استعمال شدہ ٹویوٹا پریمیو 2007ء کا مفصل جائزہ

2007-Toyota-Premio-(25)

استعمال شدہ گاڑیوں کے تفصیلی اور جامع جائزے کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے آج ہم جس گاڑی کا معائنہ کرنے جا رہے ہیں وہ اپنی خوبصورت کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ جی ہاں! آپ درست سمجھے، میں بات کر رہا ہوں ٹویوٹا پریمیو کی۔ ان تحاریر کا مقصدایسے افراد کو رہنمائی فراہم کرنا ہے جو پرانی گاڑیوں کے شوقین ہیں یا محدود بجٹ کی وجہ سے استعمال شدہ گاڑیاں لینا پسند کرتے ہیں۔ اس سے قبل ہم نے استعمال شدہ سوزوکی بلینو 2001 کا تفصیلی معائنہ کیا تھا اور اسے حسن اتفاق کہیے یا کچھ اور کہ جو گاڑی ہم نے استعمال کی وہ اسی ہفتے اچھی قیمت پر فروخت ہوگئی۔

پاک ویلز پر ہماری کوشش ہوتی ہے کہ گاڑیوں کے شوقین تمام ہی افراد کے ذوق کو پورا کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس بار ٹویوٹا پریمیو 2007 کا انتخاب کیا جسے گاڑی کا مالک اور میرا دوست وقاص کسی صورت “پرانی گاڑی” کہنے کے حق میں نہیں۔ جب میں اس سے ملا اور اسے معائنے کے طریقے اور تفصیل سے آگاہ کیا تو وہ ہنس کر کہنے لگا کہ خبردار جو اسے پرانی گاڑی کہا، یہ ہر گز پرانی نہیں ہوسکتی۔ بہرحال، میں نے اس سے چابی لی اور پھر آزمائش کے لیے روانہ ہوا لیکن اس سے پہلے کہ میں آپ کو باقی کی روداد سناؤں، کچھ پریمیو سے متعلق بتانا چاہوں گا۔

ٹویوٹا پریمیو کا مختصر تعارف

ٹویوٹا پریمیو کی تاریخ پہلی بار دسمبر 2001 میں ٹویوٹا کرینا (Carina) اور کرونا (Corona) کی جگہ پیش کی گئی تھی۔ مذکورہ دونوں گاڑیوں 1970 سے ٹویوٹا کی فہرست میں شامل تھیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جب ٹویوٹا نے کسی گاڑی کو متبادل کے طور پر پیش کیا تھا۔ ٹویوٹا نے آخری کرونا پیش کرتے ہوئے اس کا نام ٹویوٹا کرونا پریمیو تجویز کیا تھا۔ بعد ازاں یہ نام اتنا پسند کیا گیا کہ ٹویوٹا نے اسے مستقل اپنا لیا اور پھر اس کے ساتھ آلیان (Allion جسے All in one سے اخذ کیا گیا)بھی پیش کی جو قیمت میں نسبتاً کم اور نوجوان خریداروں کو مدنظر رکھ کر تیار کی جاتی رہی۔

ٹویوٹا پریمیو کی اولین جنریشن کو تین مختلف انجن کے ساتھ پیش کیا گیا:
1500 سی سی جس کی براک ہارس پاور 108 تھی
1800 سی سی جس کی براک ہارس پاور 130 تھی
2000 سی سی ڈائریکٹ انجکشن جس کی براک ہارس پاور 150 تھی
ان میں عام گاڑیوں کی طرح اگلے پہیوں پر چلنے والی شامل تھیں البتہ 1800 سی سی انجن کے ساتھ چاروں پہیوں پر چلنے والی گاڑی (4WD) بھی پیش کی گئی تھی۔

1st-gen-premio

پریمیو کی دوسری جنریشن 2007 میں پیش کی گئی۔ گو کہ اس کا بیرونی انداز پچھلی جنریشن جیسا ہی تھا لیکن حجم کے اعتبار سے یہ زیادہ بڑی تھی۔ اس جنریشن میں پیش کی گئیں گاڑیوں کی خاص بات اسمارٹ اینٹرنگ سسٹم (smart entering system) بھی تھا۔ ابتداء میں صرف 1500 سی سی اور 1800 سی سی انجن پیش کیے گئے تاہم اگلے سال یعنی 2008 میں 2000 سی سی انجن بھی شامل کرلیا گیا۔ نئے انجن کی قوت میں پہلے کے مقابلے میں معمولی بہتری بھی آئی۔
1500 سی سی انجن کی براک ہارس پاور 109 تھی
1800 سی سی کی براک ہارس پاور 135 تھی
2000 سی سی ڈائریکٹ انجکشن انجن کی براک ہارس پاور 155 تھی

