی ہے،انٹیریئر میں کپڑے کا استعمال کیا گیا ہے جو کہ بہترین بناوٹ اور محصوصات دیتا ہے۔
٭    تحفظ
Honda City Review by PakWheels (20)
    ہنڈا سِٹی:
               تحفظ کے لحاظ سے ہنڈا سِٹی ذرا نیچے نظر آتی ہے،فِفتھ جنریشن ہنڈا سِٹی کے ساتھ آ پ کو کوئی ایئر بیگز میسر نہیں آتے،یہاں تک کہ ڈرائیونگ ایئر بیگ بھی نہیں۔ اس میں کو ئی ڈرائیو ٹرین مینجمنٹ سسٹم بھی نہیں ہے اور نہ ہی ٹریکشن کنٹرول یا سٹیبلٹی کنٹرول ہے۔سِٹی مقامی تحفظ کے میعار کو مدِنظر رکھ کر بنائی گئی ہے تو اس کی باہری یا سٹرکچر کی مظبوطی کے لحاظ سے بھی اس کے متعلق کچھ اچھا نہیں کہا جا سکتا۔ایک ہی سِسٹم جو تحفظ کے حوالے سے قابلِ ذکر ہے وہ اس کی اے بی ایس ڈِسک بریکس ہیں جو کہ اپنا کام بخوبی انجام دیتی ہیں۔
    ٹویوٹا ایکواء:
                 ٹویوٹا ایکواء جاپانی تحفظ کے میعار کے مطابق بنائی گئی ہے جو کہ ہمارے میعار سے کافی بہتر ہے۔ ان گاڑیو ں میں جدید آٹو موٹِو ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ایکواء سب سے پہلے تو بنیادی سہولیات جیسا کہ ہر نشست پر سیٹ بیلٹ رکھتی ہے،اے بی ایس کے حوالے سے بات کی جائے تویہ دو ایئر بیگز رکھتی ہے۔اس کے علاوہ یہ ٹریکشن کنٹرول،بریک اسِسٹ،الیکٹرانک بریک فورس ڈسٹریبیوشن،سمارٹ سٹاپ ٹیکنالوجی اور وہیکل سٹیبلٹی کنٹرول جیسی خصوصیات کی حامل بھی ہے۔ایکواء گاڑی اپنے اگلی اور پچھلی دونوں جانب کرمبل زونز بھی رکھتی ہے۔
    ٹویوٹا وِٹز:
               ٹویوٹا وِٹز بھی ایسی گاڑی ہے جو جاپانی تحفظاتی میعار پر پورا اترنے کے لئے تخلیق کی گئی ہے، ٹویوٹا وِٹز تھرڈ جنریشن آٹھ ایئر بیگز رکھتی ہے اور ان کی تعداد نو ہو جاتی ہے اگر آپ ڈرائیور نی ایئر بیگ بھی جمع کریں۔یہ جاپانی تحفظاتی میعار کو مدِنظر رکھ کر بنائی گئی ہے جیسا کہ کرمپل زون،اے بی ایس،ٹریکشن کنٹرول،بریک اسِسٹ اور الیکٹرانک بریک فورس ڈسٹریبیوشن۔
٭    فیول اکانومی
feature toyota aqua s 2013
    ہنڈا سِٹی:
              ہنڈا سِٹی اس کیٹگری میں تمام گاڑیوں پر فوقیت رکھتی ہے جیسا کہ پاک وہیل کے سروے کے مطابق بھی یہ پاکستان میں موجود سب سے زیادہ فیول ایفشنٹ گاڑی ہے۔ایک اعشاریہ تین لیٹر اور ایک اعشاریہ پانچ لیٹر ماڈل کی دونوں گاڑیاں ہی بنیادی ڈرائیونگ کی صورتحال میں کہیں بھی گیارہ سے چودہ کلو میٹرتک دیتی ہیں، جبکہ آٹو میٹک گاڑی نو سے گیارہ کلو میٹر تک دیتی ہے۔ان کا فیول ٹینک بیالیس لیٹر پیٹرول کی گنجائش دیتا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ مینویل میں چار سو باسٹھ سے پانچ سو اٹھاون کلو میٹر اور آٹو میٹک میں تین سو اٹھتر سے چار سو باسٹھ کلو میٹر کرتی ہیں۔
    ٹویوٹا ایکواء:
