کہاں سے آئی ہیں یہ گاڑیاں؟ داعش کے زیر استعمال ٹویوٹا گاڑیوں پر امریکا کا سوال

TOYOTS-ISIS-(7)

کہاں سے آئی ہیں یہ گاڑیاں؟ کون لایا ہے یہ گاڑیاں؟ کس نے دی ہیں یہ گاڑیاں؟ یہ اور اس جیسے بہت سے سوالات امریکا کی جانب سے جاپانی کار ساز ادارے ٹویوٹا سے پوچھے گئے ہیں۔ اور ان سوالوں کا پس منظر داعش (ISIS) کی ویڈیوز میں نظر آنے والے ٹویوٹا ہائی لکس اور لینڈ کروزر کے قافلے ہیں۔

ٹویوٹا اپنی مضبوط اور پُر حجم گاڑیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں پاکستان میں تو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیاسی رہنما ؤں کی بڑی تعداد ٹویوٹا ہائی لکس استعمال کرتی نظر آتی ہی ہے لیکن یہ بات صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں بلکہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی ٹویوٹا کی بھاری بھرکم گاڑیاں عسکری کمانڈروں کی حفاظت کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔

انسداد شدت پسندی منصوبے کے سربراہ اور سابق امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ مارک ویلس نے امریکی براڈکاسٹنگ کمپنی (ABC) کو بتایا کہ

بدقستی سے ٹویوٹا ہائی لکس اور لینڈ کروزر داعش کی ویڈیوز میں بہت بڑی تعداد میں دکھائی جاتی رہی ہیں۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ داعش ان گاڑیوں کو دہشت گردی کے واقعات میں استعمال کرتی ہے۔ آپ ان کی ہر ویڈیو میں ٹویوٹا کی نئی اور پرانی گاڑیوں کا قافلہ بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔”

اس بارے میں ٹویوٹا کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کے تمام ممالک کے قوانین کا احترام کرتا ہے اور امریکا میں موجود ٹویوٹا کی شاخ اس ضمن میں حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔ تاہم ٹویوٹا نے یہ بھی باور کروایا ہے کہ ان کے لیے ہر خریدار پر نظر رکھنا ممکن نہیں ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ داعش کے زیر استعمال گاڑیاں کسی دوسرے ملک سے خرید کر غیر قانونی طور پر شام میں لائی جاتی ہیں۔

ٹویوٹا کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ادارے کی جانب سے ایسے شخص یا گروہ کو گاڑیاں فروخت کرنا صریح ممنوع ہے جو اسے دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہوں۔ اسے ممکن بنانے کے لیے ایک خاص طریقہ کار اور معاہدہ بھی ترتیب دیا ہوا ہے تاکہ فراہم کردہ گاڑیوں کے غیر قانونی استعمال کو روکنے میں مدد مل سکے۔ تاہم گاڑیاں بنانے والے ادارے کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ گاڑیوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ غیر قانونی منتقلی پر نظر رکھ سکے یا اسے روک سکے۔

Top