اُوبر ٹیکسی سروس اب پاکستان میں قدم رکھنے کی تیاریوں میں مصروف

Uber

آن لائن ٹیکسی ایپ اُوبر (Uber) رواں سال کے آخر تک پاکستان میں اپنی خدمات کا آغاز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اگر آپ اُوبر سے متعلق نہیں جانتے تو آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ ایک عالمی شہرت یافتہ موبائل ایپ ہے جو دنیا کے 58 سے زائد ممالک اور 300 سے زائد شہروں میں دستیاب ہے۔ اس ایپ کے ذریعے آپ گھر بیٹھے ٹیکسی منگواسکتے ہیں۔ اس کا طریقہ بہت ہی آسان ہے۔ آپ جب بھی کہیں سفر کا ارادہ کریں تو موبائل فون کے ذریعے اُوبر کو بتادیں اور یہ ایپ دسیتاب ٹیکسی ڈرائیور تک آپ کا پیغام پہنچا دے گی اور یوں ٹیکسی مقررہ وقت پر آپ کے گھر حاضر ہوجائے گی۔ اس ایپ پر ڈرائیور سے متعلق تمام معلومات درج ہوتی ہیں اور آپ اپنے سفر کے مطابق ٹیکسی ڈرائیور کو ریٹنگ بھی دے سکتے ہیں۔ کسی بھی ٹیکسی ڈرائیور کی شکایت پر اُوبر اپنی ایپ سے خارج کردیتا ہے۔

پچھلے دنوں اُوبر کو نیو یارک سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں شدید قانون مسائل کی وجہ سے پابندی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب وہ ایسے ممالک میں قدم رکھنے میں دلچسپی لینا شروع کردی ہے جہاں اسے قانونی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسی ضمن میں اب اُوبر پاکستان میں اپنی سروسز متعارف کروانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے لاہور میں موجود دفتر میں تین آسامیوں جنرل منیجر، آپریشنز و لاجسٹک منیجر اور مارکیٹنگ منیجر کے لیے اشتہارات دیئے ہیں۔ وسطی ایشیا و افریقہ میں اُوبر کے کمیونی کیشن منیجر شاہذین عبدالطیف نے بتایا کہ ہم لاہور میں اپنی ٹیم بنا رہے ہیں جس کے بعد پاکستان میں کاروائیوں کا باضابطہ آغاز کریں گے۔

اُوبر سے قبل ٹرپڈا اور کاریم بھی پاکستان میں اسی طرز کی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں البتہ مذکورہ دونوں ادارے ٹیکسی کو بطور نجی گاڑی استعمال کے لیے فراہم کرتے ہیں۔

پچھلے سال پاکستان میں تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کے بعد سے آن لائن کاروبار سے منسلک بہت سے اداروں نے اس خطے کا رخ کیا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق پاکستان کی 14 فیصد آبادی کو انٹرنیٹ پر رسائی حاصل ہے جبکہ 73 فیصد آبادی کو موبائل فون استعمال کرنے کی سہولت حاصل ہے۔ اور اُوبر جیسے ادارے اتنی بڑی تعداد کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔

یہ تو وقت بتائے گا کہ اُوبر پاکستان میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں لیکن یہ بہرحال ایک مثبت کاروباری سرگرمی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر اُوبر اپنی خدمات مناسب قیمت پر فراہم کرے تو ذاتی گاڑی رکھنے والے لوگ بھی اس سے مستفید ہونا چاہیں گے۔ کامیابی اور ناکامی کا بہت زیادہ انحصار اس بات پر ہے کہ اُوبر پاکستانی عوام کی خواہشات اور ضروریات کو کس حد تک سمجھ پاتی ہے۔

Top