عالمی سطح پر مسترد کیے گئے “روڈ اسٹڈز” کا پاکستان میں اسپیڈ بریکر کے طور پر استعمال


ایک ایسے عہد میں جب دنیا بھر کے ممالک روڈ اسٹڈز کا استعمال ترک کر چکے ہیں، پاکستان اب بھی ہر شہر کی سڑکوں انہیں بے دریغ استعمال کر رہا ہے۔ 1934ء میں ایک انگریز مؤجد اور کاروباری شخصیت پرسی شا نے روڈ اسڈز ایجاد کیے تھے جو عام طور پر کیٹس آئیز (Cat’s Eyes) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے روڈ اسٹڈز بنانے کے لیے 1935ء میں ایک ادارہ قائم کیا تھا۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ بلّی کی آنکھوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ جب روشنی بلّی کی آنکھوں میں داخل ہوتی ہے تو یہ جس طرف سے روشنی آتی ہے اسی جانب اسے منعکس کرتی ہے اور روڈ اسٹڈز بھی کچھ اسی طرح کام کرتے ہیں۔ رات کے وقت جب گاڑی کی ہیڈلائٹس سے نکلنے والی روشنی ان کیٹس آئیز سے لکھاتی ہے تو ڈرائیور کو حالات سمجھنے اور روڈ پر اپنی سمت برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ جن سڑکوں پر روشنی کا انتظام نہیں ہوتا، وہاں یہ ڈرائیور کو شاہراہ پر راستہ یا موڑ کا اندازہ لگانے میں مدد دیتی ہیں۔

سڑک پر اندھیرا ہو تو کیٹس آئیز ڈرائیور کو دیکھنے میں بہت مدد دیتی ہیں۔ یہ ڈرائیور کو بتاتی ہیں کہ سڑک کہاں ختم ہو رہی ہے اور کسی مخصوص لین میں ڈرائیونگ کی حدود کیا ہیں۔ شاہراہوں پر کہ جہاں سمت مسلسل بدلتی رہتی ہے، روڈ اسٹڈز ڈرائیور کے لیے گاڑی کو کسی لین میں رکھنا آسان بناتے ہیں۔ اس خوبی کو بہت بڑے پیمانے پر تسلیم کیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں روڈ اسٹڈز سڑکوں پر نشانات لگانے کے عمل کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ مزید  یہ کہ روڈ اسٹڈز کو اسکولوں، کالجوں اور ہسپتالوں کے سامنے افقی حالت میں لگایا جاتا ہے تاکہ ڈرائیوروں کو گاڑی کی رفتار کم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

دہائیوں تک دنیا بھر میں استعمال کے بعد بالآخر اس بحث نے جنم لیا کہ روڈ اسٹڈز “ایک حل ہیں یا خود ایک مسئلہ ہیں۔” دنیا بھر میں ہونے والے مختلف اجلاسوں کے بعد ایک باہمی فیصلہ کیا گیا کہ سڑکوں پر موجود افراد اور اُن کی گاڑیوں کی حفاظت کے لیے روڈز اسٹڈز سے سے جان چھڑائی جائے۔ روڈ اسڈز گاڑیوں اور انہیں چلانے والے افراد کے لیے کن خطرات کے حامل ہیں؟ پاکستان میں یہ اب بھی سڑکوں پر لگے ہوئے کیوں نظر آتے ہیں؟

پاکستان میں روڈ اسٹڈز کو سڑکوں پر لینز کی مارکنگ کے بجائے اسپیڈ بریکر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ روڈ اسٹڈز ڈرائیوروں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اُن اسکولوں یا ہسپتالوں کے سامنے رفتار آہستہ کرلیں جہاں یہ اُفقی طور پر نصب ہیں۔ روڈ اسٹڈز کیلوں کی مد سے سڑکوں پر نصب کیے جاتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کیٹس آئیز ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں لیکن جس کیل سے انہیں لگایا جاتا ہے وہ بدستور زمین سے سیدھی باہر نکلی ہوتی ہیں۔ جب ڈرائیور بھرپور رفتار کے ساتھ اُن اسٹڈز کے اوپر سے گزرتا ہے تو یہ ٹائروں کو سخت نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ انہیں پھاڑ بھی سکتے ہیں۔ ایسی کوئی بھی صورت حال کہ ڈرائیور گاڑی پر کنٹرول کھو بیٹھے سنگین حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ پاکستان میں بطور اسپیڈ بریکر استعمال ہونے والے روڈ اسٹڈز عام طور پر روڈ کی سطح سے 3 سے 4 انچ اوپر ہوتے ہیں۔ ربڑ سے بنے گول کنارے والے روڈ اسٹڈز کے بجائے یہاں نصب اسٹڈز دھات کے بنے ہوئے اور تیز دھار کناروں والے ہوتے ہیں اور گاڑیوں کے ٹائروں کے لیے کسی خطرے سے کم نہیں۔ گو کہ پاکستان میں روڈ اسٹڈز بے پروا ڈرائیوروں کو اپنی گاڑی کی رفتار کم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے لگائے جاتے ہیں لیکن یہ گاڑیوں اور اس کے مسافروں کو بہت نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔ انہیں کسی کو حادثے اور فرار کے واقعات روکنے کے لیے شہروں میں لگایا جاتا ہے۔ عوام نے اِن روڈ اسٹڈز کو ٹائروں کے لیے بارودی سرنگ کا نام دیا ہے۔ روڈ اسٹڈز گاڑیوں کے سسپنشن کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ٹائروں کی زندگی کم کرتے ہیں۔

