شہہ زور کا مالک کون؟ ہیونڈائی یا دیوان

hyundai-shehzore-1

برانڈز کے درمیان جنگ کوئی نئی بات نہیں، دنیا بھر میں برانڈز ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں، صرف مصنوعات کے ذریعے ہی نہیں بلکہ PR اور اشتہارات کے ذریعے بھی: اس کی بہترین مثال ہے BMW اور مرسڈیز۔ یہی کچھ اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے جہاں ہیونڈائی-نشاط نے گزشتہ روز فیس بک کے ذریعے دیوان-ڈائیہان شہہ زور کو نقلی چینی پروڈکٹ قرار دیا ہے۔ گو کہ بعد ازاں ہیونڈائی-نشاط نے پوسٹ ڈیلیٹ کردی، بغیر کسی وضاحت کے کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ ممکن ہے کہ دونوں اداروں کے درمیان کوئی صلح ہوگئی ہو اور ہیونڈائی-نشاط نے پوسٹ کو ہٹا دیا، یا ہو سکتا ہے کہ یہ صرف تشہیر کا ایک طریقہ ہو یا ممکن ہے کہ ایسا کسی اور وجہ سے کیا گیا ہو، اس حوالے سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔

فیس بک پوسٹ میں ہیونڈائی-نشاط نے زور دیا تھا کہ

“‘ڈائیہان شہ زور’ کا ایک ٹیلی وژن کمرشل پیش کیا جا رہا ہے جو ہماری اصل ہیونڈائی H-100 کی چینی نقل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اب ‘ہیونڈائی شہ زور’ نہیں کہا جا رہا! یہ ایک جعلی پروڈکٹ ہے اور اس کا اصل ہیونڈائی H-100 سے کوئی تعلق نہیں جسے جلد لانچ کیا جائے گا۔”

اس پوسٹ میں جو رائے دی گئی ہے وہ حقیقت سے بہت دور ہے کیونکہ ‘شہہ زور’ برانڈ دیوان گروپ کا ہے اور ان کا حق ہے کہ وہ اس نام کے تحت مصنوعات بنائیں؛ شہہ زور کبھی بھی ہیونڈائی برانڈ نہیں تھا۔ دیوان اور ہیونڈائی نے شہہ زور تب بنایا تھا جب دونوں شراکت دار تھے، لیکن یہ ہمیشہ سے دیوان کا برانڈ تھا، ہیونڈائی کا نہیں۔ مزید برآں، ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کو ڈائیہان شہہ زور کے پاکستانی مارکیٹ میں داخلے کے بارے میں نہیں پتہ تھا، اس فیس بک پوسٹ کی وجہ سے وہ بھی جان گئے، یوں ادارے نے لاعلمی میں واقعتاً اپنے مقابل کی پروڈکٹ کی تشہیر کردی، ہو سکتا ہے پوسٹ ڈیلیٹ کیے جانے کی وجہ یہی ہو۔

ہم نے تحقیق کے بعد پایا کہ ڈائیہان ایک ویت نامی ادارہ ہے، جس کا صدر دفتر ہو چی منہہ سٹی، ویت نام میں واقع ہے، اس لیے یہ کسی بھی لحاظ سے چینی پروڈکٹ نہیں ہے۔ کچھ تحقیق کے مطابق معلوم ہوا ہے ڈائیہان ہیونڈائی کا انجن استعمال کر رہا ہے، اور یہ پہلو بھی ہیونڈائی-نشاط کے لیے غیر قانونی ہو سکتا ہے۔ البتہ یہ اتنا بھی غیر قانونی نہیں کیونکہ کمپنیاں اپنی گاڑیوں میں دوسرے اداروں کی مصنوعات جیسا کہ انجن وغیرہ استعمال کرتی رہتی ہیں، اس لیے ڈائیہان کی جانب سے ہیونڈائی کے انجن کا استعمال اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔ اور اگر ادارے کو مسئلہ ہے تو اسے پیرنٹ کمپنی سے رابطہ کرنا چاہیے یعنی ہیونڈائی موٹر کمپنی سے ہے اور ان سے کہنا چاہیے کہ وہ دیوان-ڈائیہان کو انجنوں کی فراہمی بند کریں۔ ایک صنعتی ماہر نے بتایا کہ دیوان-ڈائیہان کے پاس اس وقت 600 سے 800 ہیونڈائی انجن موجود ہیں۔

ہم نے  اس حوالے سے نقطہ نظر معلوم کرنے کے لیے دیوان-ڈائیہان سے بھی رابطہ کیا، لیکن انہوں نے اس معاملے پر اپنی رائے پیش کرنے سے انکار کردیا۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top