ڈیزل گیٹ اسکینڈل: ووکس ویگن پر 18 ارب ڈالر جرمانے کا امکان

Volkswagen

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں گاڑیاں تیار کرنے والے اداروں کی غلطیاں پکڑی جائیں تو اچھمبے کی بات نہیں لگتی لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ دنیا کے مشہور ترین کار ساز ادارے بھی دھوکہ دہی میں ملوث پائے گئے ہیں تو یقین کرنا تھوڑا مشکل ہوجاتا ہے۔

ماضی میں گاڑیاں بنانے والے کئی اداروں پر مختلف اعتراضات اٹھائے گئے ہیں لیکن یہ ادارے دولت کے بلبوتے پر باآسانی معاملات رفع دفع کردیتے ہیں چاہے اس سے انسان یا محولیات ہی کو کیوں نہ خطرہ لاحق ہو۔ مثال کے طور پر ٹویوٹا کی جانب سے حفاظتی معیارات کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنے کا قضیہ لے لیں یا ٹیکاٹا ایئر بیگ والا معاملہ جس میں جنرل موٹرز نے اربوں خرچ کر کے مٹی ڈال دی اور ہونڈا پر کوئی حرف تک نہ آیا۔ لیکن اس کے باوجود ان سے ہونے والی بدنامی نہیں روکی جاسکی جس سے صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی اور ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہوئی جو کہ بہرحال اربوں ڈالر سے زیادہ قیمتی ہیں۔

اب ایک نیا اسکینڈل جرمن ادارے ووکس ویگن اور اس کے ذیلی امریکی ادارے آڈی کے حوالے سے منظر عام پر آیا ہے۔ مذکورہ اداروں کی ڈیزل گاڑیوں میں ایسے سافٹ ویئر کا انکشاف ہوا ہے جس سے مضر صحت گیس کے اخراج کی سطح جانچنے کے نظام کو دھوکا دیا جاسکے۔ یہ سافٹویئر ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) کی جانچ کے دوران گاڑیوں سے نکلنے والی مضر صحت گیس کی ریٹنگ کمتر دکھاتا ہے جو حقیقت میں 10 سے 40 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔ای پی اے کی ایک افسر سنتھیا جائلز نے ڈیزل گیٹ (Dieselgate) اسکینڈل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ

سادہ لفظوں میں معاملہ یہ ہے کہ ان گاڑیوں میں ایسا سافٹویئر نصب کیا گیا ہے جو جانچ کے دوران مضر صحت گیس خارج کرنے پر کنٹرول رکھتا ہے تاہم عام سفر کے دوران یہ سافٹویئر بند ہوجاتا ہے اور گاڑی سے مضر صحت گیس کا اخراج جاری رہتا ہے۔

ووکس ویگن اور آڈی کی تقریباً 4 لاکھ 82 ہزار گاڑیوں میں اس سافٹویئر کی تنصیب کا انکشاف ہوا ہے جو 2008ء سے فروخت کی جا رہی ہیں۔ اب اگر ووکس ویگن قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار پاتا ہے تو اسے ہر گاڑی کے عوض 37,500 ڈالر تک کا جرمانہ ادا کرنا پڑسکتا ہے۔

ووکس ویگن نے ایک کروڑ سے زائد گاڑیوں میں یہ سافٹویئر شامل کیے جانے کا اعتراف کیا گیا ہے اور وہ 7.2 ارب امریکی ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ اس حوالے سے ووکس ویگن کا مزید کہنا ہے کہ

صارفین کا اعتماد بحال کرنے اور دیگر ضروری اقدامات کے لیے ووکس ویگن مالیاتی سال کی تیسری سہہ ماہی میں حاصل ہونے والے 6.5 ارب یورو ادا کرنے پر رضامند ہے۔

ووکس ویگن پیساٹ 2016ء کے اجراء پر امریکی ووکس ویگن گروپ کے سربراہ ائیکل ہارن نے اس حوالے سے انتہائی مختصر بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کمپنی بد دیانت تھی؛ ہم شدید مصیبت میں گھر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنی بنیادی اخلاقیات کی خلاف ورزی کی ہے اور اب ہمیں سب کے ساتھ اسے ٹھیک کرنا ہوگا۔ اختتامی کلمات کے طور پر انہوں نے بتایا کہ ہم اس مسئلہ کو حل کرلیں گے اور اس کا جو بھی خمیازہ بھگتنا پڑا ہم کریں گے۔

اگر آپ کو یاد ہوتو کچھ ماہ قبل ووکس ویگن کے چیئر مین فرڈیننڈ پیچ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مارٹن ونٹرکورن کے درمیان شدید رسا کشی جاری تھی۔ ایک موقع پر سابق چیئرمین نے سی ای او پر تنقید کی تھی اور وہ ان کی جگہ متھیاس مولر کو عہدہ دینا چاہتے تھے، جو اُس وقت پورشے کے سی ای او تھے۔ جرمنی کی انتہائی طاقت ور شخصیات اور با اثر افراد میں سے ایک ہونے کے باوجود فرڈیننڈ کو مستعفی ہونا پڑا اور مارٹن ونٹرکارن اپنے عہدے پر برقرار رہے۔ تاہم تازہ ڈیزل گیٹ اسکینڈل کے بعد مارٹکن ونٹرکارن کو بھی رخصت ہونا پڑے گا اور اب ان کی جگہ پورشے کے سی ای او متھیاس مولر کو یہ عہدہ دیا جا رہا ہے۔

ووکس ویگن کی جانب سے گاڑیوں کے تمام ڈیلرز کو 2 لیٹر ڈیزل گاڑیاں فروخت نہ کرنے کا پیغام بھیجا جا چکا ہے جس کے بعد صارفین کی ووکس ویگن گاڑیوں میں دلچسپی میں شدید کمی آئی ہے۔ جرمن ادارے کو اسٹاک مارکیٹ میں بھی شدید مندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ووکس ویگن ڈیزل انجن ٹیکنالوجی کے حامل سر فہرست اداروں میں سے ایک ہے اور اتنے بڑے اداروں کے لیے ڈیزل گیٹ جیسا اسکینڈل بہت بھاری پڑسکتا ہے۔ جیسا کہ ابتداء میں عرض کیا کہ وہ اربوں ڈالر دے کر جرمانہ تو بھر سکتے ہیں لیکن صارفین کا اعتماد بحال کرنے اور انہیں ایک بار پھر ووکس ویگن کی گاڑیاں خریدنے کے لیے رضامند کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ یہ ووکس ویگن پر ایسا بدنما داغ ہے جسے مٹانے کے لیے انہیں طویل عرصہ اور سخت محنت درکار ہوگی۔

Baber K. Khan

An auto enthusiast trying to bring car media mainstream.

Top