2nd-gen-premio

استعمال سے قبل ٹویوٹا پریمیو پر ایک نظر

میں نے اپنے دوست اور صاحبِ کار سے پوچھا کہ وہ اپنی اس چہیتی گاڑی کو ایک لفظ میں کیسے بیان کرے گا؟ تو اس نے “آرامدے” کا خطاب عطا کیا۔ پہلے پہل تو مجھے یقین نہ آیا لیکن جب میں نے خود اس گاڑی کو تقریباً آدھے اسلام آباد کی سیر کروائی تو میں بھی اس پر متفق ہو ہی گیا۔ پھر میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ اس گاڑی کی سب سے بڑی خرابی، برائی یا کمی کیا ہے۔ وہ ، جو ایک سال سے ٹویوٹا پریمیو چلا رہا تھا، کچھ لمحوں کے لیے رکا اور کہا کہ کوئی بھی نہیں۔ میں نے زیادہ کریدنے کی کوشش کی تو اس نے مجھے یقین دلایا کہ وہ اس گاڑی سے بہت خوش ہے البتہ مارکیٹ میں اس کے مہنگے پرزے کبھی کبھار پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں۔

جب پہلی بار میں نے ٹویوٹا پریمیو کو دیکھا تو مجھے بہت معتبر انداز لگا جسے دیکھ کر کوئی تعریف کرے بغیر نہ رہ سکے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے آپ کو ڈیش بورڈ، درمیان میں موجود کنسول اور دروازوں کےہینڈلز لکڑی کے بنے ہوئے نظر آئیں گے۔ اس کی نشستیں برقی اور آرامدے ہیں۔ عام طور پر اس کا ڈیش بورڈ ہلکے کتھئی رنگ کا ہوتا ہے لیکن کچھ میں مختلف رنگ بھی دیکھا گیا ہے۔میں چونکے لمبے قد کا ہوں اس لیے سیٹ پر بیٹھ کر پہلی چیز یہی دیکھتا ہوں کہ آیا گاڑی میں بیٹھ کر میرا سر جھک تو نہیں جائے گا (شرم سے نہیں بلکہ گاڑی کی بناوٹ سے)۔ اگلی سیٹیں کافی چوڑی بنائی گئیں ہیں جو چوڑے شانوں والے لوگوں کے لیے بھی مناسب ہے۔ مختصر یہ کہ گاڑی چلاتے ہوئے آپ کو ایسا محسوس نہیں ہوگا کہ جھولا جھول رہے ہیں بلکہ نشستیں ایسی بنائی گئی ہں کہ جس میں لحیم شحیم آدمی بھی باآسانی سما جائے۔ گاڑی میں شامل تقریباً تمام ہی چیزیں بجلی سے چلتی ہیں اور ہوسکتا ہے یہ بات ہمارے کچھ قارئین کو پسند نہ آئے۔

ٹویوٹا پریمیو چلانے کا تجربہ

خوش قسمتی سے ایک اچھی گاڑی چلانے کے لیے مجھے دن بھی خوب ملا۔ انجن تو پہلے ہی سے تیار تھا اس لیے میں نے بریک پر ہلکا سا دباؤ ڈالتے ہوئے گاڑی کو ڈرائیو موڈ پر ڈال دیا۔ چونکہ یہ گاڑی CVT ہے اس لیے یہ کوئی مشکل نہ تھا۔ آٹو میٹک گاڑی کو چلانے کی وجہ سے میں توقع کر رہا تھا کہ گیئر تبدیل کی وجہ سے گاڑی اسٹارٹ ہوتے وقت ایک جھٹکہ لگے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ میں نے بریک سے اپنے پیر ہٹایا اور ایک بار پھر میری توقعات کے خلاف آٹومیٹک گاڑیوں کی طرح اس نے رینگنا بھی شروع نہ کیا۔ ایک لمحے کے لیے میں سوچنے لگا کہ آیا گاڑی کے گیئر میں کوئی مسئلہ تو نہیں اس لیے میں نے اسٹیئرنگ کو دائیں جانب گھما دیا۔ یہاں بتاتا چلوں کہ مجھے اسٹیئرنگ کچھ چھوٹا لگا جیسے یہ کسی گیمنگ کنسول کا اسٹیئرنگ ویل ہو۔ ہوسکتا ہے اس کی وجہ گاڑی کے اندر موجود دیگر چیزوں کا زیادہ حجم ہو لیکن بہرحال مجھے اسے تھامتے ہوئے کچھ عجیب سا لگا۔

