اوبر اور کریم کو خواتین ڈرائیورز کی تلاش


سعودی عرب سے خبر آئی ہے کہ اوبر اور کریم وہاں خواتین ڈرائیورز کی تلاش میں ہیں تاکہ انہیں بھرتی کر کے تربیت فراہم کی جائے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے پر پابندی ہٹا دی گئی ہے۔ سعودی عرب کے اس انقلابی اقدام کے بعد جون 2018ء سے خواتین خود بھی گاڑیاں چلا سکیں گی۔

سعودی عرب میں اوبر کے جنرل منیجر زید ہریش نے کہا کہ ان کا ادارہ تمام دستاویزی ضروریات پُر کرنے کے بعد جون 2018ء سے قبل ایک تربیتی سیشن کا انعقاد چاہتا ہے۔

ذرائع کے مطابق کریم نے جون 2018ء تک 10 ہزار خواتین ڈرائیورز کو ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کریم کے شریک بانی اور چیف پرائیویسی آفیسر ڈاکٹر عبداللہ الیاس نے اس حوالے سے بتایا کہ

“خواتین کپتان کی بدولت ہم ان مسافر خواتین کو بھی اپنی خدمات فراہم کر سکیں گے کہ جو غیر مرد کے ساتھ سفر کرنے سے ہچکچاتی ہیں؛ یوں سعودی معاشرے کا ایک بڑا حصہ، جو اب تک ہماری خدمات سے دور تھا، آئندہ جون کے بعد کریم سے مستفید ہو سکے گا۔”

سعودی عرب میں خواتین کو خود مختار بنانے کی جانب یہ اپنی نوعیت کا منفرد قدم ہو گا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں کریم کی منعقد کردہ پہلے تربیتی پروگرام میں شریک ایک خاتون امانی العوامی نے کہا کہ “میں ان لوگوں کی مدد کرنا چاہتی ہوں جو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے کسی ذریعہ کی تلاش میں ہوں، یہ سوچ کر خوشی ہوتی ہے کہ میں اپنے ملک کی پہلی خاتون کپتانوں میں شمار ہوں گی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ

” جس چیز نے مجھے کریم کے لیے کام کرنے کی طرف راغب کیا وہ گاڑی چلانے کی اشد ضرورت تھی، سعودی عرب میں بحیثیت خاتون آپ کو مختصر سے سفر کے لیے بھی مرد کی مدد لینا پڑتی ہے اور جہاں میری رہائش ہے وہاں تو مقامی ٹیکسی سروس بھی آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔”

مزید برآں، حفاظتی تدابیر کو مد نظر رکھتے ہوئے کریم نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ خواتین کپتانوں کی خدمات صرف خواتین مسافروں یا پھر ان کے خاندان ہی کے لیے دستیاب ہوں گے۔ اس کے علاوہ کریم کی موبائل ایپ میں ‘کال ماسکنگ’ کا آپشن بھی موجود ہو گا جس سے ڈرائیور اور صارف کوئی بھی ایک دوسرے کا ذاتی نمبر نہیں جان سکے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق اوبر کے 80 فیصد جبکہ کریم کے 70 فیصد صارف خواتین ہیں۔

اس سے قبل جب خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دیے جانے کی خبر سامنے آئی، تب ہی سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اکثر خواتین صارف جدید ٹیکسی سروسز اوبر اور کریم کی خدمات حاصل کرنے کے بجائے خود گاڑی چلانے کو ترجیح دیں گی۔ تاہم مذکورہ اداروں کے نئی حکومت عملی کے بعد امید کی جا سکتی ہے کہ یہ بہت سے نئے صارفین کو راغب کرنے میں کامیاب ہوں گے۔


Top