ہونڈا BR-V: وِزل اور CR-Z کے بعد ہونڈا یہ موقع بھی ضائع کرے گا؟

8

عالمی سطح پر تبدیل ہوتے ہوئے رجحانات کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ سالوں میں کراس اوور گاڑیوں کی فروخت میں زبردست اضافہ ہوگا۔ گاڑیوں کی دو سب سے بڑی منڈیوں چین اور ریاست ہائے متحدہ امریکا میں بھی کراس اوور کی فروخت بڑھتی جا رہی ہے اور ان میں بھی زیادہ تعداد کراس اوور SUVs کی ہے۔ اب چونکہ کار ساز ادارے ہر مارکیٹ یا ملک کے لیے علیحدہ گاڑی تیار کرنے سے زیادہ بہتر ایک ہی ڈیزائن کو پوری دنیا کے لیے پیش کر رہے ہیں اس لیے کوئی بعید نہیں کہ بہت جلد یہ رجحان آسیان ممالک میں بھی پروان چڑھے گا جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔ گوکہ پاکستان کو زیادہ بڑی مارکیٹ نہیں سمجھا جاتا تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ہماری اقتصادی صورتحال پڑوسی ملک جیسی ہی ہے لیکن اس کے باوجود ہم ابھی تک کراس اوور گاڑیوں سے محروم ہیں جبکہ ماروتی سوزوکی پرتعیش کراس اوورز کے لیے علیحدہ شوروم بنا رہی ہے۔

بھارت میں شروع ہونے والے ماروتی سوزوکی کے شوروم میں گاڑیوں میں دلچسپی رکھنے والے خریداروں کی میزبانی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہاں تک کے شوروم میں کام کرنے والا عملہ بھی ہوٹل، ہوائی اڈوں اور اعلی کاروباری اداروں میں کام کرنے والے تجربکار افراد پر مشتمل ہے۔گاڑی کو دلچسپی رکھنے والے افراد کے سامنے پیش کرنے کے لیے بھی انتہائی معتبر ٹیم بنائی گئی ہے جو اپنی گفتگو سے خریدار کا دل موہ لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس وقت پاکستان میں دستیاب کراس اوور گاڑیوں میں سے زیادہ تر درآمد شدہ ہیں۔ ہونڈا وِزل اس وقت سب سے مشہور کراس اوور SUV ہے۔ اس کے بعد نسان جیوک، ٹویوٹا ہیرئیر، ٹویوٹا پریوس V، FAW سائریس S80 وغیرہ آتی ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی کار ساز ادارے کی جانب سے پیش نہیں کی گئی بلکہ لوگوں نے انفرادی طور پر انہیں جاپان و دیگر ممالک سے درآمد کیا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مقامی کار ساز ادارے مارکیٹ کی طلب اور رجحانات کو کس حد تک سمجھتے ہیں۔

غالباً وِزل کی بڑھتی ہوئی تعداد دیکھ کر ہونڈا ایٹلس بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ جاپانی کار ساز ادارے ہونڈا سے رابطہ کرنے پر ایٹلس ہونڈا کو HR-V پکڑا دی گئی اور اسے پاکستان میں متعارف کروانے کا کہ دیا گیا۔ اور پاکستان کی ایٹلس ہونڈا اتنی فرمانبردار ہے کہ اس نے چپ چاپ ہونڈا جاپان کا حکم مانتے ہوئے وِزل کو بھلا دیا بالکل ویسے ہی جیسے ماضی میں CR-Z کے ساتھ ہوا تھا۔

ہونڈا کے پاس چند ایسی گاڑیاں ہیں جو باآسانی پاکستانی مارکیٹ میں شہرت کی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔ موجودہ طلب کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ کئی ایک ہونڈا برانڈز اتنی اچھی ہیں کہ وہ کم وقت میں ہی صارفین کا دل جیت سکتی ہیں۔ اس کا اندازہ آپ پاکستان درآمد ہونے والی مشہور جاپانی گاڑیوں کی فہرست سے بھی لگا سکتے ہیں کہ جس میں ہونڈا گاڑیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

ہمیں آج یہ موقع ملا ہے کہ ہم ہونڈا کی ایک اور گاڑی آپ کے سامنے پیش کریں جو اسٹیشن ویگن اور SUV گاڑیوں کی خصوصیات کی حامل ہے۔ یہ ہے ہونڈا BR-V۔

پہلے اس کی قیمت پر بات کرلیں۔ یہ گاڑی انڈونیشیا میں 226.5 ملین انڈونیشن روپیہ جو تقریباً 1,699,311 پاکستانی روپے بنتے ہیں، سے 261.5 ملین انڈونیشن روپیہ یعنی 1,963,614 پاکستانی روپے میں دستیاب ہے۔ یاد رہے کہ 1800 سی سی آٹو ہونڈا سِوک کی قیمت 395 ملین انڈونیشن روپیہ ہے جو پاکستانی روپے میں 2,969,000 بنتا ہے۔ تاہم پاکستان میں دستیاب ‘سستی’ سِوک کے مقابلے میں انڈونیشیا کی سِوک زیادہ بہتر ہے۔

ہونڈا BR-V حجم کے اعتبار سے ٹویوٹا ایونزا اور FAW ساریئس سے میل کھاتی ہے۔ اس کا انجن 1500 سی سی ہے جو118 بریک ہارس پاور اور 145نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرتا ہے۔ یہ 6 اسپیڈ مینوئل اور آٹو ٹرانسمیشن کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ سب سے بہترین ہونڈا BR-V کی قیمت 261 ملین انڈونیشن روپیہ ہے جس میں پروجیکٹر ہیڈ لائٹس، 16 انچ کے خوبصورت پہیے، اگلی اور پچھلی جانب اسکِڈ پلیٹس، اسٹیئرنگ پر آڈیو کنٹرولز، ٹچ اسکرین کے ساتھ موسیقی سننے کا انتظام،گاڑی کے درجہ حرارت کو یکساں رکھنے کی خوصیت،پچھلے نشستوں کے لیے خصوصی ائیرکنڈیشن اور دیگر حفاظتی سہولیات شامل ہیں۔

باوجودیکہ کہ اس وقت ہونڈا فِٹ / جاز ہائبرڈ کو پیش کرنے سے بہتر مشورہ نہیں دیا جاسکتا کیوں کہ پاکستانی مارکیٹ کے اعتبار سے بالکل مناسب اور ہائبرڈ گاڑیوں پر دی گئی مراعات، بہترین مائلیج اور بیرون شہر سفر کے لیے بہترین سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن ہمارا مقصد ایٹلس ہونڈا کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ پیشہ وارانہ انداز سے ادارے کو چلائیں اور مستقبل میں گاڑیوں کے شعبے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

Top