میں نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھانا شروع کی اور میرے حکم کے مطابق وہ آہستہ آہستہ چلنے لگی۔ خاص بات یہ کہ مجھے نہ انجن کی آواز آئی، نہ کھچ کھچ کھچ کرنا پڑا اور نہ ہی کوئی اور دھماکہ ہوا۔ اپنی تسلی کے لیے میں نے گاڑی کی اسپیڈ مزید بڑھائی اور اچانک رفتار بڑھنے سے میں پیچھے کی طرف ہوگیا۔ یوں میرا سفر انتہائی تیز رفتار سے شروع ہوا لیکن فوراً ہی اس خیال سے گاڑی کی اسپیڈ کم کرلی کیوں کہ عام شاہراہوں پر برق رفتار خلاف قانون ہے اور باعث نقصان بھی ہوسکتی ہے۔ ایک سڑک سے دوسری سڑک گاڑی دوڑاتے ہوئے خالی سڑکوں پر رفتار میں اضافہ بھی کرتا رہا تاکہ اس گاڑی سے متعلق اچھی طرح جان سکوں۔ روڈ پر چلتے ہوئے پریمیو آپ کو کچھ بڑی گاڑی لگے گی اور اگر آپ اسے چلا رہے ہیں تو شاید آپ کو کھڈوں پر سے گزرتے ہوئے خوف آئے لیکن بے فکر رہیں کیوں میرے تجربے کے دوران ایک بار بھی یہ زمین سے نہیں ٹکرائی۔ البتہ پانچ افراد کا وزن اٹھانے کے بعد ممکن ہے آپ کو احتیاط کرنی ہی پڑے۔

2007-Toyota-Premio-(22)

ٹویوٹا پریمیو 2007 کی ایک خاص بات جس کا ذکر میں ضرور کرنا چاہوں گا وہ اس کی گاڑی کو چلانے کا تجربہ ہے جو ہر بار یکساں رہتا ہے۔ میں نے تقریباً آدھا دن اس گاڑی کے ساتھ گزارا اور اس دوران کئی ایک بار گاڑی بند کی پھر اسٹارٹ کی، دوبارہ بند کی اور پھر اسٹارٹ کی لیکن کبھی بھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ چاہے آپ سڑک پر ہوں یا پارکنگ میں، موسم خزاں کا ہو یا بہار کا، سڑک پر ٹریفک ہو یا سنسان ہو – ہر بار گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے آپ کو یکساں تجربہ ملے گا۔ سفر کے دوران کسی قسم کے جھٹکے نہیں لگیں گے البتہ کسی ٹوٹی پھوٹی سڑک پر سے گزرتے ہوئے آپ کو ضرور محسوس ہوگا کہ گاڑی کا پہیا کب کھڈے میں گیا اور کب باہر آیا۔ اس کے علاوہ خراب سڑکوں پر اس کا سسپنشن بھی آواز پیدا نہیں کرتا۔

گاڑی پر ڈرائیور کی گرفت بھی اچھی ہے البتہ ریسنگ کار کی طرف برق رفتار سے آتے ہوئے بریک لگا کر موڑ کاٹنے کی کوشش کریں گے تو پھر اس بات کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔ گاڑی چوڑائی میں تھوڑی زیادہ ہے اس لیے کونے میں لگاتے ہوئے ڈرائیور کو کچھ مشکل پیش آسکتی ہے لیکن بہرحال میں تو اسے منفی نقطہ خیال نہیں کرتا۔ مجموعی طور پر گاڑی بہت پرسکون اور ہلکی پھلکی لگتی ہے۔ گاڑی میں اے بی ایس اور آل-ویل ڈِسک بھی موجود ہے اس لیے تیز رفتاری کے باوجود اسے روکنا آسان ہے۔ اس کے علاوہ ایئر بیگز بھی آپ کی حفاظت کے لیے دستیاب ہیں۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ یہ گاڑی مکینکی سے زیادہ برقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیس سال کے نوجوان کے لیےاسے غیر دلچسپ قرار دینا بہت آسان ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ اس کا انداز خاصہ معتبر ہے اس لیے یہ پیشہ ور افراد خصوصاً کاروباری افراد کو ضرور پسند آئے گی۔ خود مجھے بھی یہ گاڑی غیر دلچسپ لگنے کے باوجود آرامدہ لگی۔ ٹویوٹا نے یہ دعویٰ بھی نہیں کیا کہ پریمیو ایک اسپورٹس کار ہے بلکہ اسے تو عام گھریلو استعمال کی سیڈان قرار دیا گیا ہے جس میں آپ ایک جگہ سے دوسری جگہ بہت تحمل کے ساتھ سفر کرسکیں۔

ایندھن کا استعمال:

طویل سفر کے دوران پریمیو باآسانی 18 کلومیٹر فی لیٹر فراہم کرسکتی ہے جبکہ اندرونی شہر یہ افادیت کم ہو کر تقریباً 12 کلومیٹر رہ جاتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ گاڑی ایک ایکو-موڈ کے ساتھ آتی ہے۔