پاکستان میں سڑکوں پر روڈ اسٹڈز کے استعمال کے خلاف سوشل میڈیا مہم کا عنوان ” #SayNoToCat’sEyes ” تھا۔ عوام ان خطرناک کیٹس آئیز کے استعمال پر پابندی لگانے اور مقاصد کے حصول کے لیے کسی دوسری تکنیک کو اختیار کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس وقت یہ روڈ اسٹڈز پاکستان میں شاہراہوں سمیت ہر سڑک پر نظر آتے ہیں۔ ان کیٹس آئیز کو نکالنا ایک وقت طلب کام ہے لیکن کم از کم حکومت کو ٹوٹی ہوئی کیٹس آئیز کو ٹھیک کرنے کے لیے تو کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔ جب ٹائر ٹوٹی ہوئی کیٹس آئیز پر آتا ہے کہ جس کی کیل ابھری ہوئی ہو تو یہ ٹائر کو پھاڑ بھی سکتی ہے، چاہے ٹائر کی حالت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔

پاکستان میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے مسائل سنجیدہ ہیں۔ ان سے نمٹنے کے لیے کیٹس آئیز کئی سالوں سے  کام کر رہی ہیں۔ جہاں تک طویل المیعاد ہدف کا تعلق ہے تو انہیں گول کناروں والی اُن کیٹس آئیز سے بدل دینا چاہیے جو ربڑ کی ہوتی ہیں اور ٹائروں کو کم سے کم نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس سے نہ صرف گاڑیوں کو رفتار کم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ سڑک پر سفر کرنے والے افراد کی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں گی۔ مسئلے کا متبادل حل ہمیشہ موجود ہوتا ہے اور ہمیں ملک بھر میں حادثات کی تعداد گھٹانے کے معاملے کو سنجیدہ لینا چاہیے۔ کیٹس آئیز کا سائز بھی کم کرکے محفوظ حد میں لانا چاہیے۔ اس وقت جس سائز کی کیٹس آئیز استعمال کی جا رہی ہیں وہ گاڑیوں کے لیے ہرگز ٹھیک نہیں۔ مزید حادثات سے بچنے کے لیے انہیں ترجیحی بنیادوں پر ہٹانا ضروری ہے۔ کیونکہ حکومت پہلے ہی ای-چالان سسٹم متعارف کروا کر عوام کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھا چکی ہے تاکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی حوصلہ شکنی ہو، لیکن کیٹس آئیز کی تنصیب میں کچھ بہتری اس سلسلے میں مزید مدد دے گی۔ آخر مقصد تو عوام کی حفاظت ہے ناکہ کسی کو نقصان پہنچانا۔ مزید یہ کہ عوام کو بھی قواعد و ضوابط کی پیروی کرنی چاہیے تاکہ حکام کو ایسے اقدامات نہ اٹھانے پڑیں جو اُن کے لیے نقصان دہ ہوں۔ پاکستان کی سڑکوں سے کیٹس آئیز کو مکمل طور پر ہٹا دینا اِس وقت تو حل نہیں ہے لیکن عوام میں شعور اجاگر کرنے سے ضرور کام بنے گا۔ ہمیں ایک مہذّب دنیا کا حصہ بننے کے لیے انفرادی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کہ جہاں ہر شخص ٹریفک قوانین کی پیروی کرے تاکہ سڑک پر موجود ہر فرد محفوظ ہو۔

اگر اس تحریر کے حوالے سے آپ کو رائے یا تجویز رکھتے ہیں تو نیچے تبصروں میں ضرور پیش کیجیے۔


Ahmad Shehryar

An Electrical Engineer by profession who loves to write content related to the automotive industry and a photographer by passion!

Top