غلط پارکنگ قانونی ہی نہیں اخلاقی طور پر بھی جرم ہے!

mistake car parking

اگر آپ کراچی میں رہتے ہیں یا کبھی شہر قائد آئے ہیں تو طارق روڈ کا نام آپ کے لیے بہت مانوس ہوگا۔ یہ کراچی کے بڑے اور مشہور کاروباری مراکز میں سے ایک ہے۔ یہاں کاروباری اداروں کے دفاتر، بڑے بڑے شاپنگ مالز، ریستوران وغیرہ موجود ہیں۔ میں روزانہ اپنے دفتر سے گھر واپسی کے دوران طارق روڈ ہی سے گزرتا ہوں۔کئی سالوں سے میرا یہی معمول ہے اور اس دوران شاید ہی کوئی ایک دن ایسا ہو کہ جب میں نے اس روڈ پر ٹریفک جام نہ دیکھا ہو۔ اس ٹریفک جام کی بڑی وجہ خریداری کے لیے آنے والوں کی جانب سے گاڑیوں کی غلط پارکنگ ہے۔ گاڑیاں چلانے والے حضرات بالعموم اور موٹر سائیکل صاحبان بالخصوص غلط جگہ پارکنگ کو جیسے قابل فخر کارنامہ سمجھتے ہیں۔

یہ مسائل صرف طارق روڈ یا کراچی تک محدود نہیں بلکہ ہر اس بڑے شہر میں عام ہیں کہ جہاں لوگ قانون کو کسی خاطر میں نہیں لاتے۔ سب سے زیادہ حیرت اس وقت ہوتی ہے کہ جب لوگ مہنگی SUV خرید لیتے ہیں لیکن انہیں یہ علم نہیں ہوتا کہ گاڑی کہاں اور کیسے پارک کی جانی چاہیے۔ کچھ لوگ محض پان لینے کے لیے گاڑی عین سڑک پر کھڑی کر کے بھول جاتے ہیں تو کہیں ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ جب پہلے سے کھڑی گاڑی کے پیچھے کوئی موٹر سائیکل یا گاڑی پارک کر کے چلتا بنے۔ اس کے علاوہ نو پارکنگ پر گاڑی یا موٹر سائیکل کھڑی کرنا، عوامی جگہوں پر کار پارک کر کے بھول جانا تو جیسے کوئی بات ہی نہیں ہے۔ جن غلطیوں کو یہاں عام طور پر دیکھا گیا ان میں سے چند یہ ہیں:

نو پارکنگ کے باوجود گاڑی کھڑی کرنا

یہ نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی طور پر بھی جرم ہے۔ عام طور پر لوگ گاڑی کھڑی کرتے ہوئے خیال ہی نہیں کرتے کہ آیا یہاں نو پارکنگ کا بورڈ لگا ہوا ہے یا نہیں۔ اور اگر بالفرض دیکھ بھی لیں تو ایسے ہی صرف نظر کرتے ہیں جیسے کہ یہ معمولی بات ہو۔ حالانکہ اس کی خلاف ورزی پر نہ صرف آپ کو بھاری جرمانہ ہوسکتا ہے بلکہ آپ کی سواری بھی قانونی طور پر ضبط کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا ہمارا قانونی اور اخلاقی فرض ہے کہ انتہائی مجبوری میں بھی ہے نو پارکنگ زونز پر گاڑی یا موٹر سائیکل ہر گز کھڑی نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں: چین میں خواتین ڈرائیورز کے لیے خصوصی پارکنگ سے نئی بحث چھڑ گئی

