کم عمری میں ڈرائیونگ؛ تعلیم یافتہ افراد کی جانب سے قانون شکنی کی افسوسناک مثال

video-underage-featured

ملکی مسائل اور شہریوں کو ہونے والی اکثر پریشانی کا تمام تر ملبہ حکومت،سرکاری محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کہیں ٹریفک بدنظمی کا شکار ہو یا کہیں گٹر کھلے ہوں ہم صرف تنقید برائے تنقید ہی کرتے ہیں۔کبھی یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں ہوتی کہ آئےروزپیش آنے والی مشکلات میں کہیں ہمارا حصہ تو نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں ہم خود کسی قانون کی خلاف ورزی کر کے ان پریشانیوں کو دعوت دے رہے ہیں؟ یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ معاشرہ ہمیشہ لوگوں سے مل کر بنتا ہے تو پھر یہ تسلیم کرلینے میں کیا تامل ہے کہ معاشرے کے مسائل کی وجہ بھی لوگوں کا بگاڑ ہے۔

قابل افسوس امر ہے کہ قانون شکنی کے مرتکب افراد میں زیادہ تر کا تعلق پڑھے لکھے اور باشعور گھرانے سے ہوتا ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال گزشتہ دنوں فیس بک پرنظر آئی۔ سماجی روابط کی ویب سائٹ پر موجود اس ویڈیو میں چوتھی کلاس کا طالب علم ڈائی ہاٹسو میرا چلا رہا ہے۔ گاڑی میں اس بچے کے ساتھ چھوٹی بہن اور والد محترم بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔معلوم ہوا کہ 10 سالہ بچہ اپنے والد کی رضامندی سے گاڑی چلا رہا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور شہری کی جانب سے اولاد کی قانون شکنی پر اس قدر لاپرواہی سمجھ سے بالاتر ہے۔

یہ ویڈیو بھی دیکھیں: کراچی میں عام شہری اور پولیس اہلکار گتھم گتھا ہوگئے

بچے قدرتی طور پر کم سمجھ اور جلد باز ہوتے ہیں ۔ یہ کوئی بھی اہم اور بڑا فیصلے کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ عمر کے ساتھ ان کا جذباتی پن بھی بڑھتا رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میٹرک اور کالج کے طالب علموں کو خاص کر موٹر سائیکل اور گاڑی چلانے سے روکا جاتا ہے۔ تاہم افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں ٹریفک قوانین کو کسی خاطر نہیں لایاجاتا اور اسی وجہ سے ٹریفک حادثات میں کمی نہیں آرہی۔ کم عمری کی ڈرائیونگ سے ہونے والے حادثات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اس کا ایک نمونہ کچھ عرصہ قبل لاہور میں نظر آیاکہ جہاں 16 سالہ لڑکے نے مبینہ طور پر اپنی گاڑی سے نجی ٹیلی ویژن چینل کے 27 سالہ ملازم کو کچل کر ہلاک کردیا تھا۔

یہ بات ہر شخص بخوبی جانتا ہے کہ پاکستان میں 18 سال سے کم عمر افراد موٹر سائیکل یا گاڑی چلانے کے اہل نہیں ہیں۔ لیکن جب والدین ہی قوانین کی خلاف ورزی کریں گے اور اپنے آنے والی نسلوں کو بھی قانون شکنی کی تربیت دیں گی تو ملک کا مستقبل کیسا ہوگا؟ یہ آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کی حیثیت سے ملکی قوانین پر عملدرآمد نہ صرف ہمارا دینی اور اخلاقی فرض ہے بلکہ ہمارے بہت سے مسائل کا حل بھی اسی میں ہے۔

Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

Top