ووکس ویگن نے 24 لاکھ گاڑیاں واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

vw_recall

جرمن کار ساز ادارہ ووکس ویگن بلاشبہ اپنی تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ ڈیزل گیٹ اسکینڈل کے بعد ایک طرف ادارے کی ساکھ تہس نہس ہو رہی ہے تو دوسری طرف ایک بڑے مالی بحران کے خطرات بھی سر پر منڈلا رہے ہیں۔ ووکس ویگن کے حصص بھی کم ترین سطح پر آچکے ہیں جس سے کار ساز ادارے کا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے۔

پچھلے دنوں سوئٹزرلینڈ کی پیروی کرتے ہوئے جرمنی نے بھی ووکس ویگن کی ڈیزل گاڑیوں پر پابندی کا عندیہ تھا جس کے بعد مذکورہ ادارے نے آبائی وطن میں کسی قسم کی پاندی عائد کیے جانے سے قبل ہی اپنی 24 لاکھ گاڑیاں واپس منگوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ دھوکے باز سافٹویئر کی حامل گاڑیوں کے مالکان چاہیں تو وہ اپنی گاڑیاں ووکس ویگن کو واپس کرسکتے ہیں۔ البتہ جرمن حکام اس اقدام سے زیادہ مطمئن نظر نہیں آرہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے ووکس ویگن کو آئندہ ماہ تک کا وقت دیا ہے کہ وہ اس مسئلہ کا حل پیش کرے۔ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈیزل گیٹ اسکینڈل سے متاثرہ تمام گاڑیوں کے سافٹ ویئرز اگلے سال یعنی 2016 میں ٹھیک ہوجانے چاہیئں۔ یاد رہے کہ مذکورہ اسکینڈل سے ووکس ویگن کی متعدد برانڈز متاثر ہوچکی ہیں جن میں آڈی اور سیٹ بھی شامل ہیں۔

ووکس ویگن کی جانب سے سافٹ ویئر کی تبدیلی یا تدوین سے متعلق کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ اس کی بنیادی وجہ 1 کروڑ 10 لاکھ گاڑیوں کی نوعیت مختلف ہونا بھی ہے۔ بہت سی گاڑیاں محض ایک سافٹ ویئر اپڈیٹ سے درست کی جاسکتی ہیں لیکن گاڑیوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی کہ جس میں مکینکی تبدیلیاں بھی درکار ہوں گی۔ووکس ویگن کے بعد صرف 20 نومبر تک کا وقت ہے ورنہ پانی سر سے اوپر چلا جائے اور پھر ادارے کو اپنی عزت و وقار حاصل کرنے میں کئی سال یا شاید دہائیاں لگ جائیں۔ یہ بحالی بھی اس وقت ممکن ہے جب ووکس ویگن خود کو مکمل تباہی سے بچا سکے۔

Top