وہیکل رجسٹریشن اسمارٹ کارڈ کا اجراء 15 اکتوبر کو متوقع


ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول (ET&NC) کے مطابق وہیکل رجسٹریشن اسمارٹ کارڈ کے اجراء کا پورا انحصار وزیر ایکسائز کے فیصلے پر ہے۔ وہیکل رجسٹریشن اسمارٹ کارڈ، جس کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے، ممکنہ طور پر 15 اکتوبر 2018ء کو جاری ہوگا۔

اسمارٹ کارڈ کے اجراء کے حوالے سے خبریں پچھلے سال سے گردش میں ہیں، جب اسے نومبر 2017ء میں جاری ہونا تھا۔ طویل انتظار کے بعد اعلان کیا گیا کہ یہ مارچ 2018ء میں جاری ہوگا، لیکن ایک مرتبہ پھر تاخیر کا شکار ہوا۔ ڈائریکٹر جنرل ET&NC کے مطابق یہ عمل بولی لگانے والے فریقین کی چند قانونی پیرویوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ARC کا منصوبہ مکمل ہے اور نگران حکومت سے اسمارٹ کارڈ کے اجراء کے حوالے سے درخواست کی گئی تھی لیکن انکار کردیا گیا۔ اسمارٹ کارڈ کی منظوری ابتدائی طور پر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے مارچ 2015ء میں دی تھی۔ منصوبہ تب سے زیر تکمیل ہے۔ نئی سروس کے اجراء کے حوالے سے تمام کام مکمل کیا جاچکا ہے، ایکسائز ڈپارٹمنٹ کو امید ہے کہ 15 اکتوبر 2018ء کو اسمارٹ کارڈ جاری کردیا جائے گا۔

پاکستان میں رجسٹریشن بُکس کی طلب:

ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ہر سال تقریباً 20 لاکھ رجسٹریشن بکس جاری کی جاتی ہیں جس میں نئی رجسٹر ہونے والے گاڑیوں کی 16 لاکھ بکس میں شامل ہیں۔ بولی لگانے والے فریقین ملک کی موجودہ طلب کو پورا کرنے کے لیے ہر سال 20 لاکھ کارڈز پرنٹ کرنے کے لیے پیش ہوئے۔ فریقین سے پوچھا گیا کہ وہ پائیدار کارڈوں کی فراہمی کی صلاحیت کو یقینی بنائیں کہ جو کم از کم 5 سال کے لیے اہم ڈیٹا کو محفوظ رکھ سکیں۔  

اسمارٹ کارڈ کی اہم خصوصیات:

اسمارٹ کارڈ کے اجراء کے پیچھے اصل ہدف پنجاب میں وہیکل رجسٹریشن کے عمل کو ڈجیٹائز کرنا ہے۔ اسمارٹ کارڈ وہیکل رجسٹریشن بک کے مقابلے میں متعدد خصوصیات پیش کرتا ہے:

اسمارٹ کارڈ اپنے چھوٹے سائز کی وجہ سے رجسٹریشن بک کے مقابلے میں اٹھانا آسان ہوگا۔

اسمارٹ کارڈ گاڑی کے مالک اور گاڑی کی باڈی کے بارے میں معلومات کا حامل ہوگا۔

رجسٹریشن بک کے مقابلے میں یہ کچھ عرصہ بعد خراب ہونے کا مسئلہ رکھتا ہے، اسمارٹ کارڈ ہر 5 سال بعد تاریخ اختتام پر تبدیل کیا جائے گا۔

اسمارٹ کارڈ گاڑی کی نئے مالک کو منتقلی کے بعد ختم ہو جائے گا اور پھر ایک نئے کارڈ کے اجراء کی ضرورت ہوگی۔

اسمارٹ کارڈ کی لاگت تقریباً 500 روپے ہوگی۔

اسمارٹ کارڈ ایک خودکار کارڈ ہے جو نیئر فیلڈ کمیونی کیشن (NFC) چپ ٹیکنالوجی رکھتا ہے۔

NFC چپ کارڈ کی تفصیلات اور ٹوکن ٹیکس کے اختتام کے حوالے سے معلومات کی تصدیق میں مدد دے گی۔

اسمارٹ کارڈ اینٹی-فورجری سکیورٹی فیچر رکھتا ہے جو مالک کی معلومات کو محفوظ بناتا ہے۔

اسمارٹ کارڈ میں کون سی معلومات ہوں گی؟

اسمارٹ کارڈ گاڑی اور اس کے مالک کی مندرجہ ذیل بنیادی معلومات کا حامل ہوگا:

گاڑی کے مالک کا نام

CNIC/پاسپورٹ تفصیلات

گاڑی کا چیسس نمبر

انجن نمبر

رجسٹریشن نمبر

رجسٹریشن کی تاریخ

گزشتہ رجسٹریشن (اگر ہو تو)

ٹوکن ٹیکس کی تاریخ اختتام

سلینڈرز کی تعداد

گاڑی کی باڈی کی قسم

گاڑی کا رنگ

بنانے والے کا نام

گاڑی کی کلاس

ٹائروں کا سائز

مینوفیکچرنگ کا سال

نشستوں کی گنجائش

ہارس پاور/CC

تشخیص شدہ سالانہ ٹیکس

کسی بھی گاڑی کا مالک ایکسائز آفس میں 500 روپے کارڈ فیس ادا کرکے اسمارٹ کارڈ حاصل کر سکتا ہے۔ اسمارٹ کارڈز کی ڈلیوری تصدیقی عمل کے بعد کی جائے گی۔ اسمارٹ کارڈ کا اجراء شہریوں کو بہت سہولت دے گا۔ یہ اتھارٹیز کو بھی گاڑی میں کسی تبدیلی پر نظر رکھنے کا موقع دے گا۔

نیچے تبصروں میں اپنی رائے پیش کیجیے۔


Ahmad Shehryar

An Electrical Engineer by profession who loves to write content related to the automotive industry and a photographer by passion!

Top