گاڑی کی آزمائش کے دوران یہ ممکن نہیں تھا کہ میں اسے موٹروے پر لے کر جاتا لیکن خوش قسمتی سے مجھے کشمیر ہائی وے خالی مل گیا۔ گاڑی کا مالک میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھا تھا ۔ اس نے ہائی وے خالی دیکھ کر مجھے رفتار بڑھانے کا مشورہ دیا اور میں نے ایسا ہی کیا۔ اسپیڈو میٹر کی سوئی تیزی سے حرکت میں آئی اور گاڑی کی رفتار بڑھنے لگی۔ یہ گاڑی 1800 سی سی پریمیو تھی جس کی براک ہارس پاور کا میں اوپر ذکر کرچکا ہوں۔ انجن سیکوئل انجکشن تھا اس لیے اندرون شہر اور بیرون شہر گاڑی چلانے میں کچھ فرق تو محسوس ہوگا۔

پسندیدہ خصوصیات:
بہت آرامدے
کشادہ
یکساں تجربہ
ایندھن کے استعمال میں کفایت

خامیاں:
پرزے ملنا مشکل ہے
دیکھ بھال قدرے مہنگی ہے
کچھ لوگوں کے لیے غیر دلچسپ انداز
ضرورت سے زیادہ خاموش

ٹویوٹا پریمیو کے بارے میں میرے تاثرات
کارکردگی: 4/5
گرفت: 3.5/5
آرامدے: 4.5/5
عملیت: 4.5/5
چلانا: 4/5
مجموعی: 4.1/5

پاکستان میں دستیاب ٹویوٹا پریمیو کی قیمت

جو گاڑی مجھے چلانے کا موقع ملا وہ XEX تھی جسے پریمیو کا بہترین ورژن قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی دستیوں ورژنز جاپان سے پاکستان منگوائے جا چکے ہیں۔ قیمت کے حوالے سے میں نے پاک ویلز کے استعمال شدہ گاڑیوں کے لیے مختص زمرے کا جائزہ لیا اور وہاں 18 لاکھ سے 25 لاکھ کے درمیان مختلف ٹویوٹا پریمیو برائے فروخت دیکھیں۔ میرے ذاتی خیال میں 2007 ماڈل کے لیے 25 لاکھ بہت زیادہ ہے اور یہ گاڑی زیادہ سے زیادہ 22 لاکھ تک مل جانی چاہیے۔ ہاں، اگر آپ نئے ماڈل مثلاً 2010 یا اس کے بعد کا ماڈل لینا چاہیں تو وہ آپ کو 27 لاکھ سے 35 لاکھ میں دستیاب ہوگا جو میرے خیال سے مناسب قیمت ہے۔

2007-Toyota-Premio-(6)

ٹویوٹا پریمیو کی متبادل گاڑیاں

اگر ہم 18 سے 25 لاکھ روپے میں دستیاب استعمال شدہ ٹویوٹا پریمیو کے مزید متبادل دیکھیں تو سب سے زیادہ نمایاں ٹویوٹا کرولا اور ہونڈا سِوک نظر آئیں گی۔اسی قیمت میں آپ کوکرولا اور سِوک بالکل نئی دستیاب ہیں اور ان کی دیکھ بھال بھی آسان ہے لیکن مختصر سیڈان ہونے کی وجہ سے حجم میں پریمیو سےکم ہیں۔ اگر آپ جاپان سے منگوائی گئی گاڑیاں پسند کرتے ہیں ٹویوٹا مارک X بھی اسی قیمت میں دستیاب ہوجائے گے لیکن بات وہی ہے کہ یہ گاڑی بھی اسپورٹی سلون ہے اور پریمیو کے مقابلہ میں کم حجم والی ہے۔ علاوہ ازیں ہونڈا اکارڈ کا آپشن بھی موجود ہے جو حقیقت میں ٹویوٹا پریمیو کے ساتھ مقابلہ بھی کرچکی ہے۔ اور اگر آپ اکارڈ CL-7 اور CL-9 ورژنز دیکھیں تو پریمیو سے زیادہ بہتر محسوس ہوں گے۔ تھائی لینڈ کے نسخے کی بات کریں تو اکارڈ کو 2400 سی یسی انجن کے ساتھ برتری حاصل ہے۔ اگر آپ جرمن گاڑیاں کے شوقین ہیں تو مرسڈیز 2006 سی –کلاس اور بی ایم ڈبلیو 2006 316i بھی تھوڑی بہت کمی بیشی کے ساتھ مل سکتی ہے۔

مختصر یہ کہ اگر آپ خود کو ایک میچور جوان سمجھتے ہیں تو پھر اس گاڑی کو خریدنے سے متعلق ضرور سوچیں۔ یہ آپ کے خاندان کے لیے بطور متبادل گاڑی بھی استعمال ہوسکتی ہے جس میں آپ ہفتہ وار تفریح کی غرض سے جا سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس طویل مضمون سے آپ کے عل میں اضافہ ہوا ہوگا۔

Top