زیادہ اونچائی پر آپ کی گاڑی پاور کیوں کھو دیتی ہے؟

high-altitude-driving

تعطیلات اور موسمی چھٹیوں کے دوران ہزاروں افراد مری، ایوبیہ اور نتھیا گلی جیسے پہاڑی مقامات کا دورہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے سیاح ان مقامات سے بھی زیادہ اوپر ناران، کاغان اور ہنزہ جیسے شمالی پاکستان کے علاقوں کی طرف جاتے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے نسبتاً زیادہ قریب مقام ’مری‘ سطح سمندر سے 7517 فٹ بلند ہے۔ جھیل سیف الملوک سطح سمندر سے 10577 فٹ بلند ہے جبکہ بلوچستان کی ہانا جھیل سطح سمندر سے تقریباً 6247 فٹ بلند ہے۔ یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان میں کئی ایسے سیاحتی مقامات ہیں جو سطح سمندر سے ہزاروں فٹ بلند ہیں۔

مسافروں کو درپیش مسائل میں سے سب سے بڑا مسئلہ اونچائی پر جاتے ہوئے گاڑی کا پاور کھونا ہوتا ہے۔ اگر دوسری قدرتی طاقتوں جیسا کہ بارش یا برف باری کو بھی شامل کریں تو آپ کو ہزاروں کی تعداد میں پھنسے ہوئے سیاح ملتے ہیں۔

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی گاڑٰی کے ساتھ کوئی سنگین مسئلہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بات کے پیچھے کوئی بہت بڑی منطق نہیں ہے کہ آپ کی گاڑی اونچائی پر جاتے ہوئے پاور کیوں کھو دیتی ہے۔ بہرحال بلاشبہ یہ ایک سائنسی بات ہے اور اسے سمجھنا بہت آسان ہے۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کی گاڑی کو آتشی چارج کے لیے ہوا اور ایندھن کا مرکب چاہیے ہوتا ہے۔ ہوا اور ایندھن کا مرکب چارج کہلاتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ کو سوپر چارجر اور ٹربو چارجر جیسی اصطلاحات سننے کو ملتی ہیں۔ پھر ایسی گاڑیاں جو پیٹرول پر چلتی ہیں ان میں چارج کو جلانے کے لیے سپارک پلگ استعمال ہوتے ہیں۔ اگنیشن آن کرنے پر چارج جلتا ہے اور پسٹن کو نیچے کی طرف دھکیلتا ہے۔ ہوا اور ایندھن کے مرکب کے لگاتار جلنے سے کرینک کے گھومنے کا ایک سرکل بنتا ہےاور اس طرح سے آپ کو انجن کے زریعے ٹارق ملتا ہے جسے پھر ٹرانسمیشن کو منتقل کیا جاتا ہے۔ ایسی گاڑیاں جو کہ ڈیزل پر چلتی ہیں ان میں ایندھن اور ہوا کے مرکب کو جلانے کے لیے سپارک پلگ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ڈیزل انجن کا دباؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ یہ مرکب اس دباؤ کی وجہ سے خودبخود جلنے لگتا ہے۔

اب جب آپ زیادہ بلندی پر ہوتے ہیں تو ہوا پتلی ہو جاتی ہے۔ پتلی ہوا کا مطلب ہے کہ اس میں آکسیجن کی مقدار کم ہوتی ہے۔ پہاڑیوں اور چٹانوں پر چلتے ہوئے بہت جلدی سانس پھولنے کی بھی یہ ایک وجہ ہے۔ آپ سطح سمندر سے جتنا اوپر جاتے ہیں ہوا اتنی ہی پتلی ہوتی جاتی ہے۔ اگر آپ کو اپنی پانچویں جماعت کا کیمسٹری کا سبق یاد ہو تو شاید آپ کو یہ بھی یاد آجائے کہ آگ جلانے کے لیے آکسیجن کا ہونا لازمی ہے۔ اگر آکسیجن نہیں ہے توآپ آگ نہیں جلا سکتے۔ اس حقیقت کی وجہ سے جب آپ کے آب و ہوا میں پتلی ہوا ہو گی تو اس سے کمزور چارج (ایندھن+ہوا کا مرکب) بنے گا۔ کمزور چارج کا مطلب ہے کہ آپ کی گاڑی مناسب پاور نہیں بنا رہی اور اس کی کارکردگی اس کے بہترین لیول پر نہیں ہے۔

