خام تیل کی قیمت میں کمی کے باوجود پاکستانی عوام ثمرات سے محروم کیوں؟

petrol

گزشتہ مالی سال کے دوران عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی۔ حتی کہ فروری 2016 میں خام تیل کی قیمت 13 سال کی کم ترین شرح 25 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ گو کہ بعد ازاں اس میں تھوڑا بہت اضافہ ہوا تاہم رواں مالی سال کے دوسرے ماہ اگست 2016 تک عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورتحال سے جہاں تیل برآمد کرنے والے ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک کو خاطر خواہ فوائد حاصل ہورہے ہیں۔تاہم پاکستانی عوام تک اس کے ثمرات نہیں پہنچ پا رہے جس کی ایک اہم وجہ پیٹرولیم مصنوعات پر حکومت کی جانب سے عائد بھاری ٹیکس بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی ٹیکس؛ حکومت سے رعایت کی امید فضول ہے!

اب سے چند روز قبل 30 اگست 2016 کو وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ستمبر 2016 کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو مسلسل پانچویں ماہ بھی قیمتیں تبدیل نہ کرنے کی “نوید” سنائی۔ اس سے قبل ملکی ذرائع ابلاغ پر گردش کرنے والی خبروں کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹر اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل سمیت ہائی آکٹین اور مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں کمی کی بھی تجویز دی گئی تھی۔ اوگرا کی سفارشات کی روشنی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں یہ ہونا تھیں جنہیں وفاقی کابینہ نے رد کردیا۔

پیٹرولیم مصنوعات فی لیٹر قیمت
(اگست 2016)
مجوزہ کمی
(ستمبر 2016)
مجوزہ قیمت
(ستمبر 2016)
پیٹرول 64.27 2.60 61.67
ہائی اسپیڈ ڈیزل 72.52 3.46 69.06
لائٹ ڈیزل 43.35 2.80 40.55
مٹی کا تیل 43.25 3.00 40.25
ہائی آکٹین 72.86 4.50 68.36

اوگرا کی جانب سے قیمتوں میں کمی تجویز کرنے کی وجہ اگست 2016 کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں گراوٹ بتائی گئی۔ تاہم وفاقی حکومت نے اوگرا کی تجاویز مسترد کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (FBR) کے اعلامیے سے معلوم ہوا کہ قیمتوں تبدیل نہ کرنے کی وجہ درحقیقت حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس میں اضافہ ہے۔ گزشتہ ماہ وفاقی وزیر خزانہ نے دعوی کیا تھا کہ موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مسلسل کمی آئی ہے جس کی وجہ حکومت کی جانب سے ٹیکس میں دی جانے والی رعایت ہے۔ تاہم اگلے ہی ماہ ستمبر 2016 کے لیے قیمت مقرر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ہی دعوی کی نفی کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکس میں اضافہ کردیا ہے۔ FBR کی رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر اضافے کی تفصیلات یہ ہیں:

پیٹرولیم مصنوعات جنرل سیلز ٹیکس
(اگست 2016)
ٹیکس میں اضافہ
(فیصد)
جنرل سیلز ٹیکس
(ستمبر 2016)
پیٹرول 17.00 3.00 20.00
ہائی اسپیڈ ڈیزل 28.00 7.50 35.50
لائٹ ڈیزل 8.50 3.50 12.00
مٹی کا تیل 5.00 0.00 5.00
ہائی آکٹین 17.00 4.50 21.50

یہاں گزشتہ ماہ پیش کی جانے والی بینک دولت پاکستان ‎ (SBP)کی رپورٹ قابل ذکر معلوم ہوتی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ عالمی منڈی کے برعکس پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں صرف 50 فیصد ہی کم کی گئی ہیں۔ گزشتہ مہینوں کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 70 فیصد تک کم ہوئی ہے جبکہ پاکستان میں کمی کی شرح صرف 35 فیصد تک رہی۔ مرکزی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل 2013 میں خام تیل کی قیمت 112 ڈالر فی بیرل تھی تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 102 روپے فی لیٹر مقرر تھی۔ تاہم تین سال بعد جب اپریل 2016 میں خام تیل کی قیمت 35 ڈالر ہوگئی تاہم پاکستان میں اس کی قیمت 65 روپے لیٹر تک ہی کم کی گئی۔ کچھ یہی صورتحال دیگر پیٹرولیم مصنوعات بشمول ڈیزل کے ساتھ بھی رہی۔

ایک اندازے کے مطابق حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں 40 ارب روپے ماہانہ حاصل ہوتے رہے ہیں۔ تازہ اضافے کے بعد ان محصولات میں مزید 10 ارب روپے شامل ہوجانے کا بھی امکان ہے۔ اگر عالمی منڈی کے اعتبار سے اوگرا کی تجویز کردہ قیمتیں متعین کی جاتیں تو ماہ ستمبر میں عوام کی جیب پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جاسکتا تھا تاہم حکومت نے اس کے برعکس فیصلہ کرتے ہوئے عوام سے اضافی پیسے وصول کر کے حکومتی خزانے بھرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

Top