نئی آٹو پالیسی کے ثمرات: ووکس ویگن کی پاکستان آمد کے امکانات مزید روشن

Volkswagen Plant

انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای بی ڈی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر طارق اعجاز چوہدری نے کہا ہے کہ ووکس ویگن کی جانب سے بہت جلد پاکستان میں گاڑیاں متعارف کروائی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مثبت اور ٹھوس اقدامات کے لیے مناسب وقت درکار ہوتا ہے اور ووکس ویگن پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے کافی سنجیدہ نظر آتا ہے۔ انہوں نے گاڑیوں کے شعبے میں نئے اداروں کی ممکنہ آمد سے متعلق مزید کہا کہ ہم بہت جلد ان امکانات کو حقیقت کا روپ دھارتا دیکھ سکیں گے۔

یاد رہے کہ ووکس ویگن (Volkswagen) یورپ کا سب سے بڑا کار ساز ادارہ ہے جس کی فہرست میں بوگاٹی سے لامبورگینی اور سکوڈا سے سیات تک بے شمار گاڑیوں کے برانڈز شامل ہیں۔ صرف گاڑیاں یہی نہیں بلکہ اطالوی موٹر سائیکل ساز ادارہ دکوتی بھی ووکس ویگن کا ماتحت ہے۔ علاوہ ازیں آوڈی (Audi) بھی ان اداروں میں شامل ہے کہ جو ووکس ویگن کے تحت کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ووکس ویگن کی 4 گاڑیاں جو پاکستان میں دستیاب ہونی چاہئیں!

طارق اعجاز چوہدری نے بتایا کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے علیحدہ ہوجانے سے یورپ سمیت دنیا بھر کی اقتصادی صورتحال میں تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ اس وجہ سے بڑے معاشی اداروں بشمول ووکس ویگن کو بھی اپنی کاروباری حکمت عملی میں تبدیلیاں درکار ہیں۔ لہٰذا دو طرفہ معاملات طے ہونے میں تھوڑا وقت ضرور لگے گا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر کیے جانے فیصلوں کے باعث سرمایہ کار دیگر ممالک کا رخ کرتے ہیں اور پاکستان میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے آوڈی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آوڈی بھی پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کرچکا ہے جبکہ ووکس ویگن کی جانب سے بھی مقامی اداروں کے ساتھ مل کر نئی گاڑیوں کی پیشکش سے متعلق غور و خوص جاری ہے۔ یاد رہے کہ آوڈی پہلے ہی پاکستان میں اپنی گاڑیاں فروخت کر رہا ہے جبکہ حال ہی میں انہوں نے سندھ حکومت سے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت پاکستان میں گاڑیوں کی تیاری اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: آوڈی پاکستان میں گاڑیوں کی تیاری پر غور کرے گا

گو کہ ای بی ڈی کے سربراہ نے نئے کار ساز اداروں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کا تمام تر سہرا نئی آٹو پالیسی 2016-21 کے سر باندھا تاہم مختلف ذرائع بتاتے ہیں کہ جرمن اور فرانسیسی اداروں بشمول ووکس ویگن اور رینالٹ کی جانب سے جاپانی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی درآمد پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ خبروں کے مطابق یہی وہ معاملہ ہے کہ جو ان اداروں کو پاکستان میں قدم رکھنے سے روک رہا ہے۔

اگر حکومت وقت نئی آٹو پالیسی اور گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی درآمدات سے متعلق ان غیر ملکی اداروں کے تحفظات دور کرنے میں کامیاب ہوگئی تو ہم بہت جلد ووکس ویگن جیسے اداروں کو پاکستان میں کام کرتا دیکھ سکتے ہیں۔ اس ضمن میں ووکس ویگن سیات اور اسکوڈا کی گاڑیوں کو پاکستان میں متعارف کروا سکتا ہے کیوں کہ یہ دونوں گاڑیاں قیمت کے اعتبار سے کم جبکہ معیار میں یورپی اداروں کے شایان شان ہیں۔

SEAT Ibiza

SEAT Ibiza

Skoda Octavia

Skoda Octavia

  • Yeah kissi nay nahee khareedni bhai. Toyota aur Suzuki logon kay dillon ma ghar kar chukay hayn 🙂

  • Abdul Basit

    Waiting for VW Polo ….. Simply love this car

  • Iftikhar Rasool

    New vehicals should come to Pakistan. The industry will grow up and will benefit Pakistan in the long run. Healthy competition will generate more employment opportunities and people will definitely enjoy these cars drive.
    The main issue will be to keep the prices of cars low and customized design as per local conditions.
    We should give incentives to these investors for growth of auto mobile industry.

  • Irfan Khan

    Toyota, Honda are offering reliable cars but they occupy the market and also expensive. Suzuki is offering worst ever customer services in Pakistan. As I have been an bad experience while buying a Suzuki Bolan. VW is World leading car company. Offering cheap and reliable cars and they have dozens of models but Toyota, Honda just introduce 1 car every 2-3 years. Other companies Getting in Pakistan will create performance, price and customer service competition. That’s a positive sign. We all welcome VW in Pakistan. As being a biggest market I will ask Mercedes, BMW to start production in Pakistan too

Top