اگر ہم سادہ الفاظ میں بات کریں تو آپ کی گاڑی کو سلنڈر میں موجود ایندھن جلانے کے لیے بنیادی طور پر آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ ہوا میں آکسیجن کم ہے اور یہ جلانے کے لیے ناکافی ہے اس وجہ سے یہ اتنی طاقت پیدا نہیں کر پاتی کہ پسٹن کو پوری قوت سے نیچے دھکیل سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سوزوکی مہران یا دوسری 660cc گاڑیاں اتنی اونچائی پر جاتے ہوئے ہلکان ہوجاتی ہیں۔ اگر آپ مسافروں کا وزن بھی شامل کریں تو بہتر ہے کہ آپ گاڑی واپس گھما لیں۔ ایسی صورتحال میں اکثر لوگ کلچ کا غلط استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی گاڑی کی کلچ پلیٹیں جلا بیٹھتے ہیں۔ چونکہ گاڑٰی کم پاور بنا رہی ہوتی ہے تو ڈرائیور گاڑی کو روکے بغیر چڑھانے کے لیے کلچ کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے آپ کی گاڑی کے کلچ کی زندگی بہت تیزی سے کم ہو جاتی ہے۔

پاور میں سنگین گھٹاؤ کا انحصار اس چیز پر ہوتا ہے کہ آپ سطح سمندر سے کتنی اونچائی پر ہیں۔ مثال کے طور پر ایک قدرتی زریعہ سے ہوا لینے والی گاڑی اگر 0 سطح سمندر پر 500BHP کی پاور دیتی ہے تو سطح سمندر سے 10000 فٹ کی بلندی پر یہ گاڑی تقریباً آدھی پاور دے پائے گی۔ پوری دنیا میں موجود بہت سے لوگوں کا اس تھمب رول پر اتفاق ہے کہ اگر گاڑی سطح سمندر سے 1000 فٹ اونچائی پر جائے گی تو اس کی پاور میں 4% کمی آئے گی۔  پس اگر 10000 فٹ والی مثال کو زہن میں رکھا جائے تو آپ کی گاڑی سطح سمندر سے 0 فٹ بلندی کی نسبت تقریباً 40% کم پاور پیدا کرے گی۔

تو اس اونچائی پر گاڑی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے آپ کو چاہیے کہ اس پر ٹربو یا سوپر چارجر لگوائیں جو بھی آپ کی گاڑی کے لیے بہترین ہو (اگرچہ اتنی اونچائی پر روائیتی سوپر چارجر اتنا کارآمد نہیں ہوتا جتنا کہ ٹربو چارجر)۔ بلندی پر ہوا کا یہ جھکاؤ بلا شبہ سب سے زیادہ قدرتی طریقہ سے ہوا لینے والی گاڑیوں کو متاثر کرتا ہے۔ ٹربو چارجر اور سوپر چارجر دونوں جبری طریقے سے گاڑی میں ہوا داخل کرنے کی قسمیں ہیں۔ آپ ان سے بنیادی طور پر انجن میں زیادہ ہوا داخل کر رہے ہوتے ہیں۔ گاڑی کا ECU پھر اس کے ساتھ ایندھن کی مقدار بھی ایڈجسٹ کر لیتا ہے۔ تو آپ کو سلنڈر میں جلانے کے لیے زیادہ بڑا چارج مل جاتا ہے۔ بڑے چارج کا مطلب ہے بڑا دھماکہ جس کے نتیجے میں زیادہ پاور ملتی ہے۔ تو جب بھی آپ 8000 فٹ یا 10000 فٹ کی بلندی پر ہوتے ہیں تو کسی بھی طرح کا جبری ہوا کا داخلہ یہ یقینی بناتا ہے کہ آپ کی گاڑی کے انجن میں جلانے کے لیے مناسب ہوا موجود ہو۔

Elvis has left the building! But you can follow Aref on Twitter at @ar3fali.

Top