              ٹویوٹا ایکواء اس لائن اپ کی اکلوتی ہائبرڈ گاڑی ہے جو کہیں بھی بائیس سے چوبیس کلو میٹر تک کرتی ہے،اور تو اور آپ اِیکو اء ای وِی موڈ کا استعمال کرکے اس سے مزیدبہتر نتائج بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ایکواء چھتیس لیٹر کا فیول ٹینک رکھتی ہے اورایک ہی بار فل کروانے پر آپ کوسات سو بانوے سے آٹھ سو چونسٹھ کلو میٹر تک دیتی ہے۔
    ٹویوٹا وِٹز:
               ٹویوٹا وِٹز بھی اس کیٹگری میں کافی بہتر کارکردگی فراہم کرتی ہے آپ ایک اعشاریہ صفر لیٹر چار سیلنڈر گاڑی سے اٹھارہ کلو میٹر تک کی امید کر سکتے ہیں،ایک اعشاریہ تین لیٹر چار سیلنڈر گاڑی سے چودہ سے سولہ کلو میٹر تک حاصل کر سکتے ہیں، ایک اعشاریہ تین اور ایک اعشاریہ پانچ لیٹر کی آٹو میٹک گاڑیوں ان سے کچھ کم کلو میٹر دیتی ہیں۔وِٹز بیالیس لیٹر کا فیول ٹینک رکھتی ہے جو کہ تین سیلنڈر میں سات سو چھپن کلو میٹر اور چار سیلنڈر میں پانچ سو اٹھاون سے چھ سو بہتر کلو میٹر تک ایوریج دیتی ہے۔
٭    پیسوں کا صحیح استعمال
4-Toyota-Vitz
    ہنڈا سِٹی:
               فِفتھ جنریشن ہنڈا سِٹی ایک اعشاریہ تین لیٹر مینویل کہیں سے بھی پندرہ لاکھ روپے میں اورایک اعشاریہ پانچ لیٹر آٹو میٹک اٹھارہ لاکھ روپے میں مختلف آپشنز کے ساتھ خرید سکتے ہیں۔ہنڈا سِٹی اپنی نوعیت کی اکلوتی سیڈان ہے جو آپ اس قیمت میں خرید سکتے ہیں اور یہی خاصیت اسے تمام مشہور ہیچ بیکس پر فوقیت دیتی ہے۔یہ کم قیمت پریمیم،بہتر عملی ثبوت،اچھی فیول اکانومی اوراستعمال شدہ گاڑیوں میں اعلیٰ ری سیل ویلیو بھی فراہم کرتی ہے۔
    ٹویوٹا ایکواء:
                آپ2010سے2013ماڈل کی ٹویوٹا ایکواء گاڑی کہیں سے بھی پندرہ سے اٹھارہ لاکھ روپے ہیں خریدسکتے ہیں،جبکہ نئی 2015اور2016ماڈل کی گاڑی کم مائلز کے ساتھ اکیس لاکھ روپے تک جاتی ہیں۔ٹویوٹا ایکواء قیمت کے لحاظ سے بہت زیادہ پریمیم رکھتی ہے لیکن اتنی زیادہ قیمت میں آپ بہترین فیول اکانومی کے ساتھ ساتھ،بہتر انٹیرئیر، خصوصیات اور اعلیٰ میعار پاتے ہیں اورتو اور آپ اسی قیمت میں دستیاب دوسری گاڑیوں کی نسبت ایک محفوظ گاڑی حاصل کرتے ہیں۔
    ٹویوٹا وِٹز:
               آپ ٹویوٹا وِٹزپاکستان بھر میں کہیں بھی پندرہ سے اٹھارہ لاکھ روپے میں حاصل کر سکتے ہیں،اس کی قیمت کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کو نسا ماڈل لے رہے ہیں۔اس قیمت میں ٹویوٹا وِٹز آپ کو ایک کمپیکٹ ہیچ بیک دیتی ہے جو کہ اس لائن اپ میں سب سے بہتر طرز کی گاڑی ہے جو آپ کواپنی مدِمقابل گاڑیوں میں اچھی فیول اکانومی،ضرورت بھر انٹیریئر سپیس،بھرپور توازن، بہترین ری سیل ویلیو اوربے پناہ تحفظ فراہم کرتی ہے یوں یہ سائیز کے اعتبار سے اپنی زیادہ قیمت کا قابلِ قبول جوازفراہم کرتی ہے۔

Top