ووکس ویگن بھی برقی گاڑیوں کی دوڑ میں شامل؛ رواں سال پہلی گاڑی پیش کرے گا

volkswagen-budd-e-concept-(1)

بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے شعبے میں ٹیسلا کو بے تاج بادشاہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ امریکی ادارے ٹیسلا موٹرز کا انتہائی منفرد نظریہ اور ناقابل یقین نقطہ نظر ہے کہ جسے وہ بڑی حد تک قابل عمل ثابت بھی کرچکے ہیں۔ انتہائی مختصر عرصے میں ٹیسلا کے سربراہ ایلون مُسک کئی بڑے کارخانوں کے قیام کا اعلان کرچکے ہیں جس سے ان برقی گاڑیوں کی مقبولیت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے اب دیگر ادارے بھی اس میدان میں قدم رکھنے کی تیاری کر رہے ہیں جس سے اشارے ملتے ہیں اب ٹیسلا کی بادشاہت خطرے میں ہے۔

چین کے بہت سے ادارے خود کو برقی گاڑیوں کی ٹکنالوجی تیار کرنے کے لیے وقف کرچکے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ چین میں درپیش فضائی آلودگی کا مسئلہ ہے جس کا فوری حل برقی گاڑیوں کی صورت میں نکالا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کے شعبے کے جانے مانے ادارے بھی اس میدان میں قدم رکھ چکے ہیں یا پھر تیاری کر رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک کوریائی کار ساز ادارہ ہیونڈائی (Hyundai) بھی ہے جو اپنی آئیونک (Ioniq) ہائبرڈ کو مکمل طور پر بجلی سے چلنے کے قابل بنانے کے لیے انتھک محنت کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ مرسڈیز-بینز (Mercedes) کا نام بھی یہاں قابل ذکر ہے کہ جو اپنی پرتعیش گاڑیوں کی فہرست میں برقی گاڑیاں شامل کرنے کا عندیہ دے چکا ہے۔

اور اب اس ضمن میں جرمنی کے سب سے بڑے کار ساز ادارے ووکس ویگن نے بھی اہم اعلان کیا ہے۔ ووکس ویگن نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی برقی گاڑی تیار کر کے صارفین کی خدمت میں پیش کرے گا۔ اگر پچھلے سال منظر عام پر آنے والے ڈیزل گیٹ اسکینڈل کو مدنظر رکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ووکس ویگن نے دیر سے ہی سہی تاہم درست فیصلہ کیا ہے۔ ووکس ویگن نے رواں سال اکتوبر میں ہونے والے پیرس موٹر شو میں اپنی پہلی برقی گاڑی (Electric Vehicle – EV) پیش کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہیونڈائی آئیونِک 2017: ٹویوٹا پریوس کی اجارہ داری کو کھلا چیلنج!

volkswagen-budd-e-concept-(2)

ووکس ویگن (Volkswagen) کے سربراہ ہرٹ بریٹ نے ایک جرمن اخبار سے بات کرتے ہوئے انتہائی منفرد اور حیرت انگیز دعوی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووکس ویگن کی پیش کردہ گاڑی ایک بار مکمل چارجنگ کے بعد 400 سے 600 کلومیٹر تک سفر کرسکتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جرمن ادارے کے سربراہ نے اس حوالے سے غیر معمولی جذبات رکھتے ہوں اور حقیقت میں ووکس ویگن کی برقی گاڑی ایک بار چارجنگ کے بعد اتنا زیادہ سفر نہ کرسکے تاہم اگر ہرٹ بریٹ کے بتائے گئے اعداد و شمار درست ثابت ہوئے تو پھر ووکس ویگن کو آگے بڑھنے سے کوئی کوئی نہیں روک سکے گا۔

ماہرین کے مطابق ووکس ویگن کی پہلی برقی گاڑی VW Polo کی طرز پر بنائی جائے گی۔ رواں سال پیرس موٹر شو میں رونمائی کے بعد اسے سال 2018 کے آخر میں فروخت کے لیے پیش کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ ووکس ویگن کی برقی ٹیکنالوجی ٹیسلا کی سیڈان گاڑیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کس حد تک مفید ثابت ہوتی ہے۔

Top