عام موبائل فون سے گاڑی ٹریک کرنے کا طریقہ

Mobilephone-Car

گاڑیوں کی ٹریکنگ سے متعلق اپنے پچھلے بلاگ “گاڑی کی حفاظت کے لیے مہنگے طریقوں کے علاوہ دستیاب کم قیمت ٹریکرز” میں ذکر کیا تھا کہ ایک عام اور سستے سے موبائل فون کو بھی گاڑی ٹریک کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ پاکستان میں موجود کار ٹریکنگ کمپنیاں ابتداء میں تقریباً 40 ہزار روپے اور پھر ماہانہ اخراجات کی مد میں اچھے خاصے پیسے لیتی ہیں، اس لیے بہت سے لوگ اس اضافی خرچے سے پرہیز کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ آن لائن اسٹور جیسا کہ ایمیزون اور ای بے پر دستیاٹریکنگ ڈیوائس بھی خرید کر استعمال کی جاسکتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے جی ایس ایم استعمال کرنے والی ڈیوائسز کی بلا اجازت درآمد پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس لیے ممکن ہے آپ کی خریدی گئی جی ایس ایم ٹریکنگ ڈیوائس راستہ ہی میں دھر لی جائیں اور آپ پیسے ادا کرنے کے باوجود ہاتھ ملتے رہ جائیں۔ میرے ایک دوست کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جس کا ذکر میں مذکورہ مضمون میں بھی کرچکا ہوں۔

gsm-tracking-kit

اب چونکہ سستی ٹریکنگ کٹِس بیرون ملک سے پاکستان منگوا نہیں سکتے ہیں اس لیے آج ہم آپ کو کم قیمت میں گاڑی پر نظر رکھنے کا ایک اور طریقہ بتا رہے ہیں۔ ان میں سب سے آسان اور آزمودہ طریقہ موبائل فون کے ذریعے گاڑی ٹریک کرنے کا ہے۔ اس کے لیے آپ کو ایک عدد اسمارٹ فون درکار ہوگا جسے آپ اپنی گاڑی میں کسی بھی جگہ لگ اکر جی پی ایس چِپ کے ذریعے گاڑی کا مقام باآسانی معلوم کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں و موٹر سائیکل کی چوری میں اضافہ؛ متعلقہ شعبے کے لیے لمحہ فکریہ

اس کام کے لیے سب سے پہلے آپ کو ایک عدد موبائل یا اسمارٹ فون درکار ہوگا جس میں جی پی ایس کی سہولت موجود ہو۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ پاکستان میں ایک سے بڑھ کر ایک موبائل فون کی آمد سے قیمتوں میں کافی کمی آچکی ہے۔ بالخصوص اینڈرائیڈ فون تو اب بہت ہی سستے ہوچکے ہیں لہٰذا کسی قسم کی چوری چکاری کی ضرورت ہر گز نہیں۔ اس کام کے لیے کسی مہنگی برانڈ جیسا کہ سامسنگ، ایل جی وغیرہ لینے کی ہر گز ضرورت نہیں بلکہ وائس موبائل یا کیو موبائل کے کم قیمت اسمارٹ فون بھی بہترین رہیں گے۔ یہ آپ کو 5 ہزار روپے سے بھی کم قیمت میں مل جائیں گے۔ چاہیں تو آن لائن اسٹور سے خریداری کرلیں یا پھر اپنے شہر کی موبائل مارکیٹ سے جا کر خرید لائیں۔

CalmeSparkS25 qmobile-bolt-t50

اسمارٹ فون خریدنے کے بعد اس کے لیے کسی ایسی کمپنی کی SIM خریدیں جو انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے سستے اور اچھے پیکجز پیش کر رہی ہو۔ آج کل پاکستان میں موبائل کمپنیز کی جانب سے بہت ہی سستے انٹرنیٹ پیکجز متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ چونکہ آپ اس فون اور انٹرنیٹ کو صرف گاڑی کی جگہ معلوم کرنے کے لیے استعمال کریں گے، اس لیے ڈیٹا بھی زیادہ خرچ ہونے کا امکان نہیں۔ مزید یہ کہ انٹرنیٹ کے ذریعے اس SIM میں بیلنس وغیرہ بھی ڈالنا آج کے دور میں کوئی مشکل کام نہیں رہا۔

