ڈیزل گیٹ اسکینڈل: ووکس ویگن کو جرمنی میں 8 لاکھ گاڑیوں سے خرابی دور کرنے کی اجازت

Volkswagen

ڈیزل گیٹ اسکینڈل نے گویا ووکس ویگن کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ ڈیزل گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھویں کی جانچ کو دھوکا دینے کے لیے ووکس ویگن کی جانب سے لگایا گیا سافٹویئر ادارے کی شدید بدنامی کا سبب بنا۔ متعدد ممالک میں ووکس ویگن کی گاڑیوں پر پابندی عائد کردی گئی جبکہ متعلقہ اداروں نے جرمن کار کمپنی کے خلاف تحقیقات کا بھی آغاز کردیا۔ امریکا میں ووکس ویگن پر ڈیزل گیٹ اسکینڈل کی پاداش میں 18 ارب ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا جاچکا ہے۔

ووکس ویگن (Volkswagen) کی جانب سے متاثرہ گاڑیوں میں خرابی دور کرنے کی پیشکش متعدد حکومتوں کی جانب سے ٹھکرائی جاچکی ہے تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق جرمنی کی حکومت نے ووکس ویگن کو متنازع سافٹویئر کی حامل 8 لاکھ گاڑیوں کو ٹھیک کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ جرمنی کی فیڈرل موٹر ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے ملک میں موجود 2000cc ٹی ڈی آئی انجن کی حامل گاڑیوں سے خرابی دور کرنے کے لیے ووکس ویگن کے تجویز کردہ طریقہ کار کو منظور کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 2016 میں گاڑیوں کی فروخت: ووکس ویگن نے ٹویوٹا کو پیچھے چھوڑ دیا

جرمنی میں ڈیزل گیٹ اسکینڈل سے متاثرہ گاڑیوں کی تعداد صرف 8 لاکھ ہے جبکہ عالمی سطح پر متنازع سافٹویئر کی حامل گاڑیوں کی مجموعی تعداد 85 لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ووکس ویگن کا کہنا ہے کہ سافٹویئر کی درستگی سے گاڑیوں کی کارکردگی اور ایندھن کی کفایت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ ووکس ویگن کی کوشش ہے کہ امریکا میں بھی اسی نوعیت کا معاہدہ ہو جائے تاکہ وہاں موجود 5 لاکھ 80 ہزار گاڑیوں کے سافٹویئر میں خرابی دور کی جاسکے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے ادارے کو اوپر سے نیچے تک ہلا کر رکھ دینے والے ڈیزل گیٹ اسکینڈل کے باوجود ووکس ویگن گاڑیوں کی فروخت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ جرمنی وہ پہلا ملک ہے کہ جہاں ووکس ویگن کو اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کی اجازت ملی ہے جبکہ ووکس ویگن دیگر ممالک میں اسی قسم کی اجازت حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

Top