parking-crime-1

بیچ روڈ پر گاڑی یا موٹر سائیکل کھڑی کرنا

لکھتے ہوئے افسوس ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے درمیان ایسے لاپرواہ لوگ بھی ہیں جو اسٹارٹ گاڑی عین سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی کر کے پان مسالہ یا دو گولی پیناڈول لینے اتر جاتے ہیں۔ ان کی اس حرکت سے پیچھے آنے والی تمام گاڑیوں کو شدید کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر اوقات تو ٹریفک کی صورتحال بھی بگڑ جاتی ہے جس سے ٹریفک جام جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایسی صورتحال میں کوئی حادثہ رونما ہوجائے تو غیر اخلاقی حرکت کرنے والے صاحب تمام ملبہ دوسروں پر ڈال دیتے ہیں کہ کیا دیگر لوگوں کو میری گاڑی کھڑی نظر نہیں آرہی؟

parking-crime-2

پہلے سے کھڑی گاڑی کے آگے یا پیچھے گاڑی کھڑی کرنا

گو کہ اکثر اہم مراکز پر گاڑیوں کی ‘ڈبل پارکنگ’ نہ کرنے کے بڑے اور واضح نوٹس بورڈ موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود جلد بازی اور عجلت کے شکار اکثر افراد پہلے سے کھڑی کسی گاڑی کے پیچھے اپنی گاڑی لگا کر چلتے بنتے ہیں۔ ایک لمحے کو سوچیئے کہ اگر پہلے سے موجود گاڑی کے مالک آپ ہوں اور کسی ایمرجنسی کی صورت میں آپ کو وہاں سے روانہ ہونا پڑے تو کس قدر مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس کے علاوہ سڑکوں کی چوڑائی کم ہونے کی وجہ سے ڈبل پارکنگ ٹریفک کی روانی میں بھی مسئلہ پیدا کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کی طرح اب کرسیاں بھی از خود ‘پارک’ ہوں گی!

parking-crime-5

گھر، دکان ، مسجد، اسکول یا اسپتال کے دروازے کے سامنے گاڑی کھڑی کرنا

گو کہ سڑک کسی کی نجی جائیداد نہیں اور آپ کو فرد کہیں گاڑی پارک کرنے سے نہیں روک سکتا ہے لیکن اخلاقیات کا تقاضہ ہے کہ کہیں بھی گاڑی کھڑی کرتے ہوئے صرف اپنی ہی نہیں بلکہ دوسروں کی سہولت کا بھی خیال رکھا جائے۔ اگر آپ کسی کی رہائش گاہ کے دروازے پر گاڑی کھڑی کر کے چلے جائیں گے تو اس سے گھر میں رہنے والے والوں کو اپنی گاڑی باہر نکالنے میں مشکل پیش آسکتی ہے۔ اسی طرح مساجد اور دیگر درسگاہوں میں چونکہ لوگوں کی کثیر تعداد مخصوص اوقات میں آتی اور جاتی ہے اس لیے آپ کی گاڑی اس میں مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ علاوہ ازیں کچھ لوگ اسپتالوں کے مین گیٹ پر بھی گاڑی کھڑی کرنے سے اجتناب نہیں کرتے حالانکہ اسپتال میں ایمبولینس کی آمد و رفت کے لیے یہ راستہ کھلا رکھنا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔

مصروف شاہراہوں کے موڑ پر گاڑی کھڑی کرنا

اول تو ایسی سڑکوں پر گاڑی کھڑی کرنے ہی سے پرہیز کرنا چاہیے کہ جہاں ٹریفک کی روانی بہت زیادہ ہو۔ اور اگر بالفرض مجبوری میں گاڑی کھڑی کرنا ضروری ہی ہوتو اس کے لیے سڑک کے موڑ پر گاڑی کھڑی کرنا بہت زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر آپ گاڑی چلانے کا تجربہ رکھتے ہیں تو یہ بات بخوبی جانتے ہوں گے کہ سِگنل فری کوریڈور وغیرہ پر ٹریفک کی روانی بہت تیز ہوتی ہے ایسے میں اگر موڑ کاٹتے ہوئے اچانک کوئی گاڑی سامنے آجائے تو اس کا خمیازہ کسی ایک نہیں بلکہ پیچھے آنے والی دیگر گاڑیوں کو بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

parking-crime-6

Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

Top