مزید پڑھیں: کار چوروں کی پسندیدہ ٹویوٹا کرولا ایگزیو سے متعلق اہم معلومات

گاڑی مین موبائل فون نصب کرنے سے پہلے اس بات کی تصدیق کرلیں کہ آیا اس میں کوئی غیر ضروری ایپلی کیشن تو موجود نہیں۔ اگر ایسی کوئی بھی ایپلی کیشن یا فیچر ON ہوا ہو تو اس کو فوراً OFF کردیں۔ غیر ضروری ایپلی کیشنز نہ صرف آپ کے موبائل فون کی بیٹری تیزی سے خرچ کریں گی بلکہ انٹرنیٹ کےغیر ضروری استعمال سے اخراجات میں اضافے کا بھی خدشہ رہے گا۔

sony-car-charger-with-usbاب فون کی بیٹری کو ہمیشہ چارج رکھنے کا بندو بست کیجیے۔ اس کے لیے دو کام کیے جاسکتے ہیں۔ یا تو موبائل فون کے چارجر کو گاڑی کی بیٹری سے مستقل طور پر منسلک کردیا جائے یا پھر گاڑی میں موجود موبائل فون چارجر کی سہولت سے فائدہ اٹھایا جائے جس سے آپ کی گاڑی اسٹارٹ ہوتے ہی فون کی بیٹری چارج ہونا شروع ہوجائے۔ اس کام کو کسی ذہین الیکٹریشن کی مدد سے انجام دینا زیادہ موزوں رہے گا۔ الیکٹریشن کی مدد سے فون کی چارجنگ کے لیے وائرنگ ڈیش بورڈ یا پھر پچھلے حصے میں کروائیں۔یہاں اس بات کا خیال رکھیں کہ کوئی بھی تار ظاہر نہ ہو۔ پھر فون کو ایسے مقام پرنصب کریں جہاں کوئی غیر متعلقہ شخص آسانی سے رسائی حاصل نہ کرسکتا ہو۔ اس کے علاوہ کسی بھی غیر بھروسہ مند شخص کو SIM کا نمبر نہ دیں بشرطیکہ گاڑی کی حفاظت مقصود ہو۔

اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں ہی موبائل فون آپریٹنگ سسٹمز کے لیے بے شمار ایپلی کیشنز دستیاب ہیں جن کی مدد سے آپ اس فون کو باآسانی ٹریک کرسکتے ہیں۔ یہاں ہم چونکہ اینڈرائیڈ فون استعمال کر رہے ہیں اس لیے اسی سے متعلق معلومات فراہم کریں گے۔ گاڑی میں لگائے گئے اسمارٹ فون کو ٹریک کرنے کے ‘Prey’ آسان اور بہترین ایپلی کیشنز میں سے ایک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چاندی کا ورق، مائیکرویو اور ریفریجریٹر گاڑی چوری ہونے سے بچا سکتے ہیں

اس ایپلی کیشن کی ویب سائٹ اپنا مفت اکاؤنٹ بنا کر آپ گاڑی میں لگائے گئے فون کو گھر بیٹھے ٹریک کرسکتے ہیں۔ Prey کو فون میں انسٹال اور ایکٹویٹ کرنے کے بعد آپ بذریعہ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیب لیٹ یا کسی بھی انٹرنیٹ سے منسلک ڈیوائس کی مدد سے www.preyproject.com پر جائیں اور اپنا اکاؤنٹ کھول کر گاڑی میں لگے فون کا مقام و جگہ معلوم کرلیں۔

اس کے علاوہ اور بھی سروسز دستیاب ہیں جنہیں آپ اپنی سہولت کے مطابق استعمال کرسکتے ہیں۔ سامسنگ فون رکھنے والے حضرات کے لیے Find My Mobile نامی سروس پہلے ہی سے موجود ہوتی ہے۔ اسے استعمال کرنے کے لیے http://findmymobile.samsung.com پر وزٹ کیا جاسکتا ہے۔

samsung find my phone

ایپل کے فون اور دیگر ڈیوائسز کافی مہنگے ہوتے ہیں اس لیے اسمارٹ فون کے ذریعے گاڑی کو ٹریک کرنے کے لیے اینڈرائیڈ کے حامل فون ہی بہترین ہیں۔ اینڈرائیڈ میں آپ اپنی گوگل آئی ڈی کے ذریعے لاگ ان ہو کر بھی گاڑی کو ٹریک کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے گوگل لوکیشن سروس کو خصوصی اجازت دینا ہوگی تاکہ وہ مستقبل میں آپ کی رہنمائی کرسکے۔

غرض کہ موبائل فون کے ذریعے گھر بیٹھے اپنے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ سے گاڑی کو ٹریک کرنا بہت ہی آسان اور سستا طریقہ ہے۔ اگر آپ اس سے مطمئن نہ ہوں یا اس کا کوئی مرحلہ آپ کو ناقابل عمل لگے تو بے شک پاکستان میں موجود ٹریکنگ کمپنیز کی خدمات حاصل کرلیں۔

  • Zeea Kazmii

    aaj kal to chor bhe mobile jammer sath la kar gari chori karta..us ka kia jae?…jese jese log advance hota jaraha hain wese chor bhe taraqqi kar raha hain.

  • Masood Atif

    Sir aap ka mazmon pardah Acha hai. Main Pakistan Main tracking ka kaam shuru karna chahta hon. Jo sab se sasta aur faidamand ho GA. Koi mashwara dain. Main Khud professional hon tracking devices ki installation